غزل
غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

غزل
یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی
یہ وہ خطہ ہے جس میں برف بھی پانی نہیں ہوتی
تمہارے ساتھ رہ کر اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا
تمہارے ساتھ رہنے سے پریشانی نہیں ہوتی
شعورِ حسن خیزی میں کچھ ایسے بھی قرینے ہیں
بدن بے پیرہن ہو جائے عریانی نہیں ہوتی
دلوں پر چاند راتوں کا اثر یکساں نہیں ہوتا
سمندر کی طرح جوہڑ میں طغیانی نہیں ہوتی
سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے ترے آگے
زمانے بھر کے من موجی سے من مانی نہیں ہوتی
نسیم ایسے سمے ترکِ وطن کی آئی ہے نوبت
پرندوں کو بھی جب ہجرت میں آسانی نہیں ہوتی




