اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان
غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد اُس کی گھپ اندھیرے میں بُلاتا ہے خدا اپنی طرف …
-
سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق
سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے بدن، یہ خاک کے مٹتے ہوئے پیکر کبھی رکتے نہیں،…
-
بسنت/ کرن نعمان، کراچی
لاہور کا اسمان رنگوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ہر طرف پتنگیں ہی پتنگیں دکھائی دے رہی تھیں ۔ چھوٹی بڑی گڈّیاں گڈّے اور بوکاٹا کے نعرے ۔ آخر کار دو دہائیوں کے بعد حکومت وقت نے لاہور کے شہریوں کو بسنت منانے کی اجازت دے دی تھی اس لیے…
-
غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود
غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں کہیں دفن ہے ارمان ہمارا ہم لوگ محبت میں گرفتار…
-
غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر
غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات…
-
غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان
غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال اب پوچھتے ہیں سب ترے بارے فقیر سے رکھتا ہے اپنے…





















