17 سیکنڈز ago

    غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

    غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی…
    28 منٹس ago

    غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

    غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو…
    35 منٹس ago

    پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

    پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے…
    1 دن ago

    اپنی بات | ساجد علی امیر

    اپنی بات عصرِ حاضر برق رفتار اور فتنہ پرور ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی کے مختلف ٹولز نے مواد…
    3 دن ago

    غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

    غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں  اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان میں اس کے کرے بات کوئی  اور اونچی نہ رہے…

    • غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے کو شبنم میں گوندھ کر ہم نے سرشتِ عالمِ اَضداد…

    • پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے، اور تم… کنول کے پھول پر شبنم کی ایک بوند…

    • اپنی بات | ساجد علی امیر

      اپنی بات | ساجد علی امیر

      اپنی بات عصرِ حاضر برق رفتار اور فتنہ پرور ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی کے مختلف ٹولز نے مواد اور معلومات کی دستیابی کو سہل اور تیزتر بنا دیا ہے ‘ جس سے یہ تاثر فروغ پا رہا ہے کہ کتاب کا وجود آئندہ چند برسوں میں ختم ہو…

    • غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے  لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں  بارش کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کوئی دن  اب یوں…

    • پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی  اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں لکھی گئی ہیں جن میں ردیف کو قافیے سے پہلے…

    شعر و شاعری

    • غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں  اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان…

    • غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے…

    • پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے،…

    • غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے  لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں  بارش…

    • پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی  اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں…

    • غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں…

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،…

    • غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں…

    • پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ |  ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس  جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے …

    • گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے  ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی  تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند…

    • غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے  ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل…

    • اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے…

    Back to top button