30 سیکنڈز ago

    زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

    زمین زادوں کے دکھ تمھیں لگتا ہے ستاروں کے اس پار قیام کرنے والے درد کے عنوان جانتے ہیں تو…
    13 منٹس ago

    میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

    میری کہانی درختوں کی زبانی گزرے ہوئے لمحوں میں    زمان و مکاں کی وسعت مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں دیتی،…
    4 گھنٹے ago

    تبصرہ کتاب: خیال کی صورت گری/ رانا سرفراز احمد

    روبینہ یوسف صاحبہ کی کتاب پر تبصرہ ادھار تھا کتاب پر تبصرہ تو عنقریب پیشِ خدمت ہو جاۓ گا۔ البتہ…
    23 گھنٹے ago

    لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

    کہتے ہیں کہ جب لاڈلی پیدا ہوئی تو رونے کے بجایے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ کچھ کے لیے یہ پریشان…
    1 دن ago

    منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

    "باجی مجھے گاؤں جانا ہے کل چھٹی کروں گی۔ پھر سوموار کو آؤں گی۔ آپ آج ہی کپڑے دھلوا میں…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ تمھیں لگتا ہے ستاروں کے اس پار قیام کرنے والے درد کے عنوان جانتے ہیں تو بتاو کیا حقیقت ہے  کہ وہ زمیں واسیوں کو کوئی دلاسہ دیے رہتے ہیں مگر ہمارے دکھوں کی عمریں ہم سے لمبی ہو گئ ہیں  ہم زمین زاد ہیں تو…

    • میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی گزرے ہوئے لمحوں میں    زمان و مکاں کی وسعت مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں دیتی، وقت میرے لیے راستہ نہیں دائرہ ہے میں جب تھک کر گرنے لگتا ہوں تو وحشت مجھے زمین تک آنے نہیں دیتی، جیسے گر جانا بھی کسی پچھلی زندگی کی…

    • تبصرہ کتاب: خیال کی صورت گری/ رانا سرفراز احمد

      تبصرہ کتاب: خیال کی صورت گری/ رانا سرفراز احمد

      روبینہ یوسف صاحبہ کی کتاب پر تبصرہ ادھار تھا کتاب پر تبصرہ تو عنقریب پیشِ خدمت ہو جاۓ گا۔ البتہ سر ورق پر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔ میرے نزدیک یہ سرورق صرف ایک کتاب کا بیرونی رنگین سا غلاف ہی نہیں بلکہ یہ ایک دراصل ایک بصری بیانیہ ہے جو…

    • لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

      لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

      کہتے ہیں کہ جب لاڈلی پیدا ہوئی تو رونے کے بجایے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ کچھ کے لیے یہ پریشان کن تھا اور کچھ کے لئے یہ حیرانی کا باعث تھا۔ مشترکہ طور پر لاڈلی کو قدرت کی لاڈلی قرار دے دیا گیا اور یوں لاڈلی کا نام لاڈلی رکھ…

    • منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

      منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

      "باجی مجھے گاؤں جانا ہے کل چھٹی کروں گی۔ پھر سوموار کو آؤں گی۔ آپ آج ہی کپڑے دھلوا میں نے کل نہیں آنا۔” "تم پھر جمعہ کے دن کپڑے دھونے آگئی ہو، میں نے آج نہیں دھلوانے کپڑے” بھابھی کی ملازمہ کے ساتھ بحث جاری تھی۔  جمعہ کے دن…

    • گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں! مجھ سے صرف ایک لفظ کہیں کھو گیا ہے… بس اُسی کی تلاش ہے۔ Author توحید زیب روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں…

    شعر و شاعری

    • زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

      زمین زادوں کے دکھ تمھیں لگتا ہے ستاروں کے اس پار قیام کرنے والے درد کے عنوان جانتے ہیں تو بتاو کیا حقیقت ہے  کہ وہ زمیں واسیوں کو کوئی دلاسہ دیے رہتے ہیں مگر ہمارے دکھوں کی عمریں ہم…

    • میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی | ضیاء الرحمن فاروقی

      میری کہانی درختوں کی زبانی گزرے ہوئے لمحوں میں    زمان و مکاں کی وسعت مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں دیتی، وقت میرے لیے راستہ نہیں دائرہ ہے میں جب تھک کر گرنے لگتا ہوں تو وحشت مجھے زمین تک آنے…

    • گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں! مجھ سے صرف ایک لفظ کہیں کھو گیا ہے… بس اُسی کی تلاش ہے۔ Author توحید زیب روحِ عصر کا…

    • غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے  برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے  کرو یہیں سے مرمت گری ہوئی دیوار  کہ اس کے نیچے یتیموں کا مال رکھا ہے  یہ اور بات کہ ہے ڈور ٹوٹنے والی …

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے…

    • غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے                                 …

    • راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے! پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟ بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی کہاں راوی جہلم…

    • غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں کسی کے ہوں گے، مگر شاعری کے باپ نہیں  سخن وری کا لبادہ منافقت سا ہے جو اصل آپ ہیں اُس کو چھپانا پاپ نہیں؟  نیا زمانہ…

    • زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں  جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے وہ ممتا سی عورت…

    • بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک بند گلی میں جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں دیمک زدہ دروازے بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں مکڑی…

    • غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا  دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم  جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا …

    • ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا میں نے اُس کی بے سمتی کو سمتِ تعیّن دی  اُس کے پژمردہ وجود میں رمقِ اشتیاق کی شمع فروزاں کی  حرفِ خاموش کو آہنگِ وقار کی جِلا بخشی، اُس کی مدھم سانسوں میں توقیرِ اظہار کی حرارت…

    Back to top button