پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

پدماسمبھاوا
میں وجریانہ نہیں ہوں،
پھر بھی
ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا
میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے
ہمارے درمیان
کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے،
ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں
میں ماں کی کوکھ سے،
اور تم…
کنول کے پھول پر
شبنم کی ایک بوند کی طرح ظاہر ہوئے۔
تم مراقبے کی گہرائیوں میں ڈوبے تھے،
اور میں
سوالوں کے بھنور میں بھٹکتا رہا،
مگر ہماری راہیں
اسی ایک ندی سے پھوٹیں
جو ادھیانہ کی مٹی میں
ازل سے رواں تھی
تبت کی ہواؤں میں
ابھی تک تمہاری سانسوں کی بازگشت ہے،
اور میں ادھیانہ میں
تمہارے سائے کی تلاش میں سرگرداں ہوں
نوٹ: پدماسمبھاوا، جس کا مطلب ہے "کنول سے جنم لینے والا”، روایت کے مطابق ادھیانہ (Uḍḍiyāna)، وادیٔ سوات (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ وہ آٹھویں صدی کی ایک مافوق الفطرت اور روحانی شخصیت تھے، جنہیں تبتی بدھ مت (Vajrayana Buddhism) کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تبتی عوام انہیں گرو رنپوچے، یعنی "عظیم استاد”، کے نام سے یاد کرتے ہیں۔




