36 منٹس ago

    کتاب :شاعری تجھ سے /تبصرہ نگار :محمد اکرام قاسمی

    کتاب  : ” شاعری تجھ سے " عنوان :احساس سے ادراک تک مصنفہ :یاسمین سحر جو پیش سانحے اِس زندگی…
    5 گھنٹے ago

    معنی اور معنویت: چند باتیں | باسط پتافی

    معنی اور معنویت: چند باتیں کسی بھی کلام سے مصنف (یا متکلم) کا مقصود و مراد سمجھنا "معنی” کہلاتا ہے۔یعنی…
    1 دن ago

    غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

    غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟…
    2 دن ago

    آوازین / ارم رحمٰن ، لاہور

    نوابوں اور رئیسوں کے گھر شادی بھی کسی میلے ٹھیلے سے کم نہیں ہوتی ایسی بھانت بھانت کی رسمیں اور…
    2 دن ago

    آکاس بیل | ثمرین اعجاز

    آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • کتاب :شاعری تجھ سے /تبصرہ نگار :محمد اکرام قاسمی

      کتاب :شاعری تجھ سے /تبصرہ نگار :محمد اکرام قاسمی

      کتاب  : ” شاعری تجھ سے " عنوان :احساس سے ادراک تک مصنفہ :یاسمین سحر جو پیش سانحے اِس زندگی میں آئے ہیں اُنہی کے رنگ مری شاعری میں آئے ہیں زندگی اپنے تجربات ، اپنے ہر صارف کو یکساں عطا کرتی ہے ، باقی انحصار صارفینِ حیات کی قوت…

    • معنی اور معنویت: چند باتیں | باسط پتافی

      معنی اور معنویت: چند باتیں | باسط پتافی

      معنی اور معنویت: چند باتیں کسی بھی کلام سے مصنف (یا متکلم) کا مقصود و مراد سمجھنا "معنی” کہلاتا ہے۔یعنی اگر کسی کلام میں مصنف نے اپنی بات پہنچائی ہے اور پڑھنے والا اس کلام کو وسیلہ بناتے ہوئے مصنف کی مراد تک پہنچے تو کلام سے حاصل کردہ مطلب…

    • غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں کرتا محبت وہ کسی سے مجھے اس پر بھی حیرانی…

    • آوازین / ارم رحمٰن ، لاہور

      آوازین / ارم رحمٰن ، لاہور

      نوابوں اور رئیسوں کے گھر شادی بھی کسی میلے ٹھیلے سے کم نہیں ہوتی ایسی بھانت بھانت کی رسمیں اور مزے مزے کے پکوان حویلی کی سجاوٹ ایسی جیسے روشنیوں کا شہر زنان خانہ میں تیاریاں کسی محل کی ملکہ اور شہزادیوں کا راج ہو، کمخواب ،جامہ وار مخمل اور…

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،  آپ کی کھوکھلی شاخوں پر، اس کی بے رحم لپیٹ…

    • غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں ہوئے شروع  حرکت کی نسل آدمی کی چال پر بنی…

    شعر و شاعری

    • غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں…

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،…

    • غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں…

    • پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ |  ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس  جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے …

    • گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے  ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی  تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند…

    • غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے  ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل…

    • اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے…

    • نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل

      نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل

      نئی محبتوں کا واہمہ دو موسموں کی خوشبو سے مہکی ہوا، کچے صحنوں میں پڑی دھوپ، ٹھنڈے، گرم پانیوں کے امتزاج کا گداز نئی مگر بے معنی محبت کو جنم دیتا ہے   مسافتوں کا تعین کرنے سے بہتر ہے،…

    • تنسیخ | اویس ضمؔیر

      تنسیخ | اویس ضمؔیر

      تنسیخ یہ جہاں اِک طویل و ادَق کوڈ کا مجھ کو مظہر سا لگنے لگا ہے۔۔۔ کسی طاق کوڈر کا خوابِ فُسوں سطر در سطر لکّھا گیا ایک لامنتہی کوڈ جو اَن گنت لمبے روٹین پر مشتمل، جن میں زیریں…

    • غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم

      غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم

      غزل اک مسلسل تهكن محبت ہے  پھر بھی میرا چلن محبت ہے  خوب پہچانتا ہے دستک کو   کہہ رہا ہے بدن ، محبت ہے  وہ کسی اور کا نہیں ہو گا  یہ نہیں حسنِ ظن ،محبت ہے  ہم نے چارہ…

    • غزل | درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے | حارث بلال

      غزل | درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے | حارث بلال

      غزل درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے ماؤں کے بعد ایک نئی کائنات ہے چھوٹی سی اس زمین پہ چھوٹا سا ایک گھر  وہ تھی تو لگ رہا تھا یہی کائنات ہے تارے دکھائی دیتے ہیں پتھر جڑے ہوئے وہ…

    • غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف

      غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف

      غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں  خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں میں  دنیائے دل کو زیر و زبر کر رہا ہوں میں  کرنا نہیں تھا عشق مگر کر رہا ہوں میں…

    Back to top button