اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت تمہاری اٹھا ہے تمہاری شرافت سے پردہ میاں! کھل چکی…
حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و جاں سے کرتے ہیں تا کہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکیں۔ اگر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ…
آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں آوازہ ِ خلقت میں چاہے نہ سنے کوئ پر کاٹ لیے جائیں پرواز تو بنتی یے دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ گر انگارے سا جلتا ہو خنجر ہوں رویوں کے…
افسانوی مجموعہ…وقت کا صحرا/مصنفہ منیرہ احمد شمیم /تبصرہ.. محمد اکرام قاسمی

مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ” تبصرہ نگار… محمد اکرام قاسمی انسان صدیوں کی شاہراہوں پر نہ جانے کتنے کاروانِ حیات لیے گزرا ہے ۔ اگرچہ انسانی ذہن اِس کا مکمل احاطہ کرنے میں قدرے معذور نظر آتا ہے ۔ لیکن وقت کی صدیوں…
غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں تلوار سے کچھ درندے ہیں اسی کے منتظر آ رہا…
کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سرزمین ہے ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی…





















