اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
افسانچہ | کِھلونا | باسط پتافی

افسانچہ | کِھلونا صبح کی سفیدی میری آنکھوں میں تیر رہی ہے اور ہونٹوں پر شبنم رقص کر رہی ہے مگر میں اداس ہوں یا میرا دل اداس ہونا چاہتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ شاید کوئی ماضی کا قصہ کھٹک رہا ہو یا مستقبل کی کوئی چنتا گھیر رہی ہو…
لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

لمس کا خواب اک خواہش ہے کہ معجزہ جنم لے اور میں مٹی بن جاؤں وہ مٹی جسے کوئی صوفی کمہار اینٹوں میں ڈھالے اور اُن اینٹوں کو تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے پھر جب تُو سجدے میں جھکے میں تیرے ماتھے سے لپٹ جاؤں تیری…
کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں گم ہیں تھرکتے ہوئے دونوں پنچوں پہ بادل ابھی دور…
عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر وہ کسی اور کی محبت تھی یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر آشنا کر گیا ہر اک غم سے کوئی احسان کرگیا مجھ پر منزلوں کی تلاش میں رستہ کتنا دشوار ہو گیا مجھ…
غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو اپنا نقصان تھوڑی ہوتا ہے آستیں جھاڑ کر کہا میں نے …
غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا میں ایک حجرۂ درویش میں مقیّد تھا مگر گزرتی ہوا نے یونہی سلام…





















