نظم
نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل
نئی محبتوں کا واہمہ
دو موسموں کی خوشبو سے مہکی ہوا،
کچے صحنوں میں پڑی دھوپ،
ٹھنڈے، گرم پانیوں کے امتزاج کا گداز
نئی مگر بے معنی محبت کو جنم دیتا ہے
مسافتوں کا تعین کرنے سے بہتر ہے،
گھر کو جاتی کچی سڑک پہ پڑے قدموں کے نشان گِننا
رابطوں کا تعطل یا تسلسل
فاصلے زیادہ یا کم تو نہیں کر سکتا!
ناآسودگی کی دھوپ میں جھلستی لڑکیوں کی آنکھیں،
آزردہ چہرے والی رنگریز عورتوں کے ہاتھ
اور
کچے راستوں پہ خواب ڈھونڈتے بچوں کے پاؤں
نہیں جانتے
کہ
سرسوں کے کھیت کے اس پار کی دنیا
فقط ان کے واہموں سے روشن ہے
تم
رتجگوں سے رہائی پا چکے
اور
شب خیزی سے اکتائے کردار
میری انگلیوں کی جانب دیکھتے ہیں
جن کی جنبش سے
آسمان تم پہ مہربان ہوتا ہے
اور
سرسوں کے پھول مسکراتے ہیں!




