اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو اپنا نقصان تھوڑی ہوتا ہے آستیں جھاڑ کر کہا میں نے …
غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا میں ایک حجرۂ درویش میں مقیّد تھا مگر گزرتی ہوا نے یونہی سلام…
میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

وہ خواب سفر کی کہانیوں جیسا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں جب دیکھتیں تو مدھ لٹاتیں۔ اگر کبھی بے ارادہ نظر اس کی قمیض کے ادھ کھلے بٹنوں پہ پڑ جاتی تو سانس لینا مشکل ہوجاتا۔ یوں لگتا پوری کائنات اس سینے میں سما سکتی ہے۔ اسے دیکھ کر بلا…
افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی…
کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

زیرِ نظر کتاب کا عنوان "شیتل” ہے۔ افسانوی مجموعہ "شیتل” میں عشقیہ اللے تللے نہیں ہیں۔ ایک افسانہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس میں ہیرو ہیروئن چونچ لڑا رہے ہوں یا پیار کے سمندر میں غوطہ زن نظر آ رہے ہوں۔ پیار، عشق، محبت، ٹھنڈی آہیں، ہجر میں مر…
غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ فاصلہ ماپیں سفر ہے لامتناہی، ہماری آہوں کا تمام حلقۂ…






















