
ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتے کو رائٹ ہینڈ سرجیکل سامان کی گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی لیفٹ ہیند میں مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو سب سے اچھا والا کواٹر ہے، وہی نیلے درواجے والا! وہ کالا صاحب کا گھر ہوتا۔
کالا صاحب یعنی پیٹر فرانس کا ماں باپ گوا سے کراچی آیا تھا۔ پیڑ ان کا ایکو ایک ہی بیٹا ۔ باپ پال فرانسس صدر میں مشنری اسکول میں منشی تھا۔ وہ اکھا جندگی ادھرئیچ کام کیا اور ادھر سے ہی ریٹائر ہوا۔ پیٹر بھی اسی اسکول سے پڑھا، پھر کالج سے ڈگری لے کر، کے۔ ڈی۔ اے میں بابو بھرتی ہوا اور کھوب سارا مال پانی بنایا۔
ماں مارتھا تو جب پیڑ انٹر میں تھا، تب ئیچ ہی ہیون میں چلا گیا تھا۔ بس پھر پال اکھا شام دارو پی کر ٹن رہتا۔
ایک دم ہی بیوڑا ہو گیا تھا۔
پھر کیا !!
پھر تو مرنا ہی تھا، جگر مگر خراب ہو گیا۔ دیسی ٹھرا اس کا اکھا جگر کھا گیا۔
کیا بولتا ڈاگڈر لوگ سیروسس نہ جانے کیا ؟
ایسا کچھ موٹے موٹے لفظوں والا بیماری ہوا اور پال لڑھک گیا۔ فینس، کھلاس۔
دیکھ لالی میں تیرے کو دوبارا بولتی، پیٹر کے گھر کام نئ کرنے کا۔ سالا نمبری خنس، کھالی پیلی میں گسہ کرتا اور ایک بھی چھٹی کرو تو پگار میں سے پیسہ کاٹ لیتا ہے۔ گھر میں کام بولے تو جاستی نہیں پر ہولی مدر دوسرے مرد کا گالی کائی کو سنو!
سالا گھر میں بھی تین ٹائم خصم سے گالی سنو اور باہر کام پہ بھی۔
نئی ماں میرے کوں یہ نئی مانگتا۔
ایگنس، میں کیا کروں رے!
ناس پیٹا کرشنا سارا پیسہ چھین کر اپنے نشے پانی میں اڑا دیتا اور گھر میں تین بچہ لوگ بھوک سے ریں ریں کرتا ۔ میرے کو بملا بولتی کہ کالا صاحب روج کا روج پیسہ دیتا ہے ۔ مئی اسی واسطے تو اس کے گھر کا کام پکڑنا مانگتی کے کام سے واپسی پر میں کچھ سبزی ترکاری تو جوڑ لوں ورنہ کرشنا تو میرے سےایک ایک پائی جھڑوا لیتا ہے. اور گالی کا کیا ہے رے ایگنس!!
گالی تو اپن کا مکدر میں جنما جمنی سے لکھے لا ہے۔
جھٹکے سے گرنے سے بچنے کے لیے ایگنس نے بس کا راڈ پکرے پکڑے میرے کو کالا صاحب کا اکھا لائف ہسٹری سنا دیا تھا۔
ہم دونوں کا کھولی ساتھ ساتھ تھا۔کھولی کیا گریب لوگ کا نصیب بھی ایک جیسا اور دکھ درد بھی سیم ٹو سیم۔
نہ ماں باپ کے گھر کبھی پیٹ بھر کر روٹی کھائی اور نہ ہی خصم کے گھر۔ خصم کے گھر کھانے کو مگر لات مکا بہت۔ کبھی کبھی تو میرا دل کرتا کہ سڑک کے بیچ کھڑی ہو جاؤں تا کہ روج روج کے مرنے سے تو مکتی ملے پر مر بھی نہیں سکتی. پھر بچہ لوگ کا کیا ہونگا؟ کرشنا کا کیا بھروسہ پڑیا کے بدلے بچہ بھی بیچ دے وے تو!!
مئی تینوں گھر سے کام کر کے کالا صاحب کے گھر گئی۔ کالا صاحب میرے کو کام سمجھائے۔
چھٹی نہیں کرنے کا،
ٹیم پہ آنے کا اور اگر چھ دن بغیر چھٹی کے کام کیا تو سنڈے کا دہاڑی بھی دے گا۔
کام، بس جھاڑو پونچا اور باتھ روم دھونے کا۔
میں آج کے آج ہی سے کام شروع کر دی۔ گھر بولے تو گندا تھا مگر اتنا جاستی بھی نہیں۔ مئ ایک گھنٹے میں گھر کو شیشہ کا مافک چمکا دی۔
صاحب بولا تو کچھ نہیں مگر خوش لگتا تھا۔
میرے کو دہاڑی سے دس روپیہ جاستی دیا۔
میں جلدی سے ایمپریس مارکیٹ کے فٹ پاتھ سے سبزی لے کر بس میں بیٹھی۔ ڈرتیچ بھی تھی کہ جانے آج کرشنا میرا کیا درگت بنائے گا ۔ بچہ لوگ کا بھی کھیال تھا۔ چمپا میری بڑی بیٹی اس دیوالی میں نو سال کا ہو گیا ہے. وہ متھن اور مرلی کا خیال کرتا ہے پر اب میرے کو چمپا کا فکر جاستی کہ پاڑے میں سوب طرح کا غندہ موالی اور نشئی لوگ بھرے لا۔
سارے پاڑے والا اماں بنتو کا آبھاری کہ وہ سارے پاڑے کی لڑکی لوگ پر نجر رکھتا۔ سارا دن متھن اور مرلی گلی میں مرغیوں کا مافک مارا چلتا۔ کوئی ٹاٹ اسکول بھی نہیں جہاں کچھ دیری بیٹھ کر کچھ پڑھ لے وے۔ نشئی باپ کی وجہ سے گیراج والا بھی متھن کو کام پر نہیں رکھتا۔
مئ شام پڑے کھولی پہنچی کرشنا باہر ہیچ بیٹھا تھا میرے کو دیکھتے ہی لپکا اور اس سے پہلے کہ مئ سنبھلتی میرا بال نوچتا ہوا میرے ہاتھ سے سبزی کا شاپر اچھال کر پھینک دیا اور گالی دیتے ہوئے مارنے لگا۔ آدھی سبزیاں گٹر میں گری اور باقی کیچڑ میں بکھر گئ۔ میں بال ٹوٹنے کی تکلیف بھول کر سبزیاں جھپٹنے کو لکپی۔ یہ میرے بچہ لوگ کا کھانا تھا۔ اس مورکھ کو ایک دھکا مار کر راستے سے ہٹایا، دل تو تھا کہ کالی ماتا کی طرح اس کا خون ہی پی لوں۔ چمپا نے جلدی سے لوکی کا ڈنٹھل پکڑ کر کیچڑ سے نکالا اور کمیٹی کے نل پر دھویا۔ آج بہت دن بعد ہم سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا بھات، دال اور سبزی۔ پیٹ بھر جائے تو جندگی کتنا شانت لگتا ہے، کسی سے بھی کوئی کرود کوئی شکایت نہیں رہتا. اب میرے کو بھی افسوس ہو رہا تھا کہ مئ کرشنا کو دھکا کائے کوں ماری۔ جانے مرن جوگا کہاں سکڑا سمیٹا مرے زندہ کے بیچ پڑا ہوں گا۔
کالے صاحب کے گھر کام کرتے ہوئے چوتھا مہینہ تھا اور اب ہم سب ایک ٹیم کا کھانا پیٹ بھر کر کھانے لگا تھا. تھوڑا اوپر سے پئیسہ بھی بن جاتا کہ مئی اس کی دارو کی کھالی باٹلی کباڑیے کو بیچ دیتی ۔ دارو کی کھالی باٹلی کا اچھا پئیسہ ملتا۔
آج شام مئ کام سے لوٹی تو کھولی کے پاس نالی کے اوپر بنے تھڑے پر ایگنس اور اس کا گھر والا سیمیول بیٹھا تھا۔ ایگنس میرے کو دیکھتی میرے سے لپٹ کے رونا شروع کر دی۔
سیمیول میرے کو بولا کہ کرشنا کا دوست ملا تھا مارکیٹ میں اور وہ بولا کہ کرشنا ٹرین سے کٹ گیا ہے، اس کا لاش ایدھی میں پڑا ہے۔ میرے ساتھ چلو اور ایدھی سے لاش لےکر آؤ۔
مئ تھوڑی دیر چپ رہی،
” اگر مئ لاش نئی لاتی تو وہ لوگ کرشنا کا کیا کرے گا؟”
کرے گا کیا؟ کرشنا کو لاوارث بول کوں دفن کر دے گا۔
تو لاش کو ایدھی والوں کو ہی دفن کرنے دو۔ میرے پاس اتنا پئیسہ کدھر کہ کریا کرم کے لیے منوں کے حساب سے لکڑی مول لوں، گھی لوں اور پنڈت کی میٹھی چانپی بھی کروں۔
کرشنا کو ایدھی قبر تو دے دے گا ناں ؟
اتائیچ کافی! مٹی، مٹی میں مل جاوے اور کیا مانگتا؟
مردہ کو جلا کے پیسے میں آگ لگانوں سے بہتر یہ نئ کہ میرا بچہ لوگ پیٹ بھر کر روٹی کھا لیوے؟ اب تو کرشنا مر گیا۔ اب لاش کو جلاو، دفناؤ کہ ڈوباؤ لاش کو کیا ئیچ فرق پڑے گا؟
آدمی مر گیا کھلاس.
نہیں بھائی سیمیول مئ کرشنا کا لاش نہیں وصول کرے گی۔
مئ جب کرشنا سے شادی بنائی تھی، تو بہت کھوش تھی۔ کم کھا کوں بھی کھوش مگر چمپا کے جنم کے بعد جب سے مرن جوگے نے چرس اور گانجا شروع کیا تو مانو دھواں کا مافک پریم پیار سب ہوا میں اڑ گیا۔ محبت بھی تب ئیچ اچھی جب پیٹ میں روٹی ہو۔ بولے تو پیٹ بڑا پاپی ہے رے! یہ جالم بھوکا ہو تو سوب کچھ ہی کھا جاندا ہے بھلے سے وہ لاگ پریم ہو یا جنم جنمانی کا رشتہ۔ جب روٹی کی جوکھم پڑی ہو تو کچھ اچھا نئی لگتا چاند بھی روٹی ئیچ دکھتا ۔
کل میرے کو ایگنس کیسا عجیب بات سنائی۔ ایگنس بولی کے کالا صاحب کی جورو بہت سندر ناری تھی اور کالا صاحب اس سے بہت پریم کرتا تھا. اس کا بہت سمان اور آدر بھی کرتا مگر جبان سے اس کی سندرتا کا جاستی تعریف نہیں کرتا تھا. اس کارن وہ ناس پیٹی کالا صاحب کو ٹھینگا دیکھا کر کسی بڑے ٹھیکے دار کے ساتھ بھاگ گئ۔
ہے رام !!
پیٹ بھر کر تین ٹائم کھانا ملے جندگی میں اس سے بڑا عیاشی اور کیا ہو گا؟
اس پر بھی وہ کمینی کالا صاحب کو چھوڑ کر چلی گئی۔ اننیائے ہے شد اننیائے۔
مئی کلے پیٹتے ہوئے بولی۔
"ہاں رے سیمیول بولتا کہ بھوک بھی قسم قسم کا ہوتا ہے۔”
ایگنس نے آنکھیں نچاتے ہوئے کہا۔
کرپا ہے رام کی! ہم لوگ صرف پیٹ کا ہی بھوک جانتا۔
کرم جلی کوئی جھلی ہیئچ ہوگی؟
پیٹ بھر کر کھانے کوں ملتا، سر پر اپنا چھت ہوتا. کوئی کھولی کا کرایا مانگنے کو درواجے پر نئی کھڑا ہوتا، دکھ بیماری میں بوروبر علاج بھی ہوتا ۔ جندگی میں کوئی لفڑا نئی، آدمی کو اور کیا ئیچ مانگتا رے؟
یہ سوب پیٹ بھرے کا چونچلا۔ جب پیٹ بھرے لا ہو تو دیماگ میں دس بات بھی سوجھتی۔ اپن لوگ کا تو اکھا جندگی روٹی روٹی کرتے ہی گجرے لا.
آج کل کالا صاحب ایک دم ہی چپ ہو گیا ہے. گھر بھی ایک دم الٹ پلٹ ہوتا، بکھرا ہوا. مئی کام میں ڈنڈی مارتی تب بھی کچھ نہیں بولتا. بس چپ چاپ دارو پیتا رہتا ہے. آج ماسٹرنی کے گھر کام زیادہ تھا سو مجھے کالا صاحب کے گھر پہنچنے میں بہت دیری ہو گئی،
جب مئ دروجّا کھول کر اندر آئی تو اندر کا سین پاٹ دیکھ کر تو میرا آنکھاں ہیچ فٹ گئی ۔
کالا صاحب ایک لمبی سی تکیہ کو زنانہ کپڑا اور وگ پہنا کر، دنیا سے بےکھبر اسکے ساتھ ڈانس کر رہا تھا۔ اس کی آنکھاں بند تھی اور چہرے پر شانتی ہی شانتی. اکھا کمرے میں میوجک کا تیج آواج گونج رہا تھا اور کمرے میں جہاں تہاں وہسکی کا کھالی باٹلی پڑے لا ۔
ہے رام !! کیا کالا صاحب کا مگچ پھیرلا۔




