اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس اور اس کے چھن جانے کے خوف، شعور کی بیداری کا خوف، صنفی عدم مساوات، مرد و عورت کے درمیان طاقت کے حصول کی خواہش، محلاتی سازشوں کی طاقت اور…
کتاب : بادل/مسعود اختر خان : تبصرہ : محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

روز مرہ بات چیت کے دوران محاوروں اور ضرب الامثال کا استعمال بات چیت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ موسم کے حوالے سے متعدد محاورے اور کہاوتیں زبانِ زدِ عام ہیں۔ کبھی گرم مزاج تو کبھی سرد مہری، ہو بہو بدلتے موسموں کی طرح انسان کا مزاج بھی ہمیشہ ایک…
منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

منحرف پرچموں کے پھریرے قسم دروازے کی جو اولین دیوار کا دیباچہ بنا امر ہونے کی تمنا میں جسے دیوتاؤں کے معبد کو ہدیہ کیا گیا قسم دروازے کی جو خداوند کے نام سے منسوب ہوا قسم دروازے کی جو مقدس ترین مکان کا چہرہ ہے ثروت مندوں پہ…
مٹی کی خوشبو | اعجازالحق

مٹی کی خوشبو ہوائیں جب اچانک رخ بدل کر گنگناتی ہیں پرانے منظروں کی دھول میں لپٹے ہوئے لمحے کسی بھولی ہوئی تصویر کے مانند جب آنکھوں میں اترتے ہیں تو پچھلے سال کی وہ ڈائری خود ہی کسی بھی یاد کے پنے پہ جا کر کھل سی جاتی ہے…
افسانچہ | کِھلونا | باسط پتافی

افسانچہ | کِھلونا صبح کی سفیدی میری آنکھوں میں تیر رہی ہے اور ہونٹوں پر شبنم رقص کر رہی ہے مگر میں اداس ہوں یا میرا دل اداس ہونا چاہتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ شاید کوئی ماضی کا قصہ کھٹک رہا ہو یا مستقبل کی کوئی چنتا گھیر رہی ہو…
لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

لمس کا خواب اک خواہش ہے کہ معجزہ جنم لے اور میں مٹی بن جاؤں وہ مٹی جسے کوئی صوفی کمہار اینٹوں میں ڈھالے اور اُن اینٹوں کو تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے پھر جب تُو سجدے میں جھکے میں تیرے ماتھے سے لپٹ جاؤں تیری…






















