ترجمہ شاعرینظم

اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

اُس کی راہ تکو

ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو

شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو

پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے رکھو

کسی شہزادے کی جمالیاتی نفاست لیے، اُس کا انتظار کرو

سات بادلوں کے تکیے سجائے، اُس کی آمد کے منتظر رہو

عورت کی خوشبو جیسی صندلی دھونیوں کے درمیان

گھڑ سوار کے بدن سے اٹھتی صندل کی مردانہ مہک کے ساتھ، ساکت کھڑے رہو

اُس کی راہ تکو اور عجلت سے کام نہ لو

اگر وہ دیر کر دے، تب بھی منتظر رہو

اگر وہ وقت سے پہلے آ جائے، تب بھی انتظار کرو

اُس کی گندھی ہوئی زلفوں میں بیٹھے پرندوں کو مت ڈراؤ

اُسے بالکونی تک لے جاؤ، جہاں چاند دودھیا روشنی کے سمندر میں غرق ہو رہا ہو

اُس کی راہ تکو اور شراب سے پہلے اُسے ٹھنڈے پانی کا پیالہ پیش کرو

اُس کے سینے پر سوئے ہوئے تیتر کے جڑواں بچوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو

انتظار کرو، اور جب وہ مرمریں میز پر جام رکھنے لگے، تو نرمی سے اُس کا ہاتھ چھو لو

جس طرح تم شبنم کی نزاکت کو سمیٹے ہوئے ہو ویسے ہی ٹھہرے رہو

اُس سے یوں کلام کرو جیسے کوئی بانسری، لرزتی ہوئی وائلن کی تار سے سرگوشی کرتی ہے

جیسے تم جانتے ہو کہ آنے والا کل اپنے دامن میں کیا لایا ہے

انتظار کرو، اور رات کے اندھیرے کو ایک ایک کڑی کر کے اُس کے لیے صیقل کرتے جاؤ

اُس وقت تک راہ تکو جب تک کہ رات خود تم سے کلام نہ کرے

اب اِس کائنات میں تم دونوں کے سوا کوئی زندہ نہیں

پس، اب اُسے اُس موت کی طرف لے جاؤ جس کی تمنا تمہارے وجود کا حصہ ہے

اور بس، انتظار کرو

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x