اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل
نئی محبتوں کا واہمہ دو موسموں کی خوشبو سے مہکی ہوا، کچے صحنوں میں پڑی دھوپ، ٹھنڈے، گرم پانیوں کے امتزاج کا گداز نئی مگر بے معنی محبت کو جنم دیتا ہے مسافتوں کا تعین کرنے سے بہتر ہے، گھر کو جاتی کچی سڑک پہ پڑے قدموں کے نشان…
-
تنسیخ | اویس ضمؔیر
تنسیخ یہ جہاں اِک طویل و ادَق کوڈ کا مجھ کو مظہر سا لگنے لگا ہے۔۔۔ کسی طاق کوڈر کا خوابِ فُسوں سطر در سطر لکّھا گیا ایک لامنتہی کوڈ جو اَن گنت لمبے روٹین پر مشتمل، جن میں زیریں مزید اور روٹین ہیں زندگی اور ہر ایک احساس کے…
-
غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم
غزل اک مسلسل تهكن محبت ہے پھر بھی میرا چلن محبت ہے خوب پہچانتا ہے دستک کو کہہ رہا ہے بدن ، محبت ہے وہ کسی اور کا نہیں ہو گا یہ نہیں حسنِ ظن ،محبت ہے ہم نے چارہ گری میں یہ سیکھا زخم کا پیرہن محبت ہے مجھ…
-
غزل | درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے | حارث بلال
غزل درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے ماؤں کے بعد ایک نئی کائنات ہے چھوٹی سی اس زمین پہ چھوٹا سا ایک گھر وہ تھی تو لگ رہا تھا یہی کائنات ہے تارے دکھائی دیتے ہیں پتھر جڑے ہوئے وہ قبر اک سمیٹی ہوئی کائنات ہے میں بد نصیب مٹی…
-
غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف
غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں میں دنیائے دل کو زیر و زبر کر رہا ہوں میں کرنا نہیں تھا عشق مگر کر رہا ہوں میں جس غم نے روز و شب پہ سیاہی انڈیل دی…
-
غزل | دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں | کومل جوئیہ
غزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں یہ کام ہم سے نہ ہو پائے گا کسی صورت خزاں رسیدہ شجر کو بھی سایہ دار کہیں جسے بھی دیکھیے ہنستا ہے رونے والوں پر کوئی نہیں ہے یہاں جس کو…




















