
نوابوں اور رئیسوں کے گھر شادی بھی کسی میلے ٹھیلے سے کم نہیں ہوتی ایسی بھانت بھانت کی رسمیں اور مزے مزے کے پکوان
حویلی کی سجاوٹ ایسی جیسے روشنیوں کا شہر
زنان خانہ میں تیاریاں کسی محل کی ملکہ اور شہزادیوں کا راج ہو، کمخواب ،جامہ وار مخمل اور نجانے کون کون سے قیمتی دیدہ زیب لباس ،جگنو کی طرح چمکتی ہوئی لڑکیاں متمدن مہذب خواتین ،باوقار مرد۔۔
گہما گہمی ،ہنسی کی قلقاریاں کہیں میٹھے پانی کی گلوریاں کہیں چاندی کے اوراق میں لپٹی گلقند، سارا گھر گلاب اور موتیوں کے پھولوں سے بھرا سجا، خوشبوؤں میں لپٹا ہوا ، چہل پہل ،حلوے مانڈے ،
رنگ برنگے شربتوں سے مہمانوں کا سواگت
ایسی ہی تیاری نواب شکیل احمد کے گھر میں چل رہی تھی جو جدی پشتی رئیس تھے ، کمال خوبی سے اپنے پرکھوں کے کاروبار اور ساکھ کو سنبھال رکھا تھا آج ان کے بڑے بیٹے کی نکاح اور بارات کی تقریب تھی ، پانچ سال پہلے بڑی بیٹی بیاہی تھی اب اکلوتے بیٹے سجیل احمد کی باری تھی اس کے بعد ایک چھوٹی نوعمر بیٹی رخسارتھی بارہویں کے امتحان دے کر فارغ ہوگئیں جو اب اپنے اکلوتے بھیا کی شادی کی تیاریوں میں خوشی خوشی مگن تھیں
سچ تو یہ ہے کہ اس کے امتحانات کے ختم ہونے کے بعد ہی یہ شادی کی تاریخ رکھی گئ تھی، تقریب کی ساری تیاریاں مکمل تھیں ،مہمان آنا شروع ہوگئے جن کے لیے حویلی کے بڑے دالان میں انتظام کیا گیا تھا نوکر چاکر بھاگ بھاگ کر حکم بجا لا رہے تھے مالکن نے شادی کے موقعہ پر سب کو ہی کئ نئے قیمتی جوڑے بنوا کر دئیے تھے اب وہ ان تحفوں کو حق حلال کرنے کے لیے زیادہ ہی مستعدی سے خدمت میں لگے تھے، ویسے بھی خاندانی ملازم تھے مالک کے ابرو کی جنبش سمجھتے تھے ،ایک اشارے پہ جان دینے کو تیار ،یہ تو پھر اکلوتے بیٹے کی شادی کی تقریب تھی ہنس مکھ سجیل احمد سب کالاڈلہ ،راج دلارا، بوڑھی مامائیں آتے جاتے بلائیں لے رہی تھیں اور جس کو دیکھو اماں بی ، خالائیں پھوپھیاں صدقے واری جارہی تھیں، ماشاءاللہ سے تھےبھی بہت پیارے اللہ نظر بد سے بچائے اماں نے تیاری کے بعد دیکھا ماتھا چوما امام ضامن بازو پہ باندھا اور نجانے کتنے نوٹ سر پہ وار کر اماں خورشید کو دئیے جو سب سے بڑی ملازمہ تھیں ،جنھوں نے بچپن سے دولہے کو پالا تھا ان کی آنکھیں بھی بھر آئیں اور انھوں نے بھی شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا تو سجیل احمد نے بھی ان کے سامنے سر جھکا لیا اور کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اظہار محبت کرڈالا،
چھوٹی بہن رخسار بھی ساتھ ساتھ تھی چمکتی دمکتی پیارے سے پیازی رنگ کے کپڑوں میں نازک سی گڑیا، سب دالان میں جمع ہو چکے تھے مہمانوں کی آؤ بھگت خوب ہوگئ ، پھر دولہا پہنچا رسم سہرا بندی ہوئی سلامیاں دی گئیں، ہر کام وقت پر مکمل ہوگیا اب بارات کی روانگی کا وقت آگیا ، نواب شکیل احمد جیسا زیرک ہی وقت کی قدر جانتا تھا ایک بھی لمحے انتظار کرنے اور کروانے کا قائل نہ تھے ، بارات دھوم دھام سے نکلی ،سجا سجایا سفید اجلا گھوڑا جس کی چمکتی کالی آنکھیں، گردن پہ لہراتے لمبے بال اس پر خوبرو دولہے میاں سوار۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں خیر سے دلہن کے گھر جاپہنچے
،شکیل احمد کے بچپن کے دوست اور کاروباری شریک میاں نور محمد کی اکلوتی صاحبزادی حاجرہ کو شادی کا عندیہ دیا اور پلک جھپکتے میں دوستی رشتے داری میں تبدیل ہوگئی ، بارات کا استقبال شان شایان طریقے سے ہوا ، تواضع خاطر داری انتہائی معیاری ،ان گنت پکوان کہ چکھتے چکھتے ہی پیٹ بھر جائے ،انتظام۔و انصرام اتنا بڑھیا کہ ہزار بندہ اس جگہ بیٹھا کم لگ رہا تھا ، کھانے کی میزیں اشتہا انگیز پکوانوں سے بھری ،خاص وردی والے ویٹر بلائے تھے کہ اشارہ ہو اور چیز مہمان کے ہاتھ میں
مولوی صاحب کو احترام سے لایا گیا ،رسم نکاح ہوئی تازہ چھوارے کی کشتیاں مہمانوں کے سامنے پیش کردی گئیں اوربھی کئ خشک میوے کاجو، پستہ ،بادام بھی ساتھ رکھے تھے اگر سب مہمان مٹھیاں بھر بھر کے کھاتے تب بھی کم نہ پڑتے
ایسی شادیاں شاذو نادر ہی دیکھنے میں آتی ہیں
،سارے مرحلوں کے بعد دلہن کولایا گیا ،کس قدر خوبصورت جوڑا زیب تن کیے قیمتی زیورات سے لدی پھندی
بہت نفیس قیمتی کامدار دوپٹے کا گھونگھٹ نکالے ،دولہے کے ساتھ بٹھایا گیا ، ان کے صدقے اتارے گئے سالی تو تھی کوئی نہیں تو خالہ پھپھی ماموں چچا زاد بہنوں نے دودھ پلائی کی رسم نبھائی، دولہے میاں نے بھی فراخدلی سے جیب خالی کر ڈالی ،رخصتی کی تیاری ہوئی دلہن کے بوجھ سے زیادہ بھاری تو زیور کپڑے تھے جن کے بوجھ تلے دلہن خراماں خراماں چل رہی تھی ماں باپ خوش تھے بس ہلکا سا لپٹ کے روئے قرآن پاک کے سائے میں بارات دلہن کو رخصت کروا کے خیر خیریت سے گھر پہنچ گئ سب نے تحائف پیش کیے دونوں کا منہ میٹھا کروایا گیا، کئ طرح کی رسمیں ہوئیں پھر دلہن کو حجلہء عروسی میں پہنچایا گیا
تازہ پھولوں سے سجی سجائی موتیے کی خوشبو سے معطرفضا میں دلہن کا لہنگا پھیلا کر جہازی بیڈ پر بٹھا دیا گیا بستر کی صاف شفاف سلک کی سفید چادر میں سرخ گلاب کی طرح دلہن اپنی ساری حشر سامانیوں کے ساتھ براجمان ہوگئ بہت پیارا منظر تھا ،ان ساری رسموں میں رخسار ہر پل بھائی کے ساتھ تھی وہ ہر رسم میں بہت دلچسپی لے رہی تھی بے شک اس کا نام رخسار تھا لیکن اب وہ خوشی سے گلنار ہو رہی تھی، اس آخری رسم میں وہ بہت خوش تھی ،رخسار اور بڑی بہن گلشن نے دلہن تک پہنچنے کے لیے بھائی کو کمرے کی چوکھٹ پہ ہی روک لیا اور لگی مانگنے نیگ کے نام پر موٹی رقم ، یہاں بھی دولہے میاں سرخرو ہوئے , جب انھوں نے منہ بولی سالیوں کو اتنی رقم دی یہ تو پھر سگی بہنیں تھیں انھوں نے کہا ایک منٹ رکیے ذرامجھے کمرے میں الماری تک جانے دیں الماری دروازے کے ساتھ ہی تھی الماری کھولی اور ہاتھ ڈال کر دو ڈبے نکالے ،۔”۔ہائے بھیا ” رخسار تو اپنا ڈبہ ہاتھ میں پکڑ کر بھائی سے لپٹ گئ ،” ارے پگلی کھول کے تو دیکھو ” بھائی نے لاڈ سے کہا دونوں ڈبوں میں بہنوں کے لیے سونے کا جڑاؤ کنگن جگمگا رہے تھے بہنیں خوشی سے نہال ہوگئیں ، اماں بی کو تو پہلے ہی سونے کا سیٹ بنا کر دیا تھا ،اللہ کا کرم سب کام خوشی خوشی سے نپٹ گئے ، سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے ،لیکن رخسار بھابھی کے پاس ہی بیٹھی رہی ایک ایک زیور گہنا دیکھتی اور سراہتی رہی , بھابھی صاحبہ بھی شرما شرما کر دوہری ہوئے جارہی تھیں، چاند کی چودھویں رات اور چاند دو ہوں تو کیا ہی بات ,,ایک آسمان پہ دوسرا پہلو میں ، سجیل میاں نے آخر رخسار کو شب بخیر کہا اور مسکرا کر باہر نکل گئ اور دروازہ بند ہوگیا ،
رخسار کو بہت تجسس تھا کہ شادی کے بعد دولہا دلہن ایک کمرے میں رہتے ہیں، آپی کی شادی کے وقت وہ صرف بارہ تیرہ سال کی تھی بس رخصتی کے وقت یاد تھا، اسے بعد کے معاملات کا بلکل علم نہیں ہوا ۔۔۔ اب چونکہ دلہن گھر آئی تھی اس لیے اسے عجیب سا احساس تھا
رخسار بڑی بہن کی شادی کے وقت کم عمر تھی اس لیے اماں بی نے کبھی بھی اسے بڑوں میں بیٹھنے نہیں دیا بڑی بہن یا کوئی خالہ پھپھو کی بیٹیاں آتیں تو سختی سے منع تھا کہ چھوٹی بہن کے سامنے کوئی ایسی ویسی بات نہ کی جائے بچیاں معصوم ہی اچھی لگتی ہیں , چھوٹی عمر کی پکی لڑکیاں انھیں پسند نہیں تھیں کہ جب وقت آئے گا تب خود ہی سب معلوم ہوجائے گا، احتیاط اور دیکھ بھال میں اماں بی بہت کڑی تھیں مجال نہیں کہ کوئی بیٹی بیٹا پلٹ کے جواب دے خاص طور پر بیٹیاں ،ان کو زیادہ بولنے والی،اور کھی کھی کر کے ہنسنے والی لڑکیاں بلکل پسند نہیں تھیں ،بہت اچھی تربیت کی تھی بیٹیوں کی سلیقہ شعار اور تمیزدار بنایا, جہاں رشتے کیے وہاں بے چون وچرا ہاں کردی ،اماں بی خاندان اور جاننے والوں ہمیشہ بہترین تربیت کے حوالے سے جانی گئیں ،بیٹے کا رشتہ بھی ان کا ہی انتخاب تھا جس پر سب نے ہی انھیں خوب داد دی
،اب رخسار کو سختی سے کہہ دیا کہ بھائی کے کمرے میں بلکل نہیں جانا ،جب تک وہ خود نہ بلائیں ، رخسار اس وقت تو کپڑے تبدیل کرکے اماں بی کے کمرے میں لیٹ گئ مگر دل میں کھد بد لگی تھی کہ ۔۔مگر کیا۔۔۔ اس کے معصوم ذہن میں کوئی خاکہ نہیں تھا ،نہ کچھ دیکھا نہ سنا ,صاف سلیٹ کی طرح اس کا دل و دماغ تھا اس کے ذہن میں ایک ہی بات آرہی تھی کہ شادی کے بعد کیا دولہا اور دلہن ایک ہی کمرے میں اکیلے رہ سکتے ہیں ، اس سے آگے اس کی سمجھ بوجھ جواب دے جاتی ، عجیب و غریب خیالوں میں گم سونے کے لیٹی مگر مگرمرغن غذا کھانے کی وجہ سے اس کو زیادہ ہی پیاس لگ رہی تھی پیاس کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کر ہی دیا تو سوچا جا کر پانی پی آئے پھر جب اماں بی کے ہلکے ہلکے خراٹے سنائی دینے لگے تو وہ چپکے سے اٹھی اور باہر نکل گئ بھائی کے کمرے کے باہر ابھی پہنچی ہی تھی کہ بھابھی کی جھرنوں جیسی ہنسی سنائی وہ ٹھٹکی اس کے قدم وہیں رک گئے ،بھائی کی آواز دھیمی سی سرگوشی کی طرح آرہی تھی پھر بھابھی کی ہنسی پھر بھابھی نے جواب میں کیا کہا ،سمجھ نہیں آیا لیکن بھائی کے زوردار قہقہے سے اندازہ ہوا کہ کچھ خاص مذاق ہوا ،وہ کچھ دیر وہیں کھڑی سنتی رہی ،کچھ عجیب سی آوازیں آنے لگیں ،کبھی چوڑیاں چھنکتیں ،کبھی بھابھی کی ہنسی کھنکتی ،بھائی کی آواز پھر ہنسی ،دس پندرہ منٹ وہ دروازے کے پاس کھڑی رہی اگرچہ کان نہیں لگائے لیکن پھر بھی کچھ قریب ہی تھی ,
آوازیں بہت دلفریب تھیں اور سننے میں دلچسپ ،رخسار محو تھی کچھ سمجھی کچھ نہیں سمجھی لیکن جو کچھ بھی سمجھی وہ خوشگوار ہی تھا وہ پھر پانی لینے بڑھی پانی پیا اور واپس اماں بی کے پاس جا لیٹی ،کب آنکھ لگی کب سوئی ،صبح اٹھی تو فورا” رات کی باتیں یاد آئیں وہ بھابھی سے ملنے بھاگی ،اماں نے بھانپ لیا زور سے بولیں” رخسار ،خبردار بھائی کے کمرے میں نہیں جانا ,. چلو جاؤ باورچی خانے میں بہن کے ساتھ ناشتے کی تیاری کرو، ”
"کیوں کل تو آپ نے کہا تھا صبح جلدی اٹھنا ناشتہ بھابھی کے گھر سے آئے گا” رخسار نے منہ پھلائے ہوئے کہا ” ارے آئے گا , مگر ہم بھی تو کچھ پیش کریں گے نا،” "چل بٹیا بہن کے ساتھ جا کےکام دیکھ ”
پیار پچکار کے رخسار کو ٹال دیا کسی طرح اسے بھائی کے کمرے میں جانے سے روک ہی لیا ،
سمجھ تو وہ بھی گئ پھر بہن اور کزن کے بچوں کے ساتھ مگن ہوگئ، پھر تیار ہوکر سب ناشتے کے دسترخوان پہ بیٹھے تب ہی دولہا دلہن کو دیکھا ، دلہن سمٹی سمٹائی ،ایک بیش قیمت جوڑا پہنے بلکل تروتازہ کلی لگ رہی تھی، اس کے چہرے کی چمک اس کی خوبصورت رات کی چغلی کھارہی تھی
،ماشاءاللہ ، اماں بی نے دولہا دلہن کی بالائیں لیں ،صدقہ اتارا پھر اپنے ہاتھوں سے کھیر کھلائی ،دلہن کے والدین اور کچھ رشتے دار موجود تھے ادھر شکیل احمد کا پورا خاندان ، دلہن والے خوب ناشتہ لائے دولہے کی طرف سے بھی خوب پکوان پیش ہوئے
ناشتہ ہوا ،بہت سی باتیں چلیں ،دلہن کے گھر والے اپنے گھر روانہ ہوئے تودولہا دلہن پھر کمرے میں بند ہوگئے ، رخسار مسلسل بھائی بھابھی کی حرکات و سکنات ،اشاروں کنایوں پہ نظر رکھے ہوئے تھی
وہ اپنی عمر کے اس دور میں پہنچ گئ تھی جب ہر لڑکی کے دل میں کسی پیارے سے ہمسفر کو پانے کی تڑپ پیدہ ہونے لگتی ہے ،حسین جذبات , بننے سنورنے ، کسی کو چاہنے اور چاہے جانے کے خوبصورت امتزاج سے بھرے دلگداز خیالات، ان خیالات میں گم رہنا فطرت کا تقاضا ہے ،ولیمہ اگلے دن تھا اس لیے کسی کو کوئی جلدی نہیں تھی دوپہر کو تین بجے پھر دوپہر کا کھانا ہوا تو دلہن ایک اور نئے جوڑے میں سجی ہوئی دولہا کے ساتھ آن بیٹھی ،دولہا نے ہلکا سا کچھ کہا تو دلہن کی ہنسی چھٹ گئ، ہنسی روکنے کو منہ پر تیز لال مہندی سے رچا بسا ہاتھ رکھا تو چوڑیاں کھنکییں۔اس وقت صرف رخسار نے اس بات کو محسوس کیا ، دلہن بہت خوش تھی سب مہمان تو کل رات چلے گئے تھے اپنے ہی گھر کے افراد تھے اتنی بڑی حویلی میں بیس پچیس بندے بھی ایک ساتھ ہوں تو پتہ نہیں چلتا تھا
موسم بہت خوشگوار تھا رخسار رات کا کھانا کھا کر دالان میں ٹہلنے کے لیے چلی آئی ،اس کے خیالوں میں بس بھابھی کی ہنسی ،چوڑیوں کی کھنک اور بھائی کی کانوں میں سرگوشی کرنا ۔۔۔گھوم رہا تھا وہ اپنے خیالوں میں گم تھی کہ اچانک ماں بی نے آواز دی ” آجاؤ کل ٹہل لینا ” ولیمہ کل دوپہر کا تھا اس لیے صبح سویرے ہی اٹھنا تھا ،رات کو جب سب سوگئے تو رخسار کا دل مچلنے لگا
وہی دلچسپ اور دلفریب آوازیں سننے کو ،وہ دبے پاؤں اٹھی ، بھائی کے کمرے کے باہر جا کھڑی ہوگئ ، پھر مدھر سی آوازیں اس کے کانوں میں پڑیں کبھی چہکنے کی کبھی کھلکھلانے کی ،خاص طور پر دلہن کے منہ سے عجیب سی آوازیں پھر بھائی کی ہنسی ، کل رات کی طرح خوشگوار مگر زیادہ بلند کیونکہ اب کی بار رخسار نے کان دروازے سے لگا رکھے تھے ، ایسی آوازیں سن کر اس کے سارے وجود میں گدگدی سی ہونے لگی نامانوس سی آوازیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں اور جو احساس ان کو سن کر اسے ہورہا تھا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، کچھ دیر تک دنیا مافیا سے
بے خبردروازے سے کان لگائے جامد کھڑی رہی
ایکدم اماں بی کی آواز بجلی کڑکنے کی سی آئی ، وہ سٹپٹا گئ اس سے پہلے اماں اس کے سر پر پہنچتی وہ باورچی خانے میں جا گھسی ” ارے تو یہاں اس وقت” اماں بی پانی پینے آئی تھی ,رخسار ہکلا کر بولی ،” جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو ”
” تو کب سے اس وقت پانی پینے لگی، چل جلدی چل سو جا”
اماں بی نے زور سے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ بددلی سے کمرے میں چلی گئ ،وہ سوتو گئ مگر ذہن شادی میں الجھا رہا ،
پھر دوپہر کا ولیمہ ہوا اور شادی آئی گئ ہوگئ ، دلہن نے گھرداری میں قدم رکھا
دولہا نے کاروبار سنبھالا
چھ ماہ کے اندر اندر رخسار کا رشتہ آگیا رخسار جو پڑھنے کی شوقین تھی "ابھی تو اٹھارہ کی ہوئی ہے بی اے تو کرلے،” بڑی بہن راشدہ نے ٹہوکا دیا ،”نہیں رشتہ بہت اچھا ہے اونچے گھر کا بہت اونچا خاندان ہے لوگ ترستے ہیں ان سے رشتے داری کے لیے ” اماں بی جیسے پر تولے بیٹھی تھیں، نواب شکیل احمد سے تو لڑکے کے باپ نے نیاز مندی سے کہا کہ میرے بیٹے کو فرزندی میں لے لیجیے تو نواب صاحب تو اسی وقت مان گئے ہم پلہ تھے اور ساکھ بھی اچھی، پھر گھر کی عورتوں تک بات پہنچی تو بس رخسار کی بڑی بہن راشدہ نے اعتراض کیا کیونکہ اسے بھی پڑھنے کا شوق تھا مگر اس کی شادی بھی ایف اے کے بعد ہوگئ تھی، رخسار تو پڑھائی میں اچھی تھی ،
مذید پڑھنے کی خواہاں بھی
"اچھا اماں ایک بار تو رخسار سے پوچھ لیں اس کی کونسی عمر نکلی جارہی ہے ” راشدہ آخری وقت تک زور لگاتی رہی لیکن اماں کے پوچھنے سے پہلے ہی رخسار نے کہا،” آپی رہنے دیجیے اماں ابا کچھ سوچ کر ہی رشتہ کر رہے ہیں "،
اماں تو چونک گئیں کیونکہ انھیں اس سے یہ امید نہیں تھی ،یہاں بھی سارے معاملات ہنسی خوشی طے ہوگئے خوب لین دین تحفے تحائف نوکروں تک کے منہ موتیوں سے بھر دیے کیا کمی چھوڑی, ایک سے بڑھ ایک قیمتی جوڑا اور جوڑے کے ساتھ ہم رنگ جڑاؤ گہنا ،شادی کی تیاریاں جیسے راجہ مہاراجہ دولہا بھی بارات دو گھوڑا بگھی پہ لے آیا ،دھوم مچ گئی سارے شہر میں کہ اب بھی ایسی روایتی سج دھج سے بارات جاتی ہے ،پھر دولہے کی شیروانی پہ سونے کے تار کی کڑھائی اوپر سے وہ سونے کے بٹنوں سے مزین تھی,
دلہن بھی ہیرے موتی سے لدھی پھندی، بھاری بھرکم انتہائی خوبصورت لہنگا جس پر خالص موتی اور زمرد جڑے تھے ، نازک سی رخسار دھیمی سی رفتار، روپ سروپ ایسا کہ جو دیکھے دیکھتا رہ جائے ،کوئی پری, حور, اپسرا
زبردست اہتمام چاؤ چونچلے وہی رسمیں وہی نیگ ،راستہ رکائی ،دودھ پلائی
وہی منظر بڑے سے کمرے میں ،بہترین سیج ،چاروں طرف پھولوں میں رچا بسا ماحول ، نازک سی دلہنیا کے نازک سے ارمان ،دل کی دھڑکن بے قابو ہورہی تھی بھائی اور بھابھی کی شادی کی رات کمرے سے آنے والی آوازیں، اب اسے سوچ کے لگ رہا تھا جیسے وہ آوازیں نہیں مدھر راگنیاں تھیں ایسا ساز جو ابھی کچھ دیر میں اس کمرے میں گونجنے والا ہے من ہی من میں مسکائی ،جیسے ہی دروازہ بند ہوا توکسی حد تک وہ شرمائی ،گھبرائی ،
نظریں تو پہلے ہی جھکی تھیں اب بھاری کامدار دوپٹے سے جھکی گردن مذید جھک گئ ،ہتھیلی تک پر پسینہ آگیا
لگا دل سینہ توڑ کر باہر نکل پڑے گا موسم تو بہت خنک تھا مگر اسے بہت گرمی لگنے لگی اسکا دل چاہا کہ ٹھنڈا یخ پانی پی لے ،جب دولہا اس کے پہلو میں بیٹھا ،تو کچھ دیر وہ دولہے کے بولنے کی منتظر رہی اسے محسوس ہورہا تھا کہ دولہا اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جارہا ہے لیکن یہ بولتا کیوں نہیں وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ” دولہا خاموش کیوں ہے ,؟ وہ سب باتیں کیوں نہیں کر رہا جسے سننے کے لیے بےتاب تھی،
جیسے بھائی بھابھی کے کمرے سے آتی تھیں”
کچھ دیر کی بوجھل خاموشی کے بعد دولہا نے کچھ رسمی جملے بولے ،۔۔۔پھر جو کچھ بھی ہوا اس نے سوچا نہیں تھا نہ ہی بھائی بھابھی کے کمرے سے کان لگا کر سننے پر محسوس ہوا تھا
اسکا بدن ہی نہیں روح تک مسلی جا چکی تھی، وہ تکلیف اور دکھ سے کراہ رہی تھی،اس کی آنکھوں کے کنارے گرم آنسوؤں سے گیلے ہورہے تھے, اس کے منہ سے نکلنے والی آوازیں کوئی سن نہ لے اس نے تیز سرخ مہندی سے رچا ہاتھ اپنے منہ پر زور سے رکھ لیا




