اُردو نثر

اپنی بات | ساجد علی امیر

اپنی بات

عصرِ حاضر برق رفتار اور فتنہ پرور ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی کے مختلف ٹولز نے مواد اور معلومات کی دستیابی کو سہل اور تیزتر بنا دیا ہے ‘ جس سے یہ تاثر فروغ پا رہا ہے کہ کتاب کا وجود آئندہ چند برسوں میں ختم ہو جائے گا۔ کتاب کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر بات کرتے ہوئے اکثر اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کتاب نے ہر دور میں درپیش مسائل اورچیلنجز کو قبول کیا اور ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوئی ہے ۔ ابتدا میں کتاب زبانی روایتوں کی صورت میں رہی اور طویل عرصے تک سینہ بہ سینہ چلتی رہی ہے۔ جب انسان نے ترقی کے مدارج طے کرنے شروع کیے تو کتاب چمڑے، درختوں کی چھال ، پتوں ،پتھر کی سلوں ، لکڑی اور مٹی وغیرہ کی تختیوں پر لکھی جانے لگی۔ کاغذ کی ایجاد نے کتاب کو نئی صورت عطا کی ۔ کتاب کی اشاعت اور فروغ میں پریس نے اہم کردار ادا کیا ۔ کتاب لکھنا اور اسے دنیاۓ علم وادب میں متعارف کرانا انتہائی آسان ہو گیاہے ۔ ہر صدی اپنی اقدار ، مسائل اور وسائل کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے ۔ اکیسویں صدی ڈیجیٹل کی صدی ہے ۔ اب دنیا کی ہرچیز ہندسوں پر منتقل ہو رہی ہےجس بنا پر کتاب کی بھی نئی صورت سامنے آئی۔ جس کی نوعیت سمجھے بغیر دعویٰ کیا جانے لگا کہ کتاب اب ختم ہو جائے گی۔ دعویٰ کرنے والوں کی اکثریت کتاب کے تشکیلی سفر سے نا واقف ہے ۔ کتاب کو ہر عہد کی طرح عصرِ حاضر میں ایک نئی صورت ملی ہے۔ اسے ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کی پذیرائی ایک کلک پر ممکن بنائی جا سکے ۔ موجودہ صدی میں کتاب ختم نہیں ہو رہی نہ اس کی اہمیت میں کوئی کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ اس کی افادیت و اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ ہر طرف سرقہ ، چربہ اور چور بازاری ہے۔ متن کی اصلیت یا ماخذ تک رسائی اور اس کی سند کتاب کے بغیر ممکن نہیں۔ مواد کی دستیابی کے وسائل جس قدر تیز ہوتے جا رہے ہیں مواد اپنی اصلیت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ مواد کے استناد اور تصدیق کی ضرورتوں اور تقاضوں نے کتاب کو اعتبار عطا کیا ہے۔ کتاب بینی ، قلم اور قرطاس سے میرا رشتہ چھ سالوں کو محیط ہے جو محض شوق تک محدود نہیں رہا بلکہ سنجیدہ علمی و فکری وابستگی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس دورانیے میں راقم نے بہت سے تحقیقی ، تجزیاتی اور تاثراتی مضامین لکھے جو ملکی اور بین الاقوامی رسائل جرائد میں چھپتے رہے۔ کتاب میں انھی مضامین سے انتخاب پیش کیا گیا ہے ۔ یہ میری پہلی کتاب ۔ امید ہے کہ آپ کو یہ کاوش پسند آئے گی۔ میری کامیابی میرے اساتذہ خصوصی طور ڈاکٹر علمدار حسین بخاری ، ڈاکٹر عابد خورشید اور ڈاکٹر شبیر احمد قادری صاحبان کی مرہون منت ہے۔ ڈاکٹر شبیر احمد قادری میرے لیے ادبی مرشد و مربی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ مضامین کی ترتیب و تصحیح کے دوران میں انھوں نے رہنمائی فرمائی جس کی بدولت کتاب کی صورت متعین ہوئی۔ انھوں کتاب کا دیباچہ لکھا جو میرے لیے اعزاز ہے۔ ان کے دیباچہ سے نہ صرف حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ میری ادبی صلاحیتوں کو جلا اور تقویت ملی ۔ قادری صاحب کی اس مہربانی اور شفقت پر اُن کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔ ڈاکٹر قمر صدیقی صاحب کا تعلق شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی سے ہے ۔ فلیپ ڈاکٹر وفا نقوی صاحب ( علی گڑھ بھارت سے متعلق شاعر، محقق اور نقاد) اور ڈاکٹر نسیم عباس احمر صاحب( ممتاز ادیب اور صدر شعبہ اردو، سرگودھا یونیورسٹی ) نے لکھے ہیں۔ ڈاکٹر علمدار حسین بخاری صاحب اردو کے معتبر ناقد ہیں (ایم فل اردو کرتے ہوئے اُن سے لکھنے کا فن سیکھا اور اُن کی ہدایات پر عمل بھی کیا) نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا ہے ۔ ان شفیق اساتذہ اور معتبر اربابِ فکر و دانش کا بہ دل و جاں شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ کتاب کی کمپوزنگ راقم نے خود کی ہے ۔ نظر ثانی کے دوران میں املا کے بہت سے مسائل سامنے آئے جن کی درستی کے لیے اِدارہ اِکائی فیصل آباد کے نگران جناب شہزاد بیگ نے بہت تعاون کیا ۔ ان کے ساتھ اپنے ایم۔ فل اردو اور پی ایچ۔ ڈی اردو کے کلاس فیلوز اور دیگر ادبی دوستوں کا بھی احسان مند ہوں کہ اُنھوں نے میری تحریروں کو پسند کیا ، حوصلہ افزائی کی اور تحسین سے نوازا۔ پی ایچ ۔ ڈی اردو کے سکالر اور شاعر شاہد عمران بھٹی نے بھی متن پر نظر ثانی اور املا کی درستی میں مدد کی ۔ اس کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ تخلیق کار انٹرنیشنل سے متعلق احباب بالخصوص جناب ارحم روحان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اُنھوں نے کتاب کے تمام مضامین کو آن لائن پیش کرنے کا موقع فراہم کیا اور اہل قلم نے ان کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کی ۔ بحضورِ حق تعالیٰ دعا گو ہوں کہ میری اس کاوش کو برکت نوازے اور مجھے بہتر لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x