1 منٹ ago

    سفر زادے | مہرو ندا احمد

    سفر زادے سفر زادے!   میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے   تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے…
    7 گھنٹے ago

    ہنس راج اور کسبی/ شاہین کمال ، کیلگری

    میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا. وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور…
    9 گھنٹے ago

    غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

    غزل  سید ضیاء حسین  مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے ہو سکے درد کا درماں تو…
    10 گھنٹے ago

    غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

    غزل  محمد اکرام قاسمی    جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت  دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت   …
    10 گھنٹے ago

    غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

    غزل  عرفان صادق  مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی   سسکیاں نہیں…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • سفر زادے | مہرو ندا احمد

      سفر زادے | مہرو ندا احمد

      سفر زادے سفر زادے!   میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے   تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے ہیں  دل برباد روتا ہے  تجھے دنیا کی خوشبو ساتھ لے کر پھر رہی ہے  اور تو تاخیر پر تاخیر کرتا جا رہا ہے  یہاں پتھر ہوئی جاتی ہیں آنکھیں …

    • ہنس راج اور کسبی/ شاہین کمال ، کیلگری

      ہنس راج اور کسبی/ شاہین کمال ، کیلگری

      میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا. وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور میں تیزی سے اوپر چڑھ رہا تھا. ہماری زور دار ٹکر نے جہاں اس کا خریدا گیا سامان بکھیر دیا وہیں میرا وجود بھی. تھڑے سے گرنے باعث اسے گھٹنے…

    • غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

      غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

      غزل  سید ضیاء حسین  مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے ہو سکے درد کا درماں تو کِیا بھی جائے سوچتا رہتا ہوں، اِک بات کہوں میں کُھل کر اِتنی ہمت تو مِلے، اُن سے کہا بھی جائے تیری تصویر جو دیکھی تو یہ خواہش جاگی تجھ…

    • غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

      غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

      غزل  محمد اکرام قاسمی    جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت  دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت    اِک آنکھ کہ تاریکیءِ منظر کی اَمیں ہے اِک آنکھ کہ ہے راہروِ خوابِ محبت    اِک حُسن کہ ہے تیرہ شبِ خامہ نوائی  اِک حُسن کہ روشن ہے جہاں…

    • غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

      غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

      غزل  عرفان صادق  مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی   سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں جب سے ہم نے دیکھی ہیں میتیں چراغوں کی   راستے بدلنے میں عافیت سمجتی ہیں جب ہوا پہ کھلتی ہیں سیرتیں چراغوں کی  …

    • غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

      غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

      غزل  سعید شارق  دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی!   ​کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے! سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی   ​گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ اُترتی ہی نہیں! لاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹُوٹ…

    شعر و شاعری

    • سفر زادے | مہرو ندا احمد

      سفر زادے | مہرو ندا احمد

      سفر زادے سفر زادے!   میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے   تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے ہیں  دل برباد روتا ہے  تجھے دنیا کی خوشبو ساتھ لے کر پھر رہی ہے  اور تو تاخیر پر تاخیر…

    • غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

      غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

      غزل  سید ضیاء حسین  مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے ہو سکے درد کا درماں تو کِیا بھی جائے سوچتا رہتا ہوں، اِک بات کہوں میں کُھل کر اِتنی ہمت تو مِلے، اُن سے کہا بھی…

    • غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

      غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

      غزل  محمد اکرام قاسمی    جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت  دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت    اِک آنکھ کہ تاریکیءِ منظر کی اَمیں ہے اِک آنکھ کہ ہے راہروِ خوابِ محبت    اِک حُسن کہ ہے…

    • غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

      غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

      غزل  عرفان صادق  مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی   سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں جب سے ہم نے دیکھی ہیں میتیں چراغوں کی   راستے بدلنے میں عافیت سمجتی…

    • غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

      غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

      غزل  سعید شارق  دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی!   ​کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے! سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی   ​گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ…

    • اک گروہ ِعجب | ذیشان اطہر

      اک گروہ ِعجب | ذیشان اطہر

      اک گروہ ِعجب ۔۔۔۔۔۔ اور قیامت کے دن ، عصر کے بعد کا وقت ہو گا  اہل دنیا کے سب فیصلے ہو چکے ہوں گے,جب بار بار اپنے سینہ و سر پیٹتے اک گروہِ عجب کو ملائک ہنکاتے ہوئے ،…

    • غزل | حوالے صبح کے کر آیا کب کا چرواہا | احسان خان زرین

      غزل | حوالے صبح کے  کر آیا کب کا چرواہا | احسان خان زرین

      غزل حوالے صبح کے کر آیا کب کا چرواہا  ہمارے خواب کی بھیڑوں کو شب کا چرواہا یہ بات طے ہے کہ اب کائناتی ریوڑ بھی کسی طرف کو تو ہانکے گا رب کا چرواہا  بلا کے دشت میں رحمت…

    • غزل | پرندہ کینوس پر جو بنایا، بولتا ہے | فیصل عجمی

      غزل | پرندہ کینوس پر جو بنایا، بولتا ہے | فیصل عجمی

      غزل پرندہ کینوس پر جو بنایا ، بولتا ہے یہ ایسی شاخ پر ہے جس کا سایہ بولتا ہے   میں اپنے عکس کے انجام سے خود ڈر رہا ہوں یہ وہ درویش ہے جو ” مایہ مایہ“ بولتا ہے…

    • غزل | راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے | شاہد ذکی

      غزل | راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے | شاہد ذکی

      غزل راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے میں نہ چاہوں بھی تو جلنا ہی مری زندگی ہے   چار موسم مرے چہرے ہیں، زمانہ ہوں مَیں وقت پر رنگ بدلنا ہی مری زندگی ہے   آپ مجھ…

    • کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے | زاہد خان

      کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے | زاہد خان

      کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے کہانی بہت دیر تک جاگتی ہے یہاں تک کہ سب سُننے والے  پرانے زمانے کی سب چاہتوں کا مزہ چکھ کے جب سونے لگتے ہیں تب تک کہانی نئے موڑ سے آنے والے زمانے…

    • کتاب میں لحد | خالد ریاض خالد

      کتاب میں لحد | خالد ریاض خالد

      کتاب میں لحد مٹی کے برتن کورے بدن پہ پھولوں کی پوشاک سجائے شو کیس کی بھٹی میں جلتے رہتے ہیں تتلیاں پھولوں کے رنگ پروں پہ سجا کر کتابوں میں حنوط ہو جاتیں ہیں Author توحید زیب روحِ عصر…

    • غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں ہمیں کسی نے ابھی تک نہیں کیا دریافت ہم اپنے وقت کا گمنام برِاعظم ہیں ہزار افق سے ہمیں دیکھو تو کُھلے تم پر…

    Back to top button