تنسیخ | اویس ضمؔیر

تنسیخ
یہ جہاں اِک طویل و ادَق کوڈ کا
مجھ کو مظہر سا لگنے لگا ہے۔۔۔
کسی طاق کوڈر کا خوابِ فُسوں
سطر در سطر لکّھا گیا
ایک لامنتہی کوڈ جو
اَن گنت لمبے روٹین پر مشتمل،
جن میں زیریں مزید اور روٹین ہیں
زندگی اور ہر ایک احساس کے
کلیے لکّھے گئے
ہر عمل کے ہر اِک زاویے کے لیے
پیچ در پیچ لڑیاں مرتّب ہوئیں
شے کوئی ہو اُسے
اِک مشینی زباں میں
مقدّر کِیا جا چکا
شش جہت پردہء سیمی تانا گیا
سب مناظر کی ترتیب طے ہو چکی
اور ہم برقی ریشوں کے گچّھے اِسے
اِک نظامِ عمل مان کر
بس جیے جانے پر گویا مامور ہیں۔۔۔
کچھ دنوں سے مگر ایک احساس ہے۔۔۔
جیسے پھولوں سے خوشبو کہیں کھو گئی
زنگ جیسے خزاں سے کہیں۔۔۔
پیش تر ہی ہر اِک برگ پر چڑھ گیا
شام پر رات کا شک سا ہونے لگا
دیر تک دھندلکا اب ٹھہرنے لگا
آسماں زرد گدلا سا اِک سائباں رہ گیا
ماہ و انجم بھی معدوم سے ہو گئے
اور وقتاً فوقتاً۔۔۔
مناظر میں پِکسل سے دِکھنے لگے
سبز مدّھم لکیریں نمایاں ہوئیں
غیر مرئی کسی جال کی۔۔۔
گرہیں کُھلنے لگیں
جیسے پردہ دری کی گھڑی۔۔۔
بس قریب آ لگی۔۔۔
پھر کئی روز اوپر ہوئے۔۔۔
دائمی اس فریبِ نظر پر یہ دل
مطمئن نہ رہا
رفتہ رفتہ یہ اعصاب شل ہو گئے
ایک افسردگی، اِک پراگندگی
دائماً طاری رہنے لگی
گفتگو شور لگنے لگی
آنکھ دھندلا گئی اور چہرے سبھی
اِک سے دِکھنے لگے
بے حسی ریشے ریشے میں رچ بس گئی
لمس احساس و حدّت سے عاری ہُوا
خالی خالی مِرا ذہن رہنے لگا
حرف و شعر و سخن بے اثر ہو گئے
بھولنے لگ گیا ہوں کہ کب کیا کہا
اور کب کیا کِیا، کیوں کِیا
ہر کسی سے مِرا ربط کم یاب تر ہو گیا۔۔۔
گَرد مجھ پر تواتر کی پڑنے لگی
اور غبارِ تعطّل ہر اِک شے پہ بھی چھا گیا
ہے یہی میرا غالب گماں۔۔۔
اِک مقرّر شدہ وقت پر
پاسبانی کی سطریں۔۔۔
طبق در طبق کالعدم ہو گئیں
کوتوالی نظام اُٹھ چکا
ایک اِک کر کے ہر انصرامِ جہاں کی لڑی۔۔۔
نسخ ہونے لگی
کوڈ کی لائنیں مٹتی جاتی ہیں
جیسے فنا کے کسی
ذیلی روٹین کی ابتدا ہو گئی !




