33 سیکنڈز ago

    غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

    غزل یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی  یہ وہ خطہ ہے جس میں برف بھی پانی نہیں ہوتی …
    2 دن ago

    غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

    غزل عمر بھر انتظار چھوڑ گئے  ہم کو اس طرح یار چھوڑ گئے  جو خزاں کے تھے پیروکار میاں  جاتے…
    3 دن ago

    خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

    داستاں گو بزرگ کہتے ہیں کہ جنات میں ایک عجیب خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار…
    3 دن ago

    جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

    وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے کچی پنسل سے دیوار پر اپنا خواب پینٹ کیا تھا۔ اماں بابا نے…
    3 دن ago

    ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

    کتاب : ہیرو شیما کے آنسو (سفرنامہ) مصنفہ: بینا گوئندی تبصرہ: کنول بہزاد بینا گوئندی منفرد سوچ کی حامل ایک…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی  یہ وہ خطہ ہے جس میں برف بھی پانی نہیں ہوتی  تمہارے ساتھ رہ کر اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا  تمہارے ساتھ رہنے سے پریشانی نہیں ہوتی  شعورِ حسن خیزی میں کچھ ایسے بھی قرینے ہیں  بدن بے پیرہن ہو…

    • غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل عمر بھر انتظار چھوڑ گئے  ہم کو اس طرح یار چھوڑ گئے  جو خزاں کے تھے پیروکار میاں  جاتے جاتے بہار چھوڑ گئے  ہم سے بھی ملنے کوئی آتا نہیں  اس کو بھی غم گسار چھوڑ گئے  اے خدا ان سبھی کو خوش رکھنا  مجھ کو جو اشک بار…

    • خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

      خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

      داستاں گو بزرگ کہتے ہیں کہ جنات میں ایک عجیب خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار پھر جوان اور طاقتور ہو جاتے ہیں، جیسے زندگی آخری بار ان کے وجود میں لوٹ آئی ہو۔ شاید وہ بھی اس سے مبرا نہ تھی وہ جب اپنی جوانی…

    • جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

      جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

      وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے کچی پنسل سے دیوار پر اپنا خواب پینٹ کیا تھا۔ اماں بابا نے جب دیکھا تو بابا چلائے: "ابھی کچھ دن پہلے ہی تو دیوار صاف کروائی تھی، تم نے پھر گندی کر دی۔ جاؤ حمیدہ سٹور سے برش اور پینٹ کی بالٹی…

    • ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

      ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

      کتاب : ہیرو شیما کے آنسو (سفرنامہ) مصنفہ: بینا گوئندی تبصرہ: کنول بہزاد بینا گوئندی منفرد سوچ کی حامل ایک درویش منش انسان ہیں ۔وہ جب بھی ملتی ہیں اپنی شخصیت کا ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہیں ۔ بینا نے بہت سفر کیے ہیں ، ایک دنیا کو چشم…

    • غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت تمہاری اٹھا ہے تمہاری شرافت سے پردہ  میاں! کھل چکی…

    شعر و شاعری

    • غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی  یہ وہ خطہ ہے جس میں برف بھی پانی نہیں ہوتی  تمہارے ساتھ رہ کر اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا  تمہارے ساتھ رہنے سے پریشانی نہیں ہوتی  شعورِ حسن خیزی…

    • غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل عمر بھر انتظار چھوڑ گئے  ہم کو اس طرح یار چھوڑ گئے  جو خزاں کے تھے پیروکار میاں  جاتے جاتے بہار چھوڑ گئے  ہم سے بھی ملنے کوئی آتا نہیں  اس کو بھی غم گسار چھوڑ گئے  اے خدا…

    • غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت…

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ…

    • غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں…

    • کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی  ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے  ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے  ہری بھری کہیں کہیں نظر کی…

    • سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند  روشن ہوئے جا رہے ہیں  نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے  قرب میں بھی یہاں  اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو…

    • سائرن | ظہور منہاس

      سائرن  | ظہور منہاس

      سائرن تمام ٹینکوں پر ایک ہی لوگو پینٹ کیا گیا ہے  (ایک فاختہ کی چونچ میں سفید گلاب ) اور ان کے سائیلنسرز سے ہر لمحے ایک نیا رنگ نکلتا ہے سفید، سبز ، نیلا اور گلابی  اور ہوا میں…

    • غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں  اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان…

    • غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے…

    • پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے،…

    • غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے  لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں  بارش…

    Back to top button