غزل
غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

غزل
قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے
نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے
جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے
وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے
پھر ایک شعلے کو شبنم میں گوندھ کر ہم نے
سرشتِ عالمِ اَضداد تازہ کر دی ہے
نئے سِرے سے اُسارا ہے مُنہدم کر کے
خدا نے دَہر کی بنیاد تازہ کر دی ہے
اُڑا کے لے گئی دل سے غُبار غفلت کا
اُکھڑتی سانس نے فریاد تازہ کر دی ہے
نہ تھی گریز کی صنعت میں تازگی شاہد
خلش نے قوّتِ ایجاد تازہ کر دی ہے



