نظم
میری سہیلی میری ماں / دلشاد نسیم

میری سہیلی … میری ماں
دلشاد نسیم
تری چوڑیاں میرا ہاتھ تهامے رہتی ہیں
تری بالیاں کانوں میں سرگوشیاں سی کرتی ہیں
تیرے کنگن اور تیرے زیور تیرے قصے سناتے رہتے ہیں
جتنے پل تجھ بن بیت رہے ہیں ماں
سب میں مل کے بانٹ رہی ہوں
یہ ترے تحفے نہیں تری خوشبو ہے
جہاں جاوں ساتھ ساتھ رہتے ہیں
ماں …
تو سو گئی جس خاک میں
مرے سجدے اس پے قربان رہتے ہیں
آسماں کا ہر جمکتا ستارہ چہرہ ترا بن جاتا ہے
بادل کی ٹکڑیاں تصویر تری ہو جاتی ہیں
میری ماں .. میری سوہنی میری دلدار
تری غمگساری میرے آنسو پونچھ لیتی ہے
پر تو اپنی سنا …. میری سہیلی
کچھ تو بتا اب تو کیسی ہے ؟
لاکھوں درد تهے ا’س تن کو
دوا .. دعا سے دور
تو آرام سے تو ہے ناں ؟
میری سہیلی
میری ماں …




