24 سیکنڈز ago

    لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

    کہتے ہیں کہ جب لاڈلی پیدا ہوئی تو رونے کے بجایے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ کچھ کے لیے یہ پریشان…
    57 منٹس ago

    منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

    "باجی مجھے گاؤں جانا ہے کل چھٹی کروں گی۔ پھر سوموار کو آؤں گی۔ آپ آج ہی کپڑے دھلوا میں…
    4 گھنٹے ago

    گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

    گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں!…
    5 گھنٹے ago

    غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

    غزل مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے  برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے  کرو یہیں سے مرمت…
    2 دن ago

    غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

    غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

      لاڈلی/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

      کہتے ہیں کہ جب لاڈلی پیدا ہوئی تو رونے کے بجایے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ کچھ کے لیے یہ پریشان کن تھا اور کچھ کے لئے یہ حیرانی کا باعث تھا۔ مشترکہ طور پر لاڈلی کو قدرت کی لاڈلی قرار دے دیا گیا اور یوں لاڈلی کا نام لاڈلی رکھ…

    • منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

      منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

      "باجی مجھے گاؤں جانا ہے کل چھٹی کروں گی۔ پھر سوموار کو آؤں گی۔ آپ آج ہی کپڑے دھلوا میں نے کل نہیں آنا۔” "تم پھر جمعہ کے دن کپڑے دھونے آگئی ہو، میں نے آج نہیں دھلوانے کپڑے” بھابھی کی ملازمہ کے ساتھ بحث جاری تھی۔  جمعہ کے دن…

    • گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں! مجھ سے صرف ایک لفظ کہیں کھو گیا ہے… بس اُسی کی تلاش ہے۔ Author توحید زیب روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں…

    • غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے  برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے  کرو یہیں سے مرمت گری ہوئی دیوار  کہ اس کے نیچے یتیموں کا مال رکھا ہے  یہ اور بات کہ ہے ڈور ٹوٹنے والی  کنوئیں میں ڈول تو پیاسے نے ڈال رکھا ہے   ذرا…

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے انھی شب زدوں کے بیچ  رکھنا تم اپنی آنچ کو…

    • مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک | وسیم رضا ماتریدی

      مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک | وسیم رضا ماتریدی

      مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک : وسیم رضا ماتریدی   انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے سمجھا کہ اس نے زمین کو مسخر کرنا ہے حالانکہ یہ اسکے پاس خدا کی طرف سے دی گئی امانت تھی۔ وہ اس پر…

    شعر و شاعری

    • گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ | احمد علی شاہ مشالؔ

      گمشدہ لفظ یہ بکھری ہوئی کتابیں اور اخبارات جو تم دیکھ رہے ہو  یہ پاگل پن کا کوئی دورہ نہیں! مجھ سے صرف ایک لفظ کہیں کھو گیا ہے… بس اُسی کی تلاش ہے۔ Author توحید زیب روحِ عصر کا…

    • غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل | مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے | نسیم عباسی

      غزل مرے وجود کا اب تک خیال رکھا ہے  برتنے والے نے برتن سنبھال رکھا ہے  کرو یہیں سے مرمت گری ہوئی دیوار  کہ اس کے نیچے یتیموں کا مال رکھا ہے  یہ اور بات کہ ہے ڈور ٹوٹنے والی …

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے…

    • غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے                                 …

    • راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے! پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟ بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی کہاں راوی جہلم…

    • غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں کسی کے ہوں گے، مگر شاعری کے باپ نہیں  سخن وری کا لبادہ منافقت سا ہے جو اصل آپ ہیں اُس کو چھپانا پاپ نہیں؟  نیا زمانہ…

    • زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں  جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے وہ ممتا سی عورت…

    • بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک بند گلی میں جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں دیمک زدہ دروازے بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں مکڑی…

    • غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا  دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم  جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا …

    • ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا میں نے اُس کی بے سمتی کو سمتِ تعیّن دی  اُس کے پژمردہ وجود میں رمقِ اشتیاق کی شمع فروزاں کی  حرفِ خاموش کو آہنگِ وقار کی جِلا بخشی، اُس کی مدھم سانسوں میں توقیرِ اظہار کی حرارت…

    • غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں ‏‎میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے ‏‎کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں…

    • قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن  خدوخال دریا سے  معلوم ہونے لگے ہیں لہریں منہ پر  مچلنے لگتی ہیں کون لوگ ہیں؟ جو پرانے راگ الاپتے…

    Back to top button