21 سیکنڈز ago

    ابرہہ بڑھ رہا ہے | محمود ناصر ملک

    ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں…
    23 گھنٹے ago

    غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

    غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی…
    23 گھنٹے ago

    غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

    غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ…
    2 دن ago

    ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

    ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم  اپنا بستر لپیٹیں،  گھڑی…
    2 دن ago

    نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں | وسیم رضا ماتریدی

    نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں برصغیر کے فرنگی عہد میں قوم کے بارے میں…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں نفت کے تیر ہیں تیر انداز ہیں  دھواں ہی دھواں …

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس کو کہتے ہیں اے یادِ یار، جبرِِ زندگی ہم کو…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری کہاں سے نور کے دھارے ہوئے ہیں سب میں آبنائے…

    • ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم  اپنا بستر لپیٹیں،  گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں،  چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس جوڑیاں، ایک کرتا، کتابیں، آوازیں (آوازیں کہ جن سے مانوس…

    • نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں | وسیم رضا ماتریدی

      نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں | وسیم رضا ماتریدی

      نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں برصغیر کے فرنگی عہد میں قوم کے بارے میں دو سادہ کار بیانیے قوت کے ساتھ پھیلے۔ ایک یہ کہ قومیں نظریے کی بنیاد پر بنتی ہیں، دوسرا یہ کہ قومیں وطن یا زمین کی بنیاد پر تشکیل پاتی…

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور عید پر بھی بیوی کے ہاتھ  مہندی سے محروم رہتے…

    شعر و شاعری

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں…

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری…

    • ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم  اپنا بستر لپیٹیں،  گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں،  چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس…

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور…

    • غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی  گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے  لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر…

    • غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں  جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے آنا پڑے گا شہرِ رسا کی…

    • غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے  تو کچے گھر میں خوشی سے گزارا ہو جائے صدا لگاؤ ، ہنسو ، مستقل اداس رہو  بچانے والوں کو کوئی اشارہ ہو جائے گلاب بن کے تری یاد مہکے آنگن میں …

    • غزل | جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل | جب بھی وہ  آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے پہلے گھر کا پتا بدلتا ہے کوئی انسان مر نہیں جاتا صرف آب و ہوا بدلتا ہے اپنے چہرے کے خد و خال بدل  تو مگر آئینہ بدلتا ہے ہجر سے اور کچھ…

    • غزل | جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا | نسیم عباسی

      غزل | جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا | نسیم عباسی

      غزل  جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا  شہر کا شہر ہی حمّام نکل آئے گا  آؤ کچھ دیر محبت سے کہیں مل بیٹھیں  کام سے اور کوئی کام نکل آئے گا  میں سمجھتا تھا کہ قسمت کا دھنی نکلوں…

    • غزل | کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا | فیضان ہاشمی

      غزل | کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا | فیضان ہاشمی

      غزل کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا  اور اس وجود کی آب و ہوا میں کھو گیا تھا  غروب ہونے سے پہلے وہ ڈوبتا سورج  زمیں کے ذہن میں اک چاند کو پرو گیا تھا  کتاب…

    • امن | افتخار بخاری

      امن | افتخار بخاری

      امن امن کوئی فاختہ ہے نہ شاخ زیتون  امن وہ ہاتھ ہیں جو بم بنانے سے انکار کرتے ہیں Author توحید زیب روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

    Back to top button