غزل
غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی
غزل
کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے
ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے
کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو
کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے
تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل لیتا ہوں
ایک تنہائی کو میں دوسری تنہائی سے
قطرہ قطرہ کیا اک خشک کنویں سے یکجا
کتنی مشکل سے یہ چھاگل بھری تنہائی سے
ورنہ اس پار تھا اک اور جہانِ خلوت
میں گزرتا رہا بس سرسری تنہائی سے
قرب میں اور ادھڑتا ہی چلا جاتا وجود
میں نے خود کی ہے یہ بخیہ گری تنہائی سے
رات چپ چاپ کسی تخت پہ وارد ہوا مَیں
اور چمکنے لگی بارہ دری تنہائی سے
ایک ہی سینۂ بے سقف و ستوں کے اندر
مل کے رہتی ہے مری بے گھری تنہائی سے




