اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے | زاہد خان
کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے یہاں تک کہ سب سُننے والے پرانے زمانے کی سب چاہتوں کا مزہ چکھ کے جب سونے لگتے ہیں تب تک کہانی نئے موڑ سے آنے والے زمانے کا رنگ اوڑھ لیتی ہے اور یہ حقیقت ہے سب…
-
کتاب میں لحد | خالد ریاض خالد
کتاب میں لحد مٹی کے برتن کورے بدن پہ پھولوں کی پوشاک سجائے شو کیس کی بھٹی میں جلتے رہتے ہیں تتلیاں پھولوں کے رنگ پروں پہ سجا کر کتابوں میں حنوط ہو جاتیں ہیں Author توحید زیب روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل…
-
حکیم حکمت اللہ بقائی/ارم رحمٰن ، لاہور
جب رضیہ سلطانہ آپا بیوہ ہو کر گھر پہنچیں تو سارےگھر میں جیسے کہرام مچ گیا عدت تو سسرال میں پوری کرکے آئی تھیں لیکن میکے آکر بھی جو سب سے لپٹ لپٹ کر روئیں کہ جیسے آنسؤں کی سرکاری نل کھل گیاہو کہ ایک گھنٹہ ہے جتنا استعمال…
-
غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی
غزل گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں ہمیں کسی نے ابھی تک نہیں کیا دریافت ہم اپنے وقت کا گمنام برِاعظم ہیں ہزار افق سے ہمیں دیکھو تو کُھلے تم پر کہاں سے کتنے اجاگر ہیں کتنے مدھم ہیں دُکھی ہیں…
-
مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق
مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق زرد پتوں کی گھنی دنیا میں وہ جو رستے الگ ہوئے تھے، میں، جو راہروِ سفر تھا رک کر تنہا بہت دیر تلک محو رہا، کس سمت جاؤں،میں کس کو اپناؤں، تاحدِ نظر دیکھا تو فطرت کے خارزاروں میں بن…
-
غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی
غزل فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے اٹکا کھجور میں جو گرا آسمان سے میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے یہ شہر خواب گاہ ہے عصرِ جدید کی جاگے گا کون مرغِ سحر کی اذان سے آباد ہیں…





















