28 سیکنڈز ago

    غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

    غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک…
    1 دن ago

    محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

    محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی…
    1 دن ago

    گُل فروش | ثمرین اعجاز

    گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی…
    2 دن ago

    انٹرویو: نیلما ناہید درانی (ایس ایس پی ریٹائرڈ، ادیبہ و شاعرہ)/ انٹرویوور: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعارف نیلما ناہید درانی پاکستان کی ایک ممتاز ادیبہ، شاعرہ، سفرنامہ نگار اور سابق پولیس افسر ہیں۔ آپ نے پاکستان…
    2 دن ago

    افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

    افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل |  کام   مشکل   تھا   مگر   ہو   گیا   آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے میں ترے شہر تحیر سے کبھی گزرا تھا لوگ تکتے ہیں مجھے آج بھی حیرانی…

    • محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی تھی   ہم دونوں ایک مردہ کہانی کے کردار تھے، جو خود ہی اپنا اختتام لکھ رہے تھے   آج ہماری محبت کی لاش یادوں کے لکڑیوں پر رکھی ہے،…

    • گُل فروش | ثمرین اعجاز

      گُل فروش  | ثمرین اعجاز

      گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں   وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے   جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک رکھا ہو   پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے   پھولوں کی خوشبو…

    • افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

      افسانہ: صبح کاذب از  زرقا فاطمہ  / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

      افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس اور اس کے چھن جانے کے خوف، شعور کی بیداری کا خوف، صنفی عدم مساوات، مرد و عورت کے درمیان طاقت کے حصول کی خواہش، محلاتی سازشوں کی طاقت اور…

    • کتاب : بادل/مسعود اختر خان : تبصرہ : محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

      کتاب : بادل/مسعود اختر خان : تبصرہ : محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

      روز مرہ بات چیت کے دوران محاوروں اور ضرب الامثال کا استعمال بات چیت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ موسم کے حوالے سے متعدد محاورے اور کہاوتیں زبانِ زدِ عام ہیں۔ کبھی گرم مزاج تو کبھی سرد مہری، ہو بہو بدلتے موسموں کی طرح انسان کا مزاج بھی ہمیشہ ایک…

    • منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے قسم دروازے کی جو اولین دیوار کا دیباچہ بنا امر ہونے کی تمنا میں جسے دیوتاؤں کے معبد کو ہدیہ کیا گیا قسم دروازے کی جو خداوند کے نام سے منسوب ہوا   قسم دروازے کی جو مقدس ترین مکان کا چہرہ ہے ثروت مندوں پہ…

    شعر و شاعری

    • غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل |  کام   مشکل   تھا   مگر   ہو   گیا   آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

      غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے میں ترے شہر تحیر سے…

    • محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

      محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی تھی   ہم دونوں ایک مردہ کہانی کے کردار تھے، جو خود ہی اپنا اختتام لکھ رہے تھے   آج…

    • گُل فروش | ثمرین اعجاز

      گُل فروش  | ثمرین اعجاز

      گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش،  نم آلود گلی سے   جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں   وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے   جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک…

    • منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے | ڈاکٹر جواز جعفری

      منحرف پرچموں کے پھریرے قسم دروازے کی جو اولین دیوار کا دیباچہ بنا امر ہونے کی تمنا میں جسے دیوتاؤں کے معبد کو ہدیہ کیا گیا قسم دروازے کی جو خداوند کے نام سے منسوب ہوا   قسم دروازے کی…

    • مٹی کی خوشبو | اعجازالحق

      مٹی کی خوشبو  | اعجازالحق

      مٹی کی خوشبو ہوائیں جب اچانک رخ بدل کر گنگناتی ہیں پرانے منظروں کی دھول میں لپٹے ہوئے لمحے کسی بھولی ہوئی تصویر کے مانند جب آنکھوں میں اترتے ہیں تو پچھلے سال کی وہ ڈائری خود ہی کسی بھی…

    • لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

      لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

      لمس کا خواب اک خواہش ہے کہ معجزہ جنم لے اور میں مٹی بن جاؤں   وہ مٹی جسے کوئی صوفی کمہار اینٹوں میں ڈھالے اور اُن اینٹوں کو تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے   پھر جب تُو…

    • کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے  سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں…

    • عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر  وہ کسی اور کی محبت تھی  یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر  آشنا کر گیا ہر اک غم سے  کوئی احسان کرگیا مجھ پر …

    • غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے  خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر  حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو  اپنا…

    • غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا  میں ایک حجرۂ…

    • غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ…

    • غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟ تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ…

    Back to top button