غزل/کوئی لمحہ نہیں جس میں تری خواہش نہ ہوئی/احتشام حسن

غزل
احتشام حسن
کوئی تاویل، وضاحت، کوئی پرسش نہ ہوئی
یہ تو پھر ترک_ مراسم ہوئے، رنجش نہ ہوئی
اس لیے میں نے پکارا کہ یہ شکوہ نہ رہے
میری جانب سے ملاقات کی کوشش نہ ہوئی
بارہا بند کیے خود پہ تری سوچ کے در
اور ہم سے ہی وہ پابندیءـ بندش نہ ہوئی
تنگ اتنے ہیں شب و روز کے چکر سے ہم
اب وہ سیارہ چنیں گے جہاں گردش نہ ہوئی
عشق کے صبر نے شرمندہ کیا دریا کو
عشق کے سامنے تو آگ بھی آتش نہ ہوئی
شوق- دیدار تو بخشا گیا آنکھوں کو مری
مجھکو لیکن ترے دیدار کی بخشش نہ ہوئی
اس قدر عام ہوا شوق خدا ہونے کا
وہی ناراض ہوا جس کی پرستش نہ ہوئی
اس پہ ہر جاں ہے نچھاور وہ جہاں سے گزرے
اور ہم جاں سے بھی گزرے تو ستائش نہ ہوئی
تیری ہمراہی رہی ایسے حسن کو درکار
کوئی لمحہ نہیں جس میں تری خواہش نہ ہوئی





بہت شکریہ فرح خان صاحبہ