
وہ سر پکڑے ساکت بیٹھا اپنے سامنے سجے کینوس کو وحشت سے دیکھ رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیا ہوتا جا رہا ہے؟
شہر کی آخری حد جہاں ختم ہوتی تھی وہاں سے ایک ویران پگڈنڈی اس قدیم حویلی کی طرف مڑتی تھی جہاں آذر رہتا تھا۔ وہ مصور جس نے نصف صدی تک کائنات کے ہر رنگ کو اپنے برش کی نوک پر لا کر معنوی پیراہن میں ڈھال دیا تھا۔ اس کی حویلی کی دیواریں جا بجا اس کے بنائے شاہکاروں سے سجی تھیں۔ ایسا آج تک نہیں ہوا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ کبھی نہ کبھی آنا ہی تھا ۔
اس کا برش رنگوں کو نیرنگئ فطرت میں متشکل کرنے کے لیے نروٹھا پن دکھا رہا تھا۔ وہ کائنات کا ہر رنگ اپنے کینوس پر قید کر چکا تھا
اس نے غروبِ آفتاب کی وہ تڑپ پینٹ کی تھی جو آسمان کو لہو لہان کر دیتی ہے۔ ایک قحط زدہ بچے کی آنکھوں میں بستی ہولناک بھوک کو شکل دی تھی۔ لاشوں پر منڈلاتے گدھوں کی ہوس بھی کینوس پر منتقل کی تھی۔ اپنے اس شوق جسے جنون کہیں تو زیادہ بہتر ہے، کی وجہ سے وہ دنیا اور اپنے رشتوں سے کٹ کر رہ گیا تھا۔ مصوری سے عشق نے اسے کسی اور کا ہونے نہ دیا۔ وہ دنیا کا ہردل عزیز مصور بن چکا تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک کی بڑی بڑی آرٹ گیلریوں میں اس کے شاہ پارے نمایاں مقام رکھتے تھے۔ موزے ڈی اور سے سے لے کر گگن ہائم میوزیم اور ہر میٹیج میوزیم سے لے کر الحمراآرٹ گیلری ،انڈس ویلی آف اسکول اینڈ آرٹ آرکیٹیکچر گیلری تک ہر جگہ اس کا برش مسکراتا تھا۔
جب جب اس کی تصویریں کی نمائش کا اعلان ہوتا، شہر کا شہر وہاں امڈ آتا مگر اب اس کی فنکارانہ صلاحیتیں ایسے مقام پر آ کھڑی ہوئی تھیں، جہاں ہر رنگ اسے پھیکا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ کائنات کو نچوڑ چکا ہے۔ خالی کینوس اسے بھیانک آنکھوں کی طرح اپنی روح میں جھانکتا محسوس ہونے لگا۔
وہ کھڑکی میں آ کھڑا ہوا۔ معًا اس کی نظریں ایک منظر پر گڑ کر رہ گئیں۔
سر پر پانی کا گھڑا رکھے پگڈنڈی پر چلتی چُھوئی مُوئی سی لڑکی کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک کر رک گیا ۔
اس کے پاؤں میں بندھی پازیب کے گھنگرو اسے قرنوں کی سیر کرانے لگے۔ وہ مشرق میں بارش کے پانی کی خوشبو میں بسی مٹی بن گئی پھر اندلس کے محل سرا میں اپنی ایڑی کی تھاپ سے زمین سے چنگاریاں پیدا کرنے لگی۔ تاتاری قبیلوں میں قدموں کی دھڑکن سے تاریخ رقم کرنے لگی اور مشرق وسطٰی میں اس کے لچکتے انگ روایت اور عظمت کے پاسدار بن گئے۔
پگ ڈنڈی پر لکیریں بہتی جا رہی تھیں۔ وہ حواس باختہ ہو کر اپنے آرٹ سٹوڈیو سے رنگوں اور کینوس کو لے کر آگیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے سارا فرش اور آسمان چمکدار، بلوریں شیشہ بن چکا تھا اور وہ ناچے جا رہی تھی۔ لباس ناز و انداز اور موسیقی کی تانیں تو بدلتی رہیں مگر رقص طربیہ ترانے لکھتا رہا۔ اداؤں کے دل نشیں زمزمے پھوٹتے رہے۔ وہ دیوانہ وار پگڈنڈی پر بھاگ رہا تھا۔ لڑکی نے بھاگتے قدموں کی دھمک سن کر جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو گھڑے میں رقص کرتے پانی کی چھن چھن دم توڑ گئی۔ چشمِ زدن میں زمین پر ٹوٹا ہوا گھڑا اپنے وجود سے نکلے پانی کو دیکھ رہا تھا جو فضا میں سورج کی کرنوں سے منعکس ہو کر ماحول کو نُقرئ روپ دے رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے رنگوں کو پھینک دیا اور لڑکی کے قریب آ کر اپنا سر پیٹنے لگا۔
تم نے پانی کا رقص فنا کر دیا۔عدم کو مٹا دیا۔ آہ ۔۔میرا کیا ہوگا؟ میں بھی اب ختم ہو جاؤں گا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔ لڑکی متوحش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے خود پر قابو پانے میں چند ثانئے لگے۔ وہ لپک کر اس کے قریب آیا ۔مجھے رقص کو قید کرنا ہے۔ تمہارے پیروں میں زنجیریں باندھ دوں گا ۔تم ناچنا میں تمہیں کینوس پر اتاروں گا اور بہت سارے پیسے دوں گا۔ اب اس کا لہجہ ملتجیانہ بن چکا تھا۔ لڑکی کے پیر گویا زمین نے جکڑ لیے۔ وہ رقص کرنے لگی۔ ایک بے بس رقاصہ کی طرح جس سے اس کا ہنر چھین لیا گیا ہو۔ قیدی رقص یہ بندش نہ سہار سکا اور زمین لرزنے لگی۔آذر نے خوشی سے نعرہ لگایا اور اس کا برش تیزی سے کینوس پر چلنے لگا۔عدم وجود پانے کو تھا۔ اچانک لڑکی نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ آذر کینوس سے اپنی نظریں نہ ہٹا سکا۔ کیسے مصور ہو۔ بیچارگیوں کو پینٹ کرتے ہو؟ جمود کو رنگوں میں ڈھالتے ہو؟ تُف ہے تم پر ۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے تیزی سے چل دی۔ خالی کینوس اس کا مذاق اڑانے لگا۔ اچانک ایک خیال نے اس کے جسم میں کرنٹ سا دوڑا دیا۔ وہ تیزی سے بھاگتا ہوا بڑے سے برگد کے درخت تلے بیٹھے کمہار کی طرف لپکا۔
وہ سر جھکائے بڑے انہماک سے چاک پر مٹی کو برتنوں کی شکل دے رہا تھا ۔اس کے قریب آنے پر وہ گردن اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔ دیکھو میں تمہیں مالامال کر دوں گا۔ تم آج مٹی کو ایک نئے رنگ سے گوندھو۔ آذر کا پورا وجود التجا بن گیا۔ کمہار کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔ تم آج اپنی انگلیوں سے گوشت کھرچو پھر اس میں سے نکلنے والے خون سے مٹی گوندھو۔ بمشکل اس نے بات پوری کی تھی کہ کمہار قہقہے لگانے لگا۔ چند لمحوں کے بعد وہ خاموش ہوا۔ جانتے ہو لہو میں گندھی مٹی کی کیا قیمت ہوگی؟ آذر ایک ٹک اسے گھورے گیا۔ میں تمہیں اپنی ساری تخلیقات دے دوں گا۔ تم بہت امیر ہو جاؤ گے کمہار نے اپنے ہاتھ روک دیے۔ میری قیمت یہ ہے کہ تم بے رنگ ہو کر گونگے بن جاؤ اور اپنا ہنر مجھے دے دو کیونکہ فن تب تک ادھورا ہے جب تک فنکار اپنی تخلیق میں خود نہ دفن ہو جائے۔ سفاکی سے کہا گیا بوڑھے کا جملہ اس کی سماعتیں پھاڑ گیا ۔نہیں۔۔۔ نہیں میں وقت کا مصور ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔ میرے رنگ بولتے رہیں گے۔ ہمیشہ ابدلآباد تک۔ کمہار نے نفرت سے اسے دیکھا اور اپنے کام میں مگن ہو گیا۔ آذر شکستہ قدموں سے گھر کی طرف چل دیا ۔آسمان پر کالے بادلوں کا راج تھا۔ تیز ہوا کا رقص اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔ اگر یہ بادل برس جائیں اور بجلی کڑکنے لگے تو بجلی کے دو دفعہ کڑکنے کے درمیانی وقفے کو پینٹ کر لوں؟ عدم کو قید کر لوں؟ جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا ؟
یہ شعلے میرے مرتے ہوۓ فن کو ہمیشگی عطا کر دیں گے۔اس خیال کے آتے ہی اس کے چہرے پر فیروزی، پیلے گلابی، سرخ، سبز، جامنی رنگ کھلنے لگے۔ وہ بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ اس نے ایک دیو ہیکل کینوس دیوار پر لگا دیا۔دو کڑک کے درمیانی فاصلے کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس نے اپنے سارے رنگوں کی ٹیوبیں کھول دیں۔ جوں جوں بجلی کڑکتی اس کے جوش اور خوشی میں اضافہ ہوتا جاتا۔ بجلی کی دلخراش کڑک میں اضافہ ہوتا رہا اور وہ کینوس بھرتا رہا۔ صبحِ دم جب آسمان پر قرار آیا تو حویلی جل کر راکھ ہو چکی تھی اور عدم کا عکس کینوس پر نہیں بلکہ آذر کی بے جان آنکھوں میں جاوداں ہو گیا تھا۔




