
آخر کار رات کے پچھلے پہر بارش برس
پڑی۔اسے لگا کہ بارش جب برسی تو صرف بارش نہیں بلکہ یادیں برس رہی تھیں۔ مجھے وہ وقت یاد آیا۔ جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، بارش کو سب کچھ دھو دینے کی اجازت دیتا ہوا، جیسے کچھ چیزوں کو بچانے کا حق وہ کب کا کھو چکا ہو۔ پہلی بوند اس کے ماتھے پر گری تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے وقت کے پرانے زخم پر انگلی رکھ دی ہو۔ اس نے پلکیں جھپکیں، مگر یادیں آنکھوں سے نہیں ہٹیں۔
سڑکیں چمکنے لگیں، گاڑیاں گزرتی رہیں، لوگ چھتریاں کھولتے رہے۔ اس بارش نے سڑکوں کو نہیں دھویا۔ اس نے وہ چہرے صاف کیے جو برسوں سے نقاب اوڑھے پھر رہے تھے۔ وہ ان چہروں کو پہچانتا تھا۔ انہی میں وہ خود بھی شامل تھا۔
گھٹا گہری تھی اور تنہائی اس سے بھی زیادہ۔ ایسی تنہائی جو ہجوم میں بھی کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔ چھاتے پر گرتی بوندیں آواز نہیں تھیں، وہ ماضی کے سوال تھے جو دستک دے رہے تھے: یہ سب یوں کیوں ہوا؟ وہ جواب نہیں ڈھونڈ رہا تھا، بس خاموشی سے سن رہا تھا۔ بارش نے درختوں کو ہرا نہیں کیا، بلکہ اس نے انسانوں کے اندر چھپی پیاس دکھا دی۔ وہ سوچنے لگا، کچھ وعدے شاید اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ بارش میں بہہ جائیں۔ جب بارش رکی تو شہر وہی تھا، بس وہ نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔
اس نے بس میں قدم رکھا۔ شیشے پر پھسلتی آخری بوند کو دیکھا اور محسوس کیا کہ بارش کے ساتھ جو وعدے بہہ گئے تھے وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ہر بوند میں ایک کہانی تھی، مگر سننے والا کوئی نہیں تھا۔
بارش ختم ہو گئی، سڑکیں خشک ہو گئیں…
مگر اس کے اندر کیچڑ رہ گیا۔




