آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین
آواز تو بنتی ہے
سازینۂ غفلت میں
آوازوں کےجنگل میں
صحراؤں میں دلدل میں
آوازہ ِ خلقت میں
چاہے نہ سنے کوئ
پر کاٹ لیے جائیں
پرواز تو بنتی یے
دکھ آنکھ میں پلتا ہو
دل جیسا پھپھولہ گر
انگارے سا جلتا ہو
خنجر ہوں رویوں کے
سُر چھانٹنے پڑتے ہوں
بے سوز گویوں کے
دیپک تری آنکھوں کے
ہر شام جلیں گوری
ہمراہ ترے شب میں
سو دیپ چلیں گوری
جذبوں کی صداقت کا
احساس تجھی کو ہے
رشتوں کو نبھانے کا
بس پاس تجھی کو ہے
دنیا کے بدلنے کی بس
آس تجھی کو ہے
دنیا سے الگ ہے تو
دنیا ترے پاؤں کے
ناخن سے بھی ادنی ہے
جنگل ہو تو جنگل میں
بیلہ ہو تو بیلے میں
رونا تو اکیلے میں
خوابوں کی ڈگر والی
خوشبو کے سفر والی
پیچیدہ نہ ہو جانا
زیبا نہ تھا اشکوں سے
اشنان کیا جاتا
دیوی کو تو لائق تھا
دل دان کیا جاتا
دھتکار نہ زیبا تھی
کچلے ہوۓ جذبوں کی
مثلہ شدہ لاشوں کو
مہکار نہ زیبا تھی
افسوس کہ ساحل پر
پتوار نہ تھی کوئ
کشتی سر ِ ساحل پر
ہموار نہ تھی کوئ
اے ہجر کی شب والی
سناٹے کی وحشت میں
یوں ہی نہیں کھو جانا
تُو وقت پہ سو جانا





اردو ورثہ اور محترم توحید زیب صاحب آپ کا بہت شکریہ