آکاس بیل | ثمرین اعجاز
آکاس بیل
کچھ لوگ؛
آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،
بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،
مگر !
جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،
آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،
نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،
اور پھر!
یہ پھلتے پھولتے ہیں،
آپ کی کھوکھلی شاخوں پر،
اس کی بے رحم لپیٹ میں
وہ رشتے جو سرسبز تھے،
وہ خواب جو تازہ تھے،
سب مرجھا جاتے ہیں
شاخوں سے برگِ امید گرنے لگتے ہیں،
یہ خود تو ہرے بھرے دکھتے ہیں،
مگر آپ کی جڑیں سوکھنے لگتی ہیں،
سانس رکنے لگتی ہے،
روح تھکن میں ڈھلتی ہے،
المختصر!
یہ لوگ آپ کے وجود کو کھوکھلا کر دیتے ہیں،
یوں جیسے خزاں،
کسی ہرے درخت سے لپٹ کر
اسے بے جان کر دیتی ہے
سو اے ہمدم!
یہ نظم صرف
ان "دوسروں” کی بات نہیں
یہ آئینہ بھی ہے
جس میں جھانکنا،
خود کو دیکھنا،
ضروری ہے
کیا ہم نے بھی کسی شاخ کو
دیمک کی طرح تو نہ چاٹا؟
کسی خوشبو کو اپنی گرفت میں
سونگھ کر مرجھا تو نہ دیا؟
کسی خواب کی جڑ پر
خامشی سے گرفت تو نہ باندھی؟
کیا ہم بھی کہیں
کسی دل کی شادابی پر لپٹی
ایک آکاس بیل تو نہیں بن گئے؟
لہٰذا!
رشتوں میں پنپنے سے پہلے
یہ جان لینا کہ
کہ ہم سایہ بنیں،
آکاس بیل نہیں




