اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
پزل بورڈ / ثمرین مسکین ، اٹک

حیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے ترتیب کررہا تھا،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا راج تھا،نمل نے اس کے ہونٹوں پر گہری ہوتی مسکان کو دیکھا تو آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب جا رکی،اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ…
بارش / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

آخر کار رات کے پچھلے پہر بارش برس پڑی۔اسے لگا کہ بارش جب برسی تو صرف بارش نہیں بلکہ یادیں برس رہی تھیں۔ مجھے وہ وقت یاد آیا۔ جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، بارش کو سب کچھ دھو دینے کی اجازت دیتا ہوا، جیسے کچھ چیزوں کو بچانے…
موجاں ہی موجاں/ کلثوم پارس

یوں لگ رہا تھا جیسے سورج سوا نیزے پر ہو۔ روز کی طرح آج بھی گھرمیں کہرام برپا تھا۔ بال کھولے, آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے, حال بے حال ،کمرے کی ہر چیز کو زیر و زبر کرنے کے بعد اب ٹانگیں پسارے مختلف ڈراؤنی آوازیں نکال رہی تھی۔ آنکھوں میں…
سبائے تخیّل | اویس ضمیر

سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند روشن ہوئے جا رہے ہیں نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے قرب میں بھی یہاں اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو ہیں لا تعلّق مگر ہیں مداروں میں جکڑے ہوئے دائرے۔۔۔۔…
سائرن | ظہور منہاس

سائرن تمام ٹینکوں پر ایک ہی لوگو پینٹ کیا گیا ہے (ایک فاختہ کی چونچ میں سفید گلاب ) اور ان کے سائیلنسرز سے ہر لمحے ایک نیا رنگ نکلتا ہے سفید، سبز ، نیلا اور گلابی اور ہوا میں خوشبو بکھیرتا چلا جاتا ہے سوئے ہوئے لوگ اس خوشبو…
سویرا/ محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

ہما نے دور جاتے ایک وجود کو الوداعی نظروں سے دیکھا اور قمیض سرکا کر، کندھے کی گولائی پر پڑا نیل کا نشان دیکھ کر مسکرائی۔ پسینے سے تر بدن پر لباس چپک رہا تھا۔ دھول اور مٹی میں محنت و مشقت کے باعث سانسیں بے قابو ہو رہی تھیں۔…






















