بلاگبلاگ / کالمز

ماں تیرے بغیر زندگی بے رنگ ہے/ تحریر: سماویہ اعظم

میں جب بھی گھر آتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے اندر سے ابھی تم آواز دو گی۔
کون ہے؟
اور میں مسکرا کر کہوں گا ماں! میں آ گیا ہوں، لیکن اب اس گھر میں ماں کی آواز نہیں آتی اور جواب دینے والا بھی کوئی موجود نہیں۔ اس گھر میں ہر طرف اداسی پھیلی ہوئی ہے جیسے اس گھر نے خوشی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا ہو۔
ماں! میں آج بھی اس دروازے کو دیکھتا ہوں جہاں تم کھڑی ہو کر مجھے رخصت کرتی تھی۔ مجھے دعا دیتی تھی اور مسکرا کر کہتی تھی۔
جلدی آ جانا، تمہارے بغیر میرا دل نہیں لگتا اور میں ہنستے ہوئے کہتا تھا، میری پیاری اماں جان! افسر بڑا سنگ دل بندہ ہے ورنہ میں تو جلدی گھر آ جاؤں۔
پھر ایک دن تم واقعی مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ تمہاری آواز، تمہاری ہنسی، تمہاری باتیں سب کچھ یک دم ختم ہو گیا۔ میں نے یقین نہیں کیا۔ میں نے دروازہ کھولا اور اونچی آواز میں پکارا
میری سوہنی ماں! مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی؟
میں سمجھا شاید تم باورچی خانے میں ہو گی۔ میں وہاں گیا مگر تم نہیں تھی۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ جو بچھڑ جاتے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ کہتے رہے کہ صبر کرو، وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ ماں کے بغیر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔ سب کچھ چلتا رہتا ہے مگر اندر سے انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ میں آج بھی صبح اٹھ کر تمہارے کمرے میں جاتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم میرے آنے کا انتظار کر رہی ہو گی مگر وہاں صرف خاموشی ہوتی ہے۔ تمہاری آواز کہیں سے نہیں آتی۔ کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم واقعی کہیں موجود ہو، بس نظر نہیں آ رہی۔ ایک دن میں تمہارے کمرے میں بیٹھا تھا۔ وہی پرانی چارپائی، وہی تکیہ، وہی چادر، سب کچھ ویسا ہی تھا۔ میں نے آہستہ سے تکیہ اٹھایا۔ اس میں آج بھی تمہاری خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
میں اکثر تمہاری تصویروں سے باتیں کرتا ہوں مگر تم جواب نہیں دیتی۔
ماں! زندگی تمہارے بغیر بے رنگ ہے۔ یہ رنگین دنیا مجھے اب زہر لگتی ہے کیوں کہ میرے پاس تم نہیں ہو۔ میں اکثر تمہارے کمرے میں بیٹھ کر روتا رہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب میں بیمار ہوتا تھا تو تم ساری رات جاگتی تھی۔ تم میرے لیے بے چین رہتی تھی۔ میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتی تھی۔ میرے بچے، تو جلدی ٹھیک ہو جائے گا اور واقعی میں اگلے دن ٹھیک ہو جاتا تھا کیوں کہ ماں کی دعا دوا سے زیادہ طاقت رکھتی تھی۔ اب جب میں بیمار ہوتا ہوں تو کوئی نہیں ہوتا جو ماتھا چھو کر کہے کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔ اب صرف دوائیں ہیں اور ایک ایسی تنہائی ہے جو بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
ایک دن میں نے خواب دیکھا۔ تم باورچی خانے میں کھڑی ہو۔ میں تمہیں دیکھ کر دوڑتا ہوا آیا اور کہا
ماں! تم واپس آ گئی؟
تم نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا
میرے بیٹے، میں تو کبھی تجھ سے دور گئی ہی نہیں، میں تو ہمیشہ تیرے پاس ہوں۔
ماں! اب میں دفتر سے جلدی گھر آ جاتا ہوں کیوں کہ تیرے بغیر میری زندگی بے رنگ ہو گئی ہے۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x