33 سیکنڈز ago

    غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

    غزل آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری عکس در عکس کوئی کرتا رہا کوزہ گری  یاد آیا تو…
    9 گھنٹے ago

    چھت / شبیر علوی

    مجبوری میں سوال نہیں صرف قبول کرنا ہوتا ہے, اٹھارہ سال کی ماہم کے اس جملے نے مجھے اپنے لڑکپن…
    1 دن ago

    لنگری / عامر انور ، کراچی

    اختر حسین سے جب تک گفتگو نہ ہوتی تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اتنا بھی خشک…
    1 دن ago

    وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

    وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم ان پہاڑوں کو دیکھو ذرا غور سے یہ وہی ہیں جہاں ایک…
    1 دن ago

    غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

    غزل عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا کبھی وہ کھونے لگا اور کبھی وہ پانے لگا وہ رفتہ رفتہ…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

      غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

      غزل آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری عکس در عکس کوئی کرتا رہا کوزہ گری  یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے میں رکھا اور پھر رات سے پہلے ہی ہمیں چاٹ…

    • چھت / شبیر علوی

      چھت / شبیر علوی

      مجبوری میں سوال نہیں صرف قبول کرنا ہوتا ہے, اٹھارہ سال کی ماہم کے اس جملے نے مجھے اپنے لڑکپن و جوانی کے وہ دن یاد دلا دیے جب گھر کے چولہے کو جلائے رکھنے کےلیے کتابیں اس کی نذر کرکے ہتھوڑی اور کرنڈی میں نے تھام لیے اور ایک…

    • لنگری / عامر انور ، کراچی

      لنگری / عامر انور ، کراچی

      اختر حسین سے جب تک گفتگو نہ ہوتی تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اتنا بھی خشک انسان نہیں جتنا وہ نظر آتا ہے۔ چلتا پھرتا بظاہر وہ ایسا محسوس ہوتا کہ جسے دنیا میں کسی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ اپنی ذات میں گم رہنے والا…

    • وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

      وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

      وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم ان پہاڑوں کو دیکھو ذرا غور سے یہ وہی ہیں جہاں ایک ساحر نے لفظوں کی مالا جپی  اور میں اس کی نظموں میں اتری تو پھر کوہساروں کی جٹی بنی ایک چشمے سے گاگر کو بھرتے ہوئے  میرا یوں اس سے…

    • غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

      غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

      غزل عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا کبھی وہ کھونے لگا اور کبھی وہ پانے لگا وہ رفتہ رفتہ مرے نام سے ہوا واقف پھر اس کے بعد مرا نام گنگنانے لگا ابھی ابھی مجھے احساس یہ ہوا کہ میں ہوں  ابھی ابھی کوئی آواز دے کے جانے لگا…

    • شہِ مات | ثمرین اعجاز

      شہِ مات | ثمرین اعجاز

      شہِ مات بساطِ زندگی پر   خاموشی سے بچھا اک کھیل تھا،   سیاہ و سفید خانوں کی طرح   ہماری صبح و شام تھیں اور ہم؟   محض مہروں کی صورت   کبھی آگے بڑھائے گئے،   کبھی قربانی کی نذر ہو گئے تم تقدیر کے رخ پر کھڑے وزیر تھے،   میں خوابوں کی وہ…

    شعر و شاعری

    • غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

      غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

      غزل آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری عکس در عکس کوئی کرتا رہا کوزہ گری  یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے…

    • وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

      وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

      وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم ان پہاڑوں کو دیکھو ذرا غور سے یہ وہی ہیں جہاں ایک ساحر نے لفظوں کی مالا جپی  اور میں اس کی نظموں میں اتری تو پھر کوہساروں کی جٹی بنی ایک…

    • غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

      غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

      غزل عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا کبھی وہ کھونے لگا اور کبھی وہ پانے لگا وہ رفتہ رفتہ مرے نام سے ہوا واقف پھر اس کے بعد مرا نام گنگنانے لگا ابھی ابھی مجھے احساس یہ ہوا کہ…

    • شہِ مات | ثمرین اعجاز

      شہِ مات | ثمرین اعجاز

      شہِ مات بساطِ زندگی پر   خاموشی سے بچھا اک کھیل تھا،   سیاہ و سفید خانوں کی طرح   ہماری صبح و شام تھیں اور ہم؟   محض مہروں کی صورت   کبھی آگے بڑھائے گئے،   کبھی قربانی کی نذر ہو گئے تم تقدیر…

    • بوسۂ نزع | سیدہ گلونہ

      بوسۂ نزع | سیدہ گلونہ

      بوسۂ نزع سیاہ بختی کا وار تو دیکھو یہ میرے ماتھے سے تمہارا وہ آخری بوسہ بھی چرا لے گئی جو مجھے شفایاب کردیتا بالکل یونہی جیسے کسی گنہگار کے لبوں سے  نزع کے عالم میں وہ کلمہ چھن جائے …

    • زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ تمھیں لگتا ہے ستاروں کے اس پار قیام کرنے والے درد کے عنوان جانتے ہیں تو بتاو کیا حقیقت ہے  کہ وہ زمیں واسیوں کو کوئی دلاسہ دیے رہتے ہیں مگر ہمارے دکھوں کی عمریں ہم…

    • میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی گزرے ہوئے لمحوں میں    زمان و مکاں کی وسعت مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں دیتی، وقت میرے لیے راستہ نہیں دائرہ ہے میں جب تھک کر گرنے لگتا ہوں تو وحشت مجھے زمین تک آنے…

    • گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں! مجھ سے صرف ایک لفظ کہیں کھو گیا ہے… بس اُسی کی تلاش ہے۔ Author توحید زیب روحِ عصر کا…

    • غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے  برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے  کرو یہیں سے مرمت گری ہوئی دیوار  کہ اس کے نیچے یتیموں کا مال رکھا ہے  یہ اور بات کہ ہے ڈور ٹوٹنے والی …

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے…

    • غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے                                 …

    • راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے! پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟ بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی کہاں راوی جہلم…

    Back to top button