54 سیکنڈز ago

    غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

    غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے  رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے   بھیج…
    4 منٹس ago

    میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

    میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں   میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے…
    9 منٹس ago

    غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

    غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے…
    20 گھنٹے ago

    لیکن | حمزہ-ز

    لیکن ہو سکتا ہے سارے خواب سچ نہ ہوں یہ ہماری ذہنی کشمکش کا عکس ہیں   ہوسکتا ہے  ہمارے…
    20 گھنٹے ago

    ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

    ریڈیو دل شاید آج ریڈیو بن گیا ہے… کسی پرانی فریکوئنسی پر تمہاری آواز آ رہی ہے  تھوڑا شور ہے…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے  رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے   بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند  یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے  آنکھ لگ جائے بھی تو سو نہیں پاتا ہے دماغ  ہر گھڑی سوچ کے…

    • میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں   میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو   پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں چاہوں لگا دیتا ہوں جلا دیتا ہوں اڑا دیتا ہوں…

    • غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے  تمہارے حسن کے جیسی حسیں غزل کہنا تمہارے ہجر میں اپنا یہی تو مشغلہ…

    • لیکن | حمزہ-ز

      لیکن | حمزہ-ز

      لیکن ہو سکتا ہے سارے خواب سچ نہ ہوں یہ ہماری ذہنی کشمکش کا عکس ہیں   ہوسکتا ہے  ہمارے اندازے غلط ہوں انسان  اور خدا کے متعلق ہم نے ان دونو کو نہیں بنایا   ہو سکتا ہے  ہم غلط راستوں کا انتخاب کرلیں جن پر ہمیں نہیں چلنا…

    • ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو دل شاید آج ریڈیو بن گیا ہے… کسی پرانی فریکوئنسی پر تمہاری آواز آ رہی ہے  تھوڑا شور ہے بیچ میں، شاید یادوں کا… تم کچھ کہہ رہی ہو، بالکل ویسے ہی، جیسے آخری بار کہا تھا  ”رکو، میں ابھی آئی…“ اور تب سے ہر دن یہی جملہ ہر…

    • غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں  کوئی بھی روپ مجھے زندگی کا راس نہیں اندھیرے جیسا اجالا ہے بے اثر مجھ پر وہ آئینہ ہوں جسے تابِ انعکاس نہیں ہر ایک زخم ہے عریاں ہر ایک سچ ہے کُھلا مرے بدن پہ کوئی خوش…

    شعر و شاعری

    • غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے  رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے   بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند  یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے  آنکھ لگ جائے بھی…

    • میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں   میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو   پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں…

    • غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے  تمہارے حسن کے جیسی…

    • لیکن | حمزہ-ز

      لیکن | حمزہ-ز

      لیکن ہو سکتا ہے سارے خواب سچ نہ ہوں یہ ہماری ذہنی کشمکش کا عکس ہیں   ہوسکتا ہے  ہمارے اندازے غلط ہوں انسان  اور خدا کے متعلق ہم نے ان دونو کو نہیں بنایا   ہو سکتا ہے  ہم…

    • ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو دل شاید آج ریڈیو بن گیا ہے… کسی پرانی فریکوئنسی پر تمہاری آواز آ رہی ہے  تھوڑا شور ہے بیچ میں، شاید یادوں کا… تم کچھ کہہ رہی ہو، بالکل ویسے ہی، جیسے آخری بار کہا تھا  ”رکو، میں…

    • غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں  کوئی بھی روپ مجھے زندگی کا راس نہیں اندھیرے جیسا اجالا ہے بے اثر مجھ پر وہ آئینہ ہوں جسے تابِ انعکاس نہیں ہر ایک زخم ہے عریاں…

    • غزل | چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے | ارمان جودھپوری

      غزل | چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے | ارمان جودھپوری

      غزل چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے  دیکھ تو میری نظر جا کے کہاں ٹھہری ہے    ایک مدّت سے مرے لب کا دیچہ نہ کھلا  منجمد آہ مری سوئے زباں ٹھہری ہے  اپنے پتے تو مری…

    • غزل | یہ الگ بات کم پہنچتے ہیں | مبشر رحمان

      غزل | یہ الگ بات کم پہنچتے ہیں | مبشر رحمان

      غزل یہ الگ بات کم پہنچتے ہیں  آپ دیں حکم، ہم پہنچتے ہیں پھول اتنا گِرا ہوا نہ سمجھ  کتنے بھنوروں کے دم پہنچتے ہیں  آنکھ آئی پہ آ گئی تو گئی  دل پہ جتنے ستم پہنچتے ہیں  آپ خوش…

    • Over Laping | گل جہان

      Over Laping | گل جہان

      Over Laping مجھے اک نظم لکھنی ہے کہ جس کے خال و خد سے یار کی شکلیں نہ ملتی ہوں   زبان اس الگ ، آواز کا رس یار کی آواز سے بالکل جدا ہو اور لہجے کی طراوت مختلف…

    • Toothbrushes in a Poem | اویس ضمؔیر

      Toothbrushes in a Poem | اویس ضمؔیر

      Toothbrushes in a Poem (سانیٹ) شاید مَیں قلم عشق پہ اِک دن تو اٹھاؤں شاید مَیں تِرے حسن کو منظوم بھی کر لوں  شاید کہ شبِ ہجر کو اشعار میں بھر لوں شاید کہ تِرے غم سے مَیں اوراق سجاؤں…

    • غزل | زیادہ پھیلی ہوئی بستیوں سے ڈرتا ہوں | حارث بلال

      غزل | زیادہ پھیلی ہوئی بستیوں سے ڈرتا ہوں | حارث بلال

      غزل زیادہ پھیلی ہوئی بستیوں سے ڈرتا ہوں  میں اپنے عہد کی تنہائیوں سے ڈرتا ہوں  یہ پھول توڑنے والوں کی جیت ہے شاید  میں کھلکھلاتی ہوئی بچیوں سے ڈرتا ہوں  گزر گیا ہے کوئی ایسا حادثہ گھر سے  سفر…

    • دلہن | مسلم انصاری

      دلہن | مسلم انصاری

      دلہن بڑا سا گھر ہے  سفید چونے سے دیوار و در کو رنگا گیا ہے  کھلے صحن کے ہر ایک کونے میں پیڑ پودے لگے ہوئے ہیں  بڑے سے گھر کے بڑے سے کمروں میں خواب سارے نئے پڑے ہیں …

    Back to top button