13 سیکنڈز ago

    غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

    غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا…
    10 منٹس ago

    سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

    سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے…
    4 گھنٹے ago

    بسنت/ کرن نعمان، کراچی

    لاہور کا اسمان رنگوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ہر طرف پتنگیں ہی پتنگیں دکھائی دے رہی تھیں ۔ چھوٹی…
    1 دن ago

    غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

    غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ…
    1 دن ago

    غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

    غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں  کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد اُس کی  گھپ اندھیرے میں بُلاتا ہے خدا اپنی طرف …

    • سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے بدن، یہ خاک کے مٹتے ہوئے پیکر کبھی رکتے نہیں،…

    • بسنت/ کرن نعمان، کراچی

      بسنت/ کرن نعمان، کراچی

      لاہور کا اسمان رنگوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ہر طرف پتنگیں ہی پتنگیں دکھائی دے رہی تھیں ۔ چھوٹی بڑی گڈّیاں گڈّے اور بوکاٹا کے نعرے ۔ آخر کار دو دہائیوں کے بعد حکومت وقت نے لاہور کے شہریوں کو بسنت منانے کی اجازت دے دی تھی اس لیے…

    • غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں کہیں دفن ہے ارمان ہمارا ہم لوگ محبت میں گرفتار…

    • غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے  تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات…

    • غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے  جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے  قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر  کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال  اب پوچھتے ہیں سب ترے بارے فقیر سے    رکھتا ہے اپنے…

    شعر و شاعری

    • غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں  کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد…

    • سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے…

    • غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں…

    • غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے  تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ…

    • غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے  جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے  قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر  کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال  اب پوچھتے…

    • غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے  رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے   بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند  یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے  آنکھ لگ جائے بھی…

    • میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں   میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو   پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں…

    • غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے  تمہارے حسن کے جیسی…

    • لیکن | حمزہ-ز

      لیکن | حمزہ-ز

      لیکن ہو سکتا ہے سارے خواب سچ نہ ہوں یہ ہماری ذہنی کشمکش کا عکس ہیں   ہوسکتا ہے  ہمارے اندازے غلط ہوں انسان  اور خدا کے متعلق ہم نے ان دونو کو نہیں بنایا   ہو سکتا ہے  ہم…

    • ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ

      ریڈیو دل شاید آج ریڈیو بن گیا ہے… کسی پرانی فریکوئنسی پر تمہاری آواز آ رہی ہے  تھوڑا شور ہے بیچ میں، شاید یادوں کا… تم کچھ کہہ رہی ہو، بالکل ویسے ہی، جیسے آخری بار کہا تھا  ”رکو، میں…

    • غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام

      غزل ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں  کوئی بھی روپ مجھے زندگی کا راس نہیں اندھیرے جیسا اجالا ہے بے اثر مجھ پر وہ آئینہ ہوں جسے تابِ انعکاس نہیں ہر ایک زخم ہے عریاں…

    • غزل | چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے | ارمان جودھپوری

      غزل | چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے | ارمان جودھپوری

      غزل چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے  دیکھ تو میری نظر جا کے کہاں ٹھہری ہے    ایک مدّت سے مرے لب کا دیچہ نہ کھلا  منجمد آہ مری سوئے زباں ٹھہری ہے  اپنے پتے تو مری…

    Back to top button