غزل
غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال
غزل
دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا
دریا کی سیر کر کے سمندر نہ چھوڑنا
اپنی تلاش اکیلے نہیں کر سکو گے تم
لیکن کسی کا ہاتھ پکڑ کر نہ چھوڑنا
اس زندگی کی دوڑ کے اپنے اصول ہیں
سارے امید وار برابر نہ چھوڑنا
ہم نے گزار لی ہے مگر تم ہمارے بعد
کمروں میں رکھنے والوں کو چھت پر نہ چھوڑنا
اپنے پرائے کی نہ رہے گی کوئی تمیز
باہر کے پہرے دار کو اندر نہ چھوڑنا
تم اپنے بل پہ نفرتیں پھیلا نہ پاؤ گے
میرا یہ مشورہ ہے کہ منبر نہ چھوڑنا
آخر زمین ہی نے کہا آسمان سے
میرے معاملات کو مجھ پر نہ چھوڑنا
چیزوں سے مختلف ہے یہ لوگوں کا مسئلہ
بہتر کے واسطے کبھی کمتر نہ چھوڑنا




