ماں کائناتی استعارہ / نسوہ نعیم

ماں کی ہستی کائنات کا وہ معجزہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایثار، وفا اور بے لوث محبت کی ایک مکمل داستان ہے۔ دنیا کا ہر تعلق کسی نہ کسی مفاد سے جڑا ہو سکتا ہے، لیکن ماں کی محبت ہر قسم کی غرض سے پاک ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی خاطر نہ صرف اپنی خوشیاں بلکہ اپنی نیندیں اور سکون بھی قربان کر دیتی ہے۔ کائنات کے عظیم ترین تخلیق کار نے جب اس دنیا میں محبت اور قربانی کی جیتی جاگتی تصویر اتارنی چاہی تو اسے ‘ماں’ کا نام دیا۔ یہ وہ واحد رشتہ ہے جو انسان کے وجود میں آنے سے قبل ہی اس سے جڑ جاتا ہے اور روح کے فنا ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ماں کی ممتا وہ بحرِ بے کراں ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور وہ ایسا سائبان ہے جس تلے زندگی کی تمام تپش ٹھنڈک میں بدل جاتی ہے۔
ماں کا رشتہ تخلیقِ کائنات کے اس عمل سے جڑا ہے جس میں وہ نو ماہ تک ایک وجود کو اپنے اندر پالتی ہے اور اس دوران وہ جس کرب سے گزرتی ہے، وہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ اس کی ممتا کی طاقت ہوتی ہے جو اسے یہ ہمت عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بچہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو ماں اپنی تمام تر تکلیفیں بھول کر اسے اپنی زندگی کا کل مقصد بنا لیتی ہے۔ اس کی ممتا کا پہلا قطرہ بچے کے لیے زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔ وہ اپنی بھوک بھول کر اسے کھلاتی ہے اور اپنی نیند قربان کر کے اسے سکون کی نیند سلاتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ "ایک ماں کی گود بچے کے لیے دنیا کی پہلی اور بہترین درسگاہ ہے”۔ ماں صرف بچے کی جسمانی پرورش نہیں کرتی بلکہ وہ ایک قوم کی اخلاقی تعمیر کرتی ہے۔ وہ اسے بولنا سکھاتی ہے، اسے اقدار کے سبق دیتی ہے اور اسے معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ماں کی گود میں بچہ نہ صرف الفاظ سیکھتا ہے بلکہ وہ دوسروں کا احترام، بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر شفقت اور تہذیب کے آداب بھی سیکھتا ہے۔ اگر ماں کی تربیت میں اعلیٰ انسانی اوصاف شامل ہوں تو وہ بچہ بڑا ہو کر انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے، ماں ایک خاموش مصلح کے طور پر کام کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو ‘آپ’ اور ‘جناب’ جیسے الفاظ کی حرمت سکھاتی ہے، ان کے لہجے میں مٹھاس اور کردار میں پختگی پیدا کرتی ہے۔ وہ ایک ایسی معمار ہے جو اینٹ پتھر سے نہیں بلکہ محبت اور اخلاق سے انسانیت کی عمارت کھڑی کرتی ہے۔ اس کی دی ہوئی تربیت ہی وہ واحد اثاثہ ہے جو اولاد کو زندگی کی کٹھن راہوں پر بھٹکنے سے بچاتا ہے اور انہیں ایک بہتر انسان بناتا ہے۔
ماں کی زندگی صبر کا ایک لامتناہی سفر ہے۔ اولاد کی نادانیاں ہوں، زندگی کی تلخیاں ہوں یا حالات کی ستم ظریفی، ماں ہر دکھ کو اپنے سینے میں چھپا لیتی ہے تاکہ اس کی اولاد کی مسکراہٹ متاثر نہ ہو۔ وہ گھر کے تمام افراد کی ضرورتوں کا خیال رکھتی ہے اور اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر سب کی خوشیوں کو مقدم رکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی تھکن میں بھی ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے، یہ اطمینان کہ اس کا گھرانہ محفوظ اور خوش ہے۔ ماں کی دعا وہ ہتھیار ہے جو ہر مصیبت کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند نظر آتے ہیں اور انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، تو ماں کے اٹھے ہوئے ہاتھ اور اس کے دل سے نکلی ہوئی پکار عرشِ الٰہی کو ہلا دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ماں کی دعا تقدیر کے لکھے کو بھی بدل سکتی ہے۔ اولاد چاہے کتنی ہی خطا کار کیوں نہ ہو، ماں کا دل کبھی اس کے لیے بددعا نہیں کرتا۔ وہ ہر حال میں اپنی اولاد کی سلامتی اور کامیابی کی خواہاں رہتی ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب نے ماں کے مقام کو نہایت بلند رکھا ہے۔ اسلام میں تو یہاں تک فرما دیا گیا کہ "جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ یہ ایک جملہ ماں کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی مثال دینے کے لیے بھی ماں کی ممتا کا انتخاب کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماں کی محبت خدائی محبت کا ایک پرتو ہے۔ ماں کی خدمت کو عظیم ترین نیکی قرار دیا گیا ہے اور اسے ناراض کرنا خالق کو ناراض کرنے کے برابر مانا گیا ہے۔ اردو ادب ہو یا عالمی لٹریچر، ہر جگہ ماں کی عظمت کے گیت گائے گئے ہیں۔ شاعروں نے اسے ‘خدا کا روپ’ کہا تو کسی نے اسے ‘گھر کی برکت’ قرار دیا۔ ماں پر لکھے گئے نوحے ہوں یا نظمیں، ہر لفظ اس کی جدائی کے غم اور اس کی موجودگی کے سکون کی عکاسی کرتا ہے۔ ماں کی موجودگی میں گھر ایک بستی لگتا ہے اور اس کے چلے جانے کے بعد وہی در و دیوار اداس ہو جاتے ہیں۔
جس گھر میں ماں نہیں ہوتی، وہاں کی دیواریں بھی خالی پن کا احساس دلاتی ہیں۔ ماں کی جدائی وہ صدمہ ہے جس کا مداوا وقت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی خالی جگہ کو کوئی دوسرا رشتہ نہیں بھر سکتا۔ اس کی نصیحتیں، اس کی ڈانٹ میں چھپی محبت اور اس کا ہاتھ اٹھا کر بلائیں لینا وہ یادیں ہیں جو انسان کو زندگی بھر تڑپاتی رہتی ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے سر پر ابھی تک ماں کا سایہ موجود ہے، کیونکہ یہ سایہ اٹھ جائے تو زندگی کی تلخ دھوپ سیدھی روح پر پڑتی ہے۔ مختصر یہ کہ ماں کی عظمت کو لفظوں کے لبادے میں پوری طرح سمونا ممکن ہی نہیں۔ وہ محبت کا وہ سمندر ہے جس کی گہرائی کوئی نہیں ناپ سکا، وہ ایثار کا وہ پہاڑ ہے جس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماؤں کی قدر کریں، انہیں وہ مقام دیں جس کی وہ حقدار ہیں اور ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں۔ دنیا کی تمام دولت، شہرت اور کامیابیاں ماں کی ایک مسکراہٹ اور اس کی ایک دعا کے سامنے ہیچ ہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں اور جس کا سایہ کائنات کی سب سے قیمتی نعمت ہے۔




