نظم

گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

گزشتگاں کی یاد میں

جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے 

ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے

جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی 

تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی

چاند ابھرا تو پچھم سے آتی ہواؤں میں

 پرکھوں کی قبروں سے اڑتی ہوئی دھول تھی  

ہم نے جانا کہ یہ تو وہی رمز ہے 

جس کی خاطر تمدّن بھری زندگی چھوڑ کر 

ہم بیابان کی خامشی اپنے سینوں میں دفنائے 

 جینے پہ مجبور ہیں

کون جانے، کہاں کس طرف ہے وہ دروازہ

جس نے ہماری روایت کا چک اوڑھ کر مخبری کے لیے 

پاسباں تک نہ رکھا

بھولی بِسری ہوئی شام میں 

کوئی پنچھے اڑے 

ہم کو بےداد نظروں سے دیکھے 

تو نیلے سمندر کی وسعت کا اندازہ ہو 

کون جانے کہاں ہیں 

وہ سب کوکتی کوئلوں کی صدا 

کس نے ہونٹوں کے پیندے میں سسکاریاں قید کیں

کس نے خواہش کی نیّا میں پھولوں کا انبار لادھا 

تو سمجھے کہ یہ زندگی جس تواتر سے گزرے ہوؤں کی 

خبر لا رہی ہے، وہی ہے۔۔

مگر کیا وہی ہے؟

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x