سلام
    20 گھنٹے ago

    سلام /درسِ وفا بھی اُن کو سکھایا حسینؓ نے/ڈاکٹر شاہین زیدی

    سلام ڈاکٹر شاہین زیدی  ​ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے   ​بجھنے پہ…
    غزل
    1 دن ago

    غزل /اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں /احتشام حسن

    غزل  احتشام حسن  یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل…
    سلام
    1 دن ago

    سلام /مجھے تو ناز ہے ثقلین اپنی نسبت پر /ثقلین جعفری

    سلام  ثقلین جعفری  حسین صرف ترا غم ہی چار سو ہوگا  ہر ایک قریہ میں ہوگا ، یہ کو بکو…
    سلام
    1 دن ago

    سلام /گلوئے خشک نے ایڑی سے تخت الٹائے/ارشاد نیازی

    سلام  ارشاد نیازی کچھ اس لیے بھی تھے لشکر تمام گھبرائے گلوئے خشک نے ایڑی سے تخت الٹائے   خدا…
    انٹرویو
    5 دن ago

    پاکستان کی پہلی نابینا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ/ڈاکٹر شاہدہ رسول کا خصوصی انٹرویو

    ڈاکٹر شاہدہ رسول اس وقت دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہیں…
    خبریں
    6 دن ago

    کتاب / رازہستی ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

    "رازِ ہستی” زرقا فاطمہ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو 2024ء میں ماورا پبلشرز، لاہور سے شائع ہوا اور بیس…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • مٹی کے وارث / رانا سرفراز احمد

      مٹی کے وارث / رانا سرفراز احمد

      شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت کے آگے سر نیہوڑ گئے۔ اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے آہستہ آہستہ بلند و بالا عمارتوں کی چوٹیوں پر سر اٹھاۓ کھڑے ہوۓ نظر آنے لگے۔ اس کی مہارتِ فن…

    • سلام /درسِ وفا بھی اُن کو سکھایا حسینؓ نے/ڈاکٹر شاہین زیدی

      سلام /درسِ وفا بھی اُن کو سکھایا حسینؓ نے/ڈاکٹر شاہین زیدی

      سلام ڈاکٹر شاہین زیدی  ​ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے   ​بجھنے پہ آ گیا تھا تیرے دین کا چراغ اصغرؑ کے خوں سے اس کو جلایا حسینؓ نے   ​صدیوں سے انبیا نے بھی کوشش ہزار کی کربل میں وہ بھی کر…

    • غزل /اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں /احتشام حسن

      غزل /اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں /احتشام حسن

      غزل  احتشام حسن  یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل پڑے ہیں وہ تشنہ لب جو سراب آنکھیں سجا کے نکلے سمجھ رہے تھے کہ چند قدموں پہ جل پڑے ہیں  تمہارے جلووں سے دو قبیلوں میں ٹھن گئی ہے…

    اُردو وَرثہ پر مزید پڑھیں

    شعر و شاعری

    Back to top button