41 سیکنڈز ago

    غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

    غزل کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں  لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں  دلاسے دے کے…
    6 منٹس ago

    منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

    منظر کے اس پار کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں حسین، دلکش ہوں، دلربا ہوں میں کن خرابوں میں پڑ…
    23 گھنٹے ago

    غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

    غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک…
    2 دن ago

    محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

    محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی…
    2 دن ago

    گُل فروش | ثمرین اعجاز

    گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

      غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

      غزل کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں  لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں  دلاسے دے کے سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے  میں غم کا بوجھ اٹھا کر اکیلا بیٹھا ہوں  بچا نہیں کوئی حرفِ تسلی اپنے لیے  شریکِ غم کو سُلا کر اکیلا بیٹھا ہوں …

    • منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

      منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

      منظر کے اس پار کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں حسین، دلکش ہوں، دلربا ہوں میں کن خرابوں میں پڑ گئی ہوں میں تلخ نظمیں ہی لکھ رہی ہوں! مجھے یہ حق ہے رومان لکھوں حسین پیکر کوئی تراشوں پھر اس کے لہجے میں اس کی باتوں پہ شعر لکھوں…

    • غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل |  کام   مشکل   تھا   مگر   ہو   گیا   آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے میں ترے شہر تحیر سے کبھی گزرا تھا لوگ تکتے ہیں مجھے آج بھی حیرانی…

    • محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی تھی   ہم دونوں ایک مردہ کہانی کے کردار تھے، جو خود ہی اپنا اختتام لکھ رہے تھے   آج ہماری محبت کی لاش یادوں کے لکڑیوں پر رکھی ہے،…

    • گُل فروش | ثمرین اعجاز

      گُل فروش  | ثمرین اعجاز

      گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں   وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے   جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک رکھا ہو   پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے   پھولوں کی خوشبو…

    • افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

      افسانہ: صبح کاذب از  زرقا فاطمہ  / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

      افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس اور اس کے چھن جانے کے خوف، شعور کی بیداری کا خوف، صنفی عدم مساوات، مرد و عورت کے درمیان طاقت کے حصول کی خواہش، محلاتی سازشوں کی طاقت اور…

    شعر و شاعری

    • غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

      غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

      غزل کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں  لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں  دلاسے دے کے سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے  میں غم کا بوجھ اٹھا کر اکیلا بیٹھا ہوں  بچا نہیں کوئی حرفِ تسلی…

    • منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

      منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

      منظر کے اس پار کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں حسین، دلکش ہوں، دلربا ہوں میں کن خرابوں میں پڑ گئی ہوں میں تلخ نظمیں ہی لکھ رہی ہوں! مجھے یہ حق ہے رومان لکھوں حسین پیکر کوئی تراشوں پھر…

    • غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل |  کام   مشکل   تھا   مگر   ہو   گیا   آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے میں ترے شہر تحیر سے…

    • محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی تھی   ہم دونوں ایک مردہ کہانی کے کردار تھے، جو خود ہی اپنا اختتام لکھ رہے تھے   آج…

    • گُل فروش | ثمرین اعجاز

      گُل فروش  | ثمرین اعجاز

      گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں   وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے   جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک…

    • منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے قسم دروازے کی جو اولین دیوار کا دیباچہ بنا امر ہونے کی تمنا میں جسے دیوتاؤں کے معبد کو ہدیہ کیا گیا قسم دروازے کی جو خداوند کے نام سے منسوب ہوا   قسم دروازے کی…

    • مٹی کی خوشبو | اعجازالحق

      مٹی کی خوشبو  | اعجازالحق

      مٹی کی خوشبو ہوائیں جب اچانک رخ بدل کر گنگناتی ہیں پرانے منظروں کی دھول میں لپٹے ہوئے لمحے کسی بھولی ہوئی تصویر کے مانند جب آنکھوں میں اترتے ہیں تو پچھلے سال کی وہ ڈائری خود ہی کسی بھی…

    • لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

      لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

      لمس کا خواب اک خواہش ہے کہ معجزہ جنم لے اور میں مٹی بن جاؤں   وہ مٹی جسے کوئی صوفی کمہار اینٹوں میں ڈھالے اور اُن اینٹوں کو تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے   پھر جب تُو…

    • کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے  سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں…

    • عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر  وہ کسی اور کی محبت تھی  یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر  آشنا کر گیا ہر اک غم سے  کوئی احسان کرگیا مجھ پر …

    • غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے  خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر  حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو  اپنا…

    • غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا  میں ایک حجرۂ…

    Back to top button