اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

کس جہت میں یہ بیاباں ہے اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے جہاں گَرد کے آسیب بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک پردہ سا چمک اُٹھتا ہے حدِّ ناخواب سے مَیں جُزو…
گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی اے چمکتے گلابوں سے روشن چمن اب ترے در پہ میں اس تھکن کا…
غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

غزل نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید اس کو وہ جارہا ہے تو جائے میں شعر کہتا…
ایتھینا | باسط پتافی

ایتھینا کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی میں نہ میلے میں گئی ہوں نہ میں جاؤں گی کبھی میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی تو کیا؟ میں ابھی جنگ کے آداب سے واقف ہی…
غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد اُس کی گھپ اندھیرے میں بُلاتا ہے خدا اپنی طرف …
سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے بدن، یہ خاک کے مٹتے ہوئے پیکر کبھی رکتے نہیں،…





















