غزل
غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں / شاعرہ : فرح خان

غزل
فرح خان
پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں
سرد رات آئے تو سینے سے لگا لیتی ہے ماں
خود چلی جاتی ہے پر ، جانے نہیں دیتی ہمیں
موت کی دہلیز سے واپس بلا لیتی ہے ماں
جب کبھی ہو جائیں دنیا کی دوائیں بے اثر
اک دعا دیتی یے مرنے سے بچا لیتی ہے ماں
ایسا ممکن ہی نہیں بچوں سے وہ ناراض ہو
روٹھ جائے رب تو اس کو بھی منالیتی ہے ماں
ماں بنی ہوں تو مجھے احساس کی دولت یہ ملی
فرح بچوّں کے لیے خود کو مٹا لیتی ہے ماں
Author
URL Copied




