
مجھے اپنے دماغ سے بڑی شکایتیں ہیں۔ اس نامراد نے کبھی دل کی چلنے ہی نہ دی۔ پہلے تو کبھی خیال نہ آیا کہ زندگی بہت مصروف تھی پر اب جب سے زندگی سرپٹ سے دلکی چال پر آئی ہے تب سے دل کی کمی کا شدید احساس ہوتا ہے. ناحق ہی ساری زندگی علامہ کے ایک ہی مصرع کے ساتھ بسر کر دی۔
قصور میرا بھی نہیں بچپن سے ذمہ داریوں کی جو ردا اوڑھی تو پھر وہی اوڑھنا بچھونا ہی ہو گئی ۔ پاپا کیا گئے بچپنا بھی ان کے ساتھ ہی رخصت ہوا۔
پی۔ائی۔ اے کی قاہرہ جانے والی پہلی بدنصیب پرواز 705، کے مسافر جنہیں زمین پر اترنا نصیب ہی نہیں ہوا. ایک سو ستائیس افراد میں سے ایک سو اکیس نفوس اوپر ہی اوپر عالم بالا کو نکل گئے، پاپا بھی ان میں شامل تھے۔
بھلا کوئی ایسے بھی کرتا ہے پاپا!!!!
میں اُس وقت فقط پانچ سال کی تھی اور زبیر تین سال کا۔ میری یادداشت میں وہ دل خراش شام آج بھی اپنی پوری جزئیات کے ساتھ نقش ہے۔ اس شام گھر اور گھر کا باغیچہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ امی بالکل بےسدھ تھیں اور میں امی کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ باغیچے میں بچوں کے ساتھ کھیلنے بھی نہیں گئی حالانکہ زبیر مجھے دو تین بار بلانے آیا . مجھے ایسا لگا تھا کہ اگر میں نے امی کو اکیلا چھوڑ دیا تو یہ بھی کہیں گم ہو جائیں گی۔ میرا بچپنا اسی شام ڈوبتے سورج کے ساتھ ڈوب گیا اور ایک نئی عمارہ کا جنم ہوا۔
میں کم سنی ہی میں امی کا سہارا اور زبیر کی نگہبان بن گئی۔ پاپا کا چلتا ہوا ہوٹل کا کاروبار ماموں کے ہاتھ آیا، مگر ان کا مزاج شاہانہ تھا اور سخاوت بے حساب۔ دوست احباب کے لیے ہوٹل گویا مفت کی جاگیر بن گیا اور یوں ایک سال کے اندر اندر چلتا کاروبار ٹھپ ہوا۔
ان ہی الجھنوں میں دو برس بیت گئے۔ امی نے غم سے سمجھوتا تو کر لیا تھا، مگر ڈپریشن نے ان کا دامن نہ چھوڑا۔ آخرکار انہوں نے ہوٹل اور ڈھاکا والا گھر بیچ دیا اور شدید دل گرفتگی کے ساتھ ڈھاکہ کو خیر باد کہا۔
جمع جتھا سرمائے سے کراچی میں کلفٹن، تین تلوار کی چورنگی کے بلمقابل تین بیڈ روم کا کشادہ فلیٹ اور صدر کے بوہری بازار میں دو دکانیں مول لیں اور اس اجنبی شہر میں نئے سرے سے زندگی کی شروعات ہوئی. امی نے پابندی سے دکان پر جانا شروع کیا تو مصروفیت کے سبب کچھ دل کے زخموں کا اندمال ہوا۔ پاپا کی جدائی نے ہم سبھوں سے بہت کچھ لے لیا تھا. شدید ترین مصروفیت کے باوجود بھی امی اپنے ڈپریشن سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل پا رہی تھیں. انہیں سال میں دو دفعہ ڈپریشن کے دورے ضرور پڑتے۔ جب امی بیماری کے باعث دکان پر نہیں جاسکتی تھیں تو میں اسکول سے واپسی پر دکان کا چکر لگاتی۔ ماموں بھی دکان پر ہوتے مگر ان کے مزاج پر حادثات ہنوز مزاحم نہیں تھے.
گرتے پڑتے، کاروبار میں مندی اور منافع اٹھاتے ، امی کی بیماری کے باعث ڈاکٹروں اور ہسپتال کے چکروں کے ساتھ زندگی رواں رہی۔ سرعت سے بچپن بیتا اور دبے پاؤں جوانی آ گئی . میں کراچی یونیورسٹی کے میتھیمیٹکس ڈپارٹمنٹ کے سال اول اور زبیر انجینیرنگ یونیورسٹی آ گئے۔ باقی سارے حالات تو جوں کے توں ہی رہے بس ماموں ہماری زندگیوں سے نکل گئے۔ ان کی افتاد طبع کو بھلا کب قرار! ان کا نیا جنون اب یورپ ٹھہرا ۔ ایجنٹ پر خاصا سرمایہ صرف کر چکے تھے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ایک شام امی اور ماموں میں پیسے کو لیکر خوب گرما گرمی ہوئی اور تین دن بعد ماموں دکان اور گھر میں موجود تمام کیش لیکر غائب ہو گے۔ غصّہ اترنے کے بعد امی اور میں نے ان کی تلاش میں ہر ریکروٹنگ ایجنٹ کی دہلیز کی مٹی لے لی پر ماموں کا کچھ بھی پتہ نہیں چلا۔ ان کی جدائی امی کا پچھتاوا بن گئی اور ایک اداس اور ٹھٹھرتی ہوئی شام وہ ہم دونوں کو تنہا چھوڑ گئیں.
میری زندگی کی مثلث یعنی زبیر، یونیورسٹی اور دکان ۔ زبیر کو میں نے سارے جھمیلوں اور ذمہ داریوں سے دور رکھا تھا. اپنے ایم فل کے دوران میں نے دکان پر ایک مینیجر رکھا. سکندر نامی یہ نوجوان اچھا پڑھا لکھا، متوسط طبقے کا ذمہ دار شخص تھا. اس کی اچھی بات کہ اس میں آگے بڑھنے کی لگن تھی.
میری پیدائش جانے کس گھڑی کی تھی کہ میری زندگی میں سدا مد و جزر ہی رہے. اب جب دکان کی طرف سے قدرے بے فکری تھی تو زبیر نے ایم ایس کے لیے جرمنی جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی فلیٹ اور دکان کے حصے کا مطالبہ بھی. جائداد میں اس کا حق تھا مگر جس بے مروتی اور دھونس سے اس نے جائداد میں حصے کا تقاضا کیا تھا وہ بڑا ناروا تھا . اس کے کٹھور رویے نے میرے دل کو بری طرح سے زخما دیا. زبیر کو میں نے اولاد کی طرح پالا تھا، اسے ہمیشہ اپنے پروں کے سائے میں رکھتے ہوئے زمانے کی سرد و گرم سے محفوظ رکھا مگر شاید محبت کے حساب الگ ہوتے ہیں اور قربانیوں کا کہیں کوئی گوشوارہ نہیں ہوتا. میں نے دکان فروخت کی اور فلیٹ رہن رکھ کر اس کا حصہ ادا کیا. زبیر جرمنی سدھارا اور میں ڈپریشن کے گپھا میں گم ہوئی. ان دنوں سکندر نے میرا بہت خیال رکھا حالانکہ اب نہ تو دکان باقی تھی اور نہ ہی وہ میرا ملازم .
انہیں بےکلی کے روز و شب میں ایک شام سکندر نے مجھے شادی کی پیشکش کر دی.
میرے حسابی ذہن کے کسی کلیے میں یہ امکان موجود ہی نہ تھا. سکندر مجھ سے عمر میں چار برس چھوٹا تھا، بلاشبہ وہ ذمہ دار اور دیانت دار ملازم تھا مگر اس سے زیادہ میں اس کے متعلق اور کچھ نہیں جانتی تھی. میرا ذہن اُسے ہمسفر کے روپ میں قبول کرنے سے قاصر تھا.
ایک لمحے کو میرے جی میں ضرور یہ تمنا جاگی کہ اپنے آبلہ پائی کے اس سفر کو تمام کر کے سکندر کی گھنیری چھتنار چھاؤں میں پناہ لے لوں مگر دوسرے ہی پل دل میں وسوسے کے ناگ سرسرانے لگے کہ ماں جایا تو تپتی دھوپ میں چھوڑ گیا، پھر اس اجنبی کا کیا بھروسا؟
گو میرا دل کرلایا بھی پر دل کا کیا ہے اسے تو بہلایا بھی جا سکتا ہے (ہائے میری خوش گمانی ). زبیر کے خود غرضانہ رویہ کے باعث ان دنوں میری آزردگی اور زود رنجی اپنے عروج پر تھی. اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر میں، خود کو، انسانوں، رشتوں اور جذبوں سے الگ کرنے کی مشق کر رہی تھی. مگر اس ریاضت میں، انجانے میں، میں نے اپنے وجود سے اپنے دل ہی کو الگ کر دیا.
وقت کس کے روکے رکا ہے؟
سو سرعت سے گزرتا چلا گیا اور سکندر بھی بھلے وقتوں کی طرح پھر کبھی پلٹا ہی نہیں ۔ مجھے مالی تنگی تو نہ تھی کہ میری لیکچرر شپ کی تنخواہ میری ضرورت سے زائد ۔ پر تنہائی کے آسیب کا کیا کرتی؟ گو میں کبھی بھی سوشل برڈ نہیں رہی تھی . کرنے کو میرے پاس بہت کچھ تھا، لیکچرر شپ تھی، میرا سوشل ورک تھا. بے گھر بچوں کو پڑھانا، نوزائیدہ بچوں کے لیے دلائیاں بنانا. میں نے اپنے وقت کو ہر ممکن مصرف دیا۔ سلائی سے مجھے خاص انسیت تھی کہ یہ میرا مرہم اور خاموش ساتھی بھی.
پر لوگوں کے لامتناہی سوالات ہمیشہ میری زندگی میں دخیل رہے اور شاید لاشعوری طور پر انہیں سوالات سے بچنے کے لیے ایک حبس بھری شام میں نے پروفیسر وسیم کا رشتہ قبول کر لیا. میرے منطقی ذہن کے مطابق وہ ایک بہترین انتخاب تھے. ہم پیشہ، سنجیدہ اور مختصر خاندان. بھری دنیا میں ایک ان کی اماں اور دوجے وہ اور تنہائیوں کی ماری تنہا میں.
انتہائی سادگی سے ہماری شادی ہوئی اور شادی کے بعد بھی ہماری سابقہ روٹین برقرار رہی۔ بچے کی جلدی ہم دونوں ہی کو تھی کہ میں چالیس سال کی ہو چکی تھی اور میرے پاس وقت کی مہلت مختصر. میری بدقسمتی کہ تین سال میں میرے تین حمل ضائع ہو گئے. ہر بار ایک وجود کے بننے اور بچھڑنے کی اذیت میرے جسم اور روح کو توڑ دیتی. آخرکار میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب مزید اس کرب سے نہیں گزروں گی. میرے اندر اب اس وچھوڑے کو سہنے کی طاقت اور حوصلہ باقی نہیں تھا.
یہ فیصلہ میری ازدواجی زندگی میں بھونچال لے آیا اور میرا یہ یکطرفہ فیصلہ وسیم کی مردانگی کا مسئلہ بن گیا. وہ یتیم خانے سے بچہ گود لینے پہ راضی نہ تھے اور میں مزید زچگی کی کٹھنائیاں سہنے پر آمادہ نہ تھی. وسیم کو ہر صورت وارث چاہیے تھا اور میں ثمر بار ہونے سے قاصر. یوں تین برس کا وہ رشتہ، جو بڑی سمجھ داری سے قائم کیا گیا تھا، خاموشی سے ٹوٹ گیا۔ عجیب بات ہے کہ عورت اپنی زندگی کا فیصلہ بھی خود نہیں لے سکتی۔ وہ کس قدر بوجھ اٹھانے کی متحمل ہے اور اس کے جسم کے لیے کیا بہتر ہے وہ خود اس کا فیصلہ لینے کی مجاز نہیں.
اب یہ سب باتیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہ گیا. میں اپنی مصروف تنہائی کے ساتھ مطمئن ہوں، بس کبھی کبھی رات گئے میرا برسوں کا خاموش دل سکندر کی دہائی دیتا ہے. یہ خیال ستاتا ہے کہ اگر دماغ کے بجائے دل کی مان کر سکندر کا ساتھ قبول کر لیتی تو اس تنہائی کے بجائے ایک خوب صورت اور آسودہ یکجائی ہوتی.
اب پر میں اپنے اس منطقی ذہن کا کیا کروں؟
بچپن سے اسی کی صلاح مانتی آئی ہوں مگر اب سوچتی ہوں کہ علامہ کا صرف پہلا مصرع ہی نہیں بلکہ پورا شعر ہی جینا چاہیے تھا.
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے




