اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
نوزائیدہ نظم کا المیہ | ارشد معراج

نوزائیدہ نظم کا المیہ راضیہ!! ابھی اک نظم لکھی ہے بہت تازہ مہکتی کورے برتن سی عجب سرشار کرتی نظم ہے جیسے قلعہ کوئی فتح کر…
وصال مکرر | ثمین بلوچ

وصال مکرر روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے وجود کی کائنات پہ گراں گزرنے لگیں تو وفورِ محبت ظرف سے سوا ہو جاتا ہے شفا کا واحد رستہ ’خروج‘ ہے دھمال! مٹی کی پیشانی پہ کیا گیا متحرک سجدہ ہے منطق کی دم توڑتی سانسیں رقص…
عَصْفُور اَزْرَقْ(نیلی چڑیا)/ روبینہ یوسف ، کراچی

زیتون اور ناریل کے درختوں سے ہوا یوں ٹکراتی گزر رہی تھی جیسے ھمس الظّلال یعنی سایوں کی سرگوشی،اغنیتہ الشجر، یعنی درختوں کے گیتوں میں ڈھل رہی ہو۔ انہیں درختوں کے سائے میں دو کم عمر بچے قسام اور زین کھڑے مسکراتی نظروں سے ان دو نیلی چڑیاؤں کو دیکھ…
شششش / رانا سرفراز احمد

آج اس نے صرف دو پھول توڑے تھے ورنہ اس سے پہلے وہ ساری بہار روزانہ صرف ایک ہی پھول توڑتی اور وہ پھول سارا دن ہاتھ میں سنبھال کر رکھتی اسے ایسا لگتا تھا کہ جیسے اس نے پھول نہیں اپنے بابا کو ہاتھ میں پکڑ رکھا ہو اور…
تصور جاناں/ عامر انور ، کراچی

مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔ کم و بیش بیس سال بعد میں سلمان کو دیکھ رہا تھا۔ اور مجھے اسے پہنچاننے میں ذرا بھر دقت نہ ہوئی۔ اس کی وجہ کوئی میرا ہنر نہیں تھا بلکہ ان گزرے بیس سالوں میں اس کے چہرے مہرے میں سوائے عمر کی…
کونپل/ عارفین یوسف، راولپنڈی

وسیع رقبے پر پھیلے سکول کی چہارم کلاس میں کھڑکیوں سے چھن کر آنے والی نرم مہربان دھوپ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے ماحول کو گرما رہی تھی۔سورج کی کرنیں محض روشنی نہیں بلکہ کمرے میں بکھری سنہری جادوئی لہریں معلوم ہو رہی تھیں جو معصوم بچیوں کے روشن چہروں اور اجلے…





















