اُردو ادبافسانچہ

پزل بورڈ / ثمرین مسکین ، اٹک

حیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے ترتیب کررہا تھا،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا راج تھا،نمل نے اس کے ہونٹوں پر گہری ہوتی مسکان کو دیکھا تو آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب جا رکی،اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا،ایک لمحے کواس کے چہرے کا رنگ بدلا تھا،مسکراہٹ سمٹ گئی تھی،اس نے کچھ سوچا اور اچانک ہی اس کی آنکھوں میں نمل کےلیے طنز کی ایک لکیر ابھری تھی،نمل نے اس کے بدلتے رنگوں کو دیکھا اور سوالیہ انداز سے پزل بورڈ کوتکنے لگی اس نے پزل بورڈ کو چھوا تو حیدر نے نمل کی کلائی کو زور سے پکڑا اور استہزایہ انداز میں بولا! یہ پزل ہے ؛کیا تم اس پزل کو حل کرسکتی ہو؟


اس نے اس کو چیلنج کیا تھا،کیا ہے اس پزل میں؟نمل نے سوال کیا تھا؛
پزل کب بتایا جاتاہے؟
بس میں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس پزل کو حل کر کے دکھاؤ۔نمل نے چیلنج قبول کر لیا؛اس نے پزل بورڈ پر بکھرے ٹکڑوں کو غور سے دیکھا اور پھر
پزل بورڈ پر ایک ایک ٹکڑے کو وہ بڑی مہارت سے جوڑنے لگی تھی۔
نیلا،پیلا ،نارنجی،گلابی،ہرا ،جامنی تمام رنگوں کے ٹکڑے جوڑتے جوڑتے وہ ان ٹکڑوں میں سے گٹار کو تلاش کرکے مسکرائی تھی۔
اس نے فاتحانہ نظروں سے حیدر کو دیکھا تھا،حیدر کے چہرے کا رنگ ایک بار پھر بدلا تھا؛اب کی بار وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا،نمل اس کو دیکھ کر محظوظ ہوئی تھی۔
وہ اب پہلے سے بھی زیادہ پرجوش ہوکر مزید ٹکڑوں کو ترتیب دینے لگ گئی تھی؛ اسے لگا تھا؛ گٹار اس کی جیت کی دھن بجا رہا ہو۔
وہ ان ٹکڑوں کو بڑی مہارت کے ساتھ لیکن تیزی سے جوڑ رہی تھی اور کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ سارے بورڈ پر بکھرے ٹکڑوں کو تقریباً ترتیب دے چکی تھی،
دو ٹکڑے جو ابھی جوڑنے باقی تھے؛ نمل کے ہاتھ رکے پھر حرکت کرنے لگے وہ جیسا سوچ رہی تھی پزل بورڈ وہی منظر دکھا رہا تھا؛ بس ایک آخری ٹکڑا باقی تھا ادھوری کہانی کو مکمل کرنے والا ٹکڑا
وہ اس آخری ٹکڑے کو ہتھیلی پر رکھے غور سے دیکھ رہی تھی؛ آخری ٹکڑا جس سے کہانی مکمل ہونے والی تھی ؛فتح کی سرشاری تھی یا پزل فریم میں رکھے گئے ترتیب سے عکس کو مکمل کرتے ٹکڑے،اس نے آخری ٹکڑا رکھا پزل مکمل ہوا
وہ ایک بار پھر سے فاتحانہ انداز سے مسکرائی تھی؛ٹکڑوں میں بٹی عورت پزل بورڈ پر مکمل ہوچکی تھی۔
پھر اس نے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرا جیسے سارے رنگ ایک ہی سر میں سمٹ گئے ہوں،جیسے ہر ٹکڑا اسے مکمل کرتا ہو،جیسے وہ ٹکڑے نہیں مکمل راگ ہو۔
کہانی مکمل ہوچکی تھی،سات سروں،سات رنگوں اور کئی ٹکڑوں میں بٹی ” لیکن مکمل عورت”کی کہانی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x