اُردو ادبافسانہ

خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

داستاں گو بزرگ کہتے ہیں کہ جنات میں ایک عجیب خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار پھر جوان اور طاقتور ہو جاتے ہیں، جیسے زندگی آخری بار ان کے وجود میں لوٹ آئی ہو۔ شاید وہ بھی اس سے مبرا نہ تھی وہ جب اپنی جوانی کے ابتدائی ہنگاموں سے گزر کر وقت کے تھمے ہوئے ساحلوں پر پہنچی
تو ایک بار پھر اس کے اندر کوئی سویا ہوا موسم جاگ اٹھا۔ چاہے جانے کی وہی پرانی پیاس، وہی خود کو محسوس کروانے کی ضد…” جو کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ اگرچہ فاریہ ابھی محض بتیس سال تک ہی پہنچی تھی لیکن وہ آج پھر اپنے پرانے کپڑے اور عبایا پہن کر خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے اپنی پرانی تصاویر دراز سے نکالیں جو اس کے بچپن نوجوانی اور پھر آئی ای گلوبل ٹریڈ کمپنی میں جوب کی یادگاریں تھیں۔ اور ان کو بغور دیکھنے لگی اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ پہلی بار گھر سے حسبِ معمول لمبا کھلا برقعہ پہن کر نکلی اور شہر کے دوسرے کونے میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اپنی پسند کے کپڑے پہن کر بلاوجہ مارکیٹ میں پھرنے گئی تھی۔ اسے لمبا رستہ پیدل چلنے کی عادت نہ تھی۔ اس لئے سانس پھول گیا۔ اور سارے رستے میں نقاب کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہوتا رہا تھا۔ لیکن کسی کے قدموں کی چاپ نے اسے تصاویر اور عبایا وغیرہ سب کچھ چھپانے پر مجبور کر دیا۔۔۔

باقی شہر کے معمول کے برعکس، مرکزی حصے میں واقع اس پرانے محلے کی گلیوں میں، جہاں راتیں دیر گئے تک جاگتی تھیں۔ وہاں آمد و رفت پھر سے صبحِ کاذب سے ہی شروع ہو جاتی تھی۔ اندھیرے اور اجالے کے بیچ کی اس مدھم گھڑی میں لوگ سر جھکائے، تیز قدموں سے گزرتے، جیسے ہر ایک کو کہیں پہنچنے کی جلدی ہو، اور کسی کو کسی سے آنکھ ملانے کی فرصت نہ ہو۔
انہی گلیوں سے آگے نکل کر آخر پر ایک پرانا سا مکان تھا جس کے دروازے پر کبھی مکمل روشنی نہیں پڑتی تھی۔ اور اب تو دن کے وقت بھی اس کے صحن میں ایک ہلکی سی دھندلی سی کیفیت رہتی، جیسے روشنی اندر آنے سے پہلے ہی باسیوں کے اندر کے اندھیروں سے گھبرا کر واپس لوٹ جاتی ہو۔ بچے اکثر اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنی رفتار تیز کر لیتے، حالانکہ انہیں خود بھی معلوم نہ ہوتا کہ وہ کس سے احتراز کر رہے ہوتے تھے۔
وہ اکثر اسی وقت جاگتی تھی۔ جب پرانے محلے کے باقی لوگ سونے کی تیاری میں ہوتے۔ کھڑکی کے قریب کھڑی ہو کر وہ گلی کے اس خاموش بہاؤ کو دیکھتی، جہاں لوگ آتے جاتے تھے مگر ٹھہرتے نہیں تھے۔ اس کی نگاہوں میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ آ چکا تھا، جیسے وہ کسی گزرے ہوئے منظر کو بار بار اسی گلی میں تلاش کر رہی ہو اور شاید یہ وجہ تھی کہ اس کے دروازے پر دستک کم ہی ہوتی تھی
مگر اس کے بارے میں کہانیاں… اب بھی ہر گزرنے والے کے ساتھ ساتھ رینگتی تھیں۔

اس کا ایک با عزت سید گھرانے سے تعلق تھا ایسا باعزت گھرانہ کہ لوگ ان سے معاملات تو خیر کیا کرتے بات کرتے وقت بھی مختصر اور محتاط ہو کر کرتے۔ اس کا باپ ایک آڑھت چلاتا تھا اس کی آڑھت پہ کبھی بحث مباحثہ یا لین دین کا جھگڑا نہ ہوا تھا گویا وہ آڑھت نہیں بلکہ بارگاہ ہو خود وہ جب محلے میں کسی کے گھر یا بازار جاتی تو وہ جھکی ہوئی نظریں اور رستہ چھوڑتے ہوۓ لوگوں کو ہی دیکھتی۔

اس کے باپ کے پرانے ویسپا کی آواز دور سے ہی لوگوں کو مؤدب کر دیتی۔ کبھی کبھی جب وہ اپنے باپ کے ساتھ اس ویسپا پر نکلتی تو لوگوں کی نظروں میں جھانکنے کی کوشش کرتی لیکن ہر طرف احترام، ادب اور تسلیم شدہ نظریں دکھائی پڑتیں۔ اسے پھر ایک اور بھی واقعہ یاد آ جاتا کہ جب وہ ایک دفعہ ایک اچھا سا بیلٹ والا عبایا پہن کر اپنی ایک کافی پرانی کلاس فیلو سے ملنے شہر کے دوسرے حصے میں گئی۔ رستے میں اسے لوگوں نے غور سے دیکھا۔ وہ ایک دو جگہ پر رکی۔ ایک جگہ پر دو لڑکوں نے اس کا پیچھا بھی کیا۔ وہ اس دن ان تمام نظروں کو محسوس کر رہی تھی جن سے اسے بچنا سکھایا گیا تھا۔ اس نے اپنے ابا جان سے چھپ کر وہ بیلٹ والا عبایا لیا تھا جو کہ اسے اپنے روایتی کھلے پٹھانی برقعے کی طرح سنبھالنا نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ بے فکر ہو کر چلتی رہی وہ پہلی بار پہچانے جانے کے بعیر بازار میں چل رہی تھی۔ یا یوں کہ جہاں لوگ زیادہ اور مریدین کم تھے۔۔۔ آج اسے نقاب کے اندر سانس پھولنے کا حل مل گیا تھا۔ اپنی اس سہیلی کے گھر آنا جانا اس نے آہستہ آہستہ معمول بنا لیا۔ اس کیلئے اس نے اپنی ماں کے ذریعے ضمیر الدین شاہ کو منا کر شہر کے اسی دور دراز حصے میں واقع مدرسہ میں پڑھانا شروع کر دیا جہاں لوگ اسے نہیں جانتے تھے۔ اس طرح ان کو ایک باعزت ذریعہ آمدن بھی ہاتھ آ گیا۔ ایک دن خلافِ معمول ضمیر الدین شاہ کو بینک اکاؤنٹ میں ڈیڑھ لاکھ کی رقم موصول ہوئی۔ یہ فاریہ کا سالانہ بونس تھا۔ ضمیر الدین شاہ کو اچانک وہی چھوٹی سی فاریہ یاد آ گئی جو چھوٹے چھوٹے سکے شاپر میں ڈال کر گھماتی اور خود کو امیر تصور کر کے خوش ہوتی رہتی۔اور ضمیر الدین شاہ اسے ڈھیر ساری دولت، عزت، شہرت اور کامیابیوں کی دعا دیتا۔ فرزانہ بیگم کو آج بھی یاد تھا کہ کیسے وہ سارا دن اپنی میک اپ کی چیزیں اور دوپٹے وغیرہ سنبھالتی پھرتیں۔

وہ جب اپنے محلے سے آگے نکل کر اجنبی لوگوں کے درمیان بھرے بازار میں پہنچتی تو اسے زندگی کا احساس ہونے لگتا۔ لوگوں کی نظریں اس کے ماتھے سے نظریں پھسلنا شروع کرتیں اور پاؤں تک گرتی ہی چلی جاتیں۔ اور وہ اپنے اردگرد گرے ہوۓ لوگوں کی اٹھتی ہوئی نظریں محسوس کرتی۔ چوک میں کالج جانے کیلئے بس کے منتظر کچھ نوجوان کبھی بھی اسے دیکھنا نہ بھولتے اور وہ ان کے وہاں کھڑے ہونے کا ہمیشہ یقین رکھتی۔ اسے لگتا تھا کہ جیسے سارا معاشرہ سنار کی دوکان ہو اور وہ سنار کے شو کیس میں پڑا ہوا چمکدار سونے کا جڑاؤ ہار ہو۔۔۔ اسے خود پر پڑی برف پگھلتی محسوس ہوتی۔ یونہی جوب کیلئے جاتے آتے اسے چھے ماہ گزر گئے۔ آج اسے جلدی پہنچنا تھا لیکن رکشے کی باقی سواریوں کے باعث اسے دیر ہو سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے رکشے والے کو بھائی کا مقام دئیے بغیر ذرا نرم لہجے سے کہا کہ مجھے جلدی پہنچا دو تو وہ فوراً مان گیا۔ آج بس نہ ملنے کے باعث اسے رکشے والے کو کافی زیادہ کرایہ بھی ادا کرنا پڑا۔ دفتر پہنچنے تک وہ تھک جاتی اس لئے اے سی والے کمرے میں وہ گہرے سانس لیتی جو نقاب کے اندر ممکن نہ تھے۔ ایک دفعہ تو مجتبیٰ حسن نے اسے سوتے دیکھا۔ اور دروازہ بند کر کے ملازمین کو کہہ دیا کہ جب تک مس فاریہ نہ بلائیں تب تک اندر کوئی نہ جاۓ۔

ضمیر الدین شاہ اور فرزانہ بیگم دونوں آج بہت خوش تھے اس ماہ کے یوٹیلٹی بلز جمع کروا کر بھی ان کے پاس فاریہ کی تنخواہ میں سے کافی کچھ بچ گیا تھا۔ اب ان کے حالات بھی بدلنے لگے تھے۔ ایک دن فاریہ کو ایک آفر آئی۔ یہ آفر ایک پرائیویٹ ادارے کی طرف سے ریسیپشن پر بیٹھنے کی تھی۔ جہاں اس کا کام صرف آنے والے کسٹمرز کو ڈیل کرنا تھا۔ لباس، بول چال اور بدن بولی کے متعلق کچھ شرائط تھیں لیکن پھر بھی اس نے مدرسہ چھوڑا اور اپنی سہیلی کی مدد سے وہ ادارہ جوائن کر لیا۔ وہ ریسیپشن پر نقاب پہن کر بیٹھتی اور آنے والے کسٹمرز کو ڈیل کرتی۔ آفس کے پرانے اور بزرگ ملازمین نے اس کیلئے ضرورت سے زیادہ نرم خو ہونا شروع کر دیا۔ کچھ فیمیل کولیگز نے اس کی ٹانگیں بھی کھینچنا شروع کر دیں۔ لیکن سی ای او کی نظرِ التفات کے باعث محض چھے ماہ کے اندر ہی اس کی تنخواہ دوگنا سے بھی آگے نکل گئی۔ گھر والوں کو ابھی تک اس کی ریسیپشن والی نئی جوب کا کوئی علم نہ تھا اس نے بھی بتانا مناسب نہ سمجھا اور وقت گزرتا رہا۔ اسی اثناء میں وہاں ایک نئی ریسپشنسٹ لڑکی مہرین آئی۔ اس کا خود نمائشی کا انداز فاریہ کی باوقار شخصیت کے سامنے گہنا گیا۔ لیکن پھر بھی بہت سے دال خوروں کو بہت پسند آیا۔ خاص طور پی چیف اکاؤنٹنٹ اویس گجر کو۔ لیکن فاریہ کی خوبصورتی اور آگے بڑھنے کی خواہش کی شدت کے سامنے اس لڑکی کو بھی رستہ دینا پڑا۔ کچھ ہی عرصہ میں فاریہ اسسٹنٹ ٹو سی ای او کے آفس میں پہنچ چکی تھی۔ سی ای او مجتبیٰ حسن کو بھی ایک ایسی ہی لڑکی کی تلاش تھی۔ جس میں جوش و جذبہ اور لگن اور باقی ضروری خوبیاں بھی کافی موجود ہوں۔

سی ای او کی توجہ سے اس کے دن پھر گئے۔ ایک دن ایک بڑی سی گاڑی فاریہ کے گھر کے سامنے آ کر رکی اور وہ ایک ادا کے ساتھ گاڑی سے اتری تو ارد گرد کی فضاء گویا یکلخت ہی بدل گئی۔ مریدین نظریں جھکانے کی بجاۓ نظروں سے اشارے کرنے لگے۔ چہ میگیوئیاں ذو معنی الفاظ میں بدلنے لگیں۔ اس کے والد ضمیرالدین شاہ اور والدہ فرزانہ بیگم صورتحال کو سمجھتے ہوۓ خاموش رہ کر اس کو سپورٹ کرتے رہے۔ گھر کے اندر کا منظر آہستہ آہستہ بدل گیا۔ اس اپنے والد سید ضمیر الدین شاہ کی متوقع ناراضگی اور جھگڑا معاشی خوشحالی اور فارغ البالی کے باعث خوشگوار رضامندی میں بدل گیا۔ کمپنی کی طرف سے ملنے والی گاڑی اور پروٹوکول دیکھ کر علاقے کی بہت سی لڑکیاں اور رشتہ دار اس سے حسد محسوس کرنے لگے۔ گلی کے نکڑ پر رہنے والے ڈاکٹر گلریز مرزا صاحب گھر سے زیادہ ہی بن ٹھن کر نکلنے لگے۔ پیدل چلتے ہوۓ اسے بازار کی بھیڑ میں سے راستہ بنا کر گزرنا پڑا اور کسی نے اسے ہاتھ سے چھوا اور پھر بغیر معذرت کئے آگے بڑھ گیا۔

البتہ موٹر سائیکل مکینک اعجاز کو نہ فاریہ سے دلچسپی تھی نہ اس کی گاڑی سے غرض۔۔ اس کی للچائی ہوئی نظریں اب صرف ضمیر الدین شاہ کی نئی بائیک پر تھیں۔ نجانے کیوں لیکن نظروں ہی نظروں میں مقامی لوگوں نے بھی اب مریدی کرنا جیسے کم کر دی تھی وہ سید ضمیر الدین شاہ کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کرنے کی بجاۓ مصافحہ کرنے لگے، اور آڑھت پر بھاؤ تاؤ کرنا اب ضمیر الدین کو بھی آسان لگنے لگا تھا۔

مقامی آڑھتی مبارک شیخ ایک دن ضمیر الدین شاہ کے گھر پر بینک مینیجر زمان خاں کو لے کر آیا۔ زمان خاں جیسے گھاگ شکاری نے نہ صرف فورا ہی شاہ صاحب کی سفید پوشی تاڑ لی بلکہ اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں۔ ایسی چور نظریں کہ جنہیں شیخ اور شاہ صاحب دونوں نہ پہچان سکے۔ وہ کچھ دن قبل فاریہ کو دیکھ چکا تھا۔ جب وہ اپنی دور رہنے والی اسی سہیلی کے ساتھ مارکیٹ میں گھوم رہی تھی۔ اگرچہ پاسِ ادب کے باعث وہ بینک لون، رقم پر منافع وغیرہ آفر تو نہ کر سکا البتہ اس نے ضمیر الدین شاہ کے ایک ہی ڈگر پر چلتے ہوۓ کاروبار کو رقم پر منافع اور بینک قرضے کا سہارا دینے کی آفر کی۔ شاہ صاحب کی خاموشی دیکھ کر شیخ صاحب نے اپنی ضمانت دے دی اور پھر آڑھت پر آنا جانا زمان خاں کا معمول بن گیا۔ اب ضمیر الدین شاہ کو فاریہ کی تنخواہ اور اپنی آڑھت کی آمدن میں برکت واضح نظر آنے لگی تھی۔ وہ اب کاروبار اور پیری مریدی کو ٹھیک ٹھیک اپنی جگہ پر رکھنا سیکھ چکے تھے۔

بینک مینیجر اب بلاوجہ ضمیر الدین شاہ کے گھر ملنے آنے لگا تھا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات وہ قرض واپسی کے تقاضے کیلئے گھر بھی آ جاتا اور اس بہانے سے اس کی نظریں فاریہ کے بدن کے ہر حصے پر چپکنے کی کوشش کرتیں۔ جب کبھی وہ نظر آ جاتی تو بینک مینیجر کی زبان قرض کی واپسی کا تقاضہ کرنا بھول جاتی۔ ادھر ملٹی نیشنل کمپنی کے مالک مجتبیٰ حسن کی نظریں تول کر اسے اپنی کامیابی کی سیڑھی بنانے میں فاریہ کو بھی چنداں ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوتی۔ اس کی زندگی اپنی چھبیسویں بہار دیکھ رہی تھی۔

بہار کا مہینہ گزر رہا تھا اور اپریل کی گرمی آہستہ آہستہ روزمرہ کے معمولات پر اثر انداز ہونے لگی تھی۔ آج وہ صبح صبح دفتر پہنچی تو اسے بہت امید تھی کہ آج اسے بڑی کامیابی ملنے والی ہے۔ ملازم نے بتایا کہ صاحب آج صبح ہی صبح آۓ تھے اور ایک لفافہ اور زرد گلاب کا ایک۔پھول آپ کی دراز میں رکھوا کر چلے گئے۔ ملازم نے مزید بتایا کہ ان کی گاڑی کا کسی بائیک سے حادثہ ہوا تھا۔ حادثے میں صاحب بچ گئے۔ بس بائیک سوار سائیڈ پول سے ٹکرا کر جان سے گئے۔ فاریہ نے مجتبیٰ کی جان بچ جانے ہر اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔ فاریہ کے سرخ و سفید چہرے پر سرخی مزید بڑھ گئی۔ اس نے جلدی سے لفافہ کھولا اور پڑھنے لگی۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے کپکپاۓ جسم میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۔ ملازم کو لگا کہ شاید فاریہ کا سر چکرایا ہو وہ میڈم جی کہتا ہوا آگے بڑھا۔ لیکن فاریہ نے اسے روک دیا۔ اس نے خط کو فولڈ کیا دراز میں رکھا اور دراز بند کر دیا۔ اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ ملازم نے فاریہ کو چھٹی کے وقت بتایا کہ سی ای او مجتبیٰ حسن کسی سید خاندان کی لڑکی سے شادی کر رہا تھا۔ جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔

فاریہ نے سنا اور آج وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھے اور خود کو سنوارے بغیر ہی چلی گئی۔ اس کا نقاب پرانا ہو چکا تھا۔ اس نے گھر پہنچنے سے قبل ایک جنرل سٹور سے نیا ڈسپوزیبل ماسک خریدا اور لگا لیا۔

آج اس کے قدم بھاری ہو رہے تھے۔ زندگی نفسِ گریزاں لگ رہی تھی۔ اس کے دل کو کسی بڑی انہونی کا اشارہ مل رہا تھا۔ نجانے یہ خوش خبری تھی یا کچھ اور تھا۔ جو بھی تھا لیکن اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جلدی سے گھر پہنچے پھر آج مجتبیٰ حسن صاحب کا انتئار کرتے کرتے بھی اسے کافی دیر ہو گئی تھی۔ جب وہ گلی میں پہنچی تو وہاں کافی لوگ جمع تھے۔ وہ تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کے قریب پہنچی تو اس کے دروازے پر کافی بھیڑ تھی اندر سے عورتوں کے رونے دھونے کی آوازیں صورِ قیامت کی طرح سنائی دے رہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہی ان کی معتقد خواتین اس سے لپٹ گئیں اور زاروزار رونے لگیں۔ وہ جلدی سے انہیں پیچھے ہٹا کر دوڑ کر اندر داخل ہوئی تو اندر ایک چارپائی پر انہونیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اور اوپر سفید لٹھے کی چادر تھی۔ ضمیر الدین شاہ اور ان کی رفیقۂ حیات دونوں ایک حادثے میں اکٹھے ہی اللّٰہ کے حضور پیش ہو چکے تھے۔ اس نے بے اختیار اپنے سر پر اوڑھی ہوئی چادر کو چھوا۔ اسے لگا گویا وہ اوجِ ثریا سے زمین پر آ گری ہو۔ اسے ایک لمحے کیلئے یاد آیا کہ وہ سیدہ تھی۔ لیکن اتنا مختصر اور عارضی جتنا کہ کسی بچے کو جھوٹی آس دلا کر ذرا دیر کیلئے خاموش کرایا گیا ہو۔ ضمیر الدین شاہ اور فرزانہ بیگم کو منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا اور ہنستا بستا گھر ایک ہی دن میں تہی دامن ہو گیا۔

ضمیر الدین شاہ کے رسمِ چہلم پر بینک مینیجر زمان خاں ایک بار پھر آیا۔ مرحوم ضمیر الدین شاہ کی دینداری کا بہت اچھا ذکر کیا اور ساتھ ہی ان کے ایک گھاگ کاروباری ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ کچھ دیر وہ بیٹھا رہا جیسے باز پر تول رہا ہو۔ اس نے فاریہ کو اپنا خیال رکھنے کا کہا کہ اس کا چہرہ ڈھلنے لگا تھا۔
لیکن پھر جلدی سے اس نے بینک کے قرضے حساب کتاب کی فائل فاریہ کے حوالے کی اور کہا کہ امید ہے آپ اچھا حل نکالیں گی۔۔۔

اسی لمحے بینک مینیجر زمان خاں اور فاریہ شاہ کی نظریں ملیں۔ گویا دو شکاری اپنے اپنے شکار کو جانچ رہے ہوں۔ لیکن زمان خاں نے ایک رقعہ فاریہ کے ہاتھ میں چپکے سے تھما دیا اور نکل گیا۔ رقعہ کھلنا تھا کہ فاریہ کے چہرے پر ہلکی سی اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ اسے اپنا آپ اندر سے ہلکا محسوس ہونے لگا۔ زمان خان کے دئیے ہوۓ کھاتے کے مطابق ضمیر الدین شاہ کا بابرکت کاروبار سود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اسے اپنے والد کی بے ساختہ محبت یاد آئی تو اس کی روح کے اطمینان کیلئے اس نے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ یہ حل قبول کر لیا۔

ابھی بینک مینیجر باہر نکلا ہی تھا کہ باہر ایک بڑی سی گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔ بہت سی عورتیں گھروں سے باہر نکلیں انہیں میں سے کسی ایک عورت نے ڈرائیور سے لڑکی کا نام پتہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ آئی ای گلوبل کے سی ای او مجتبیٰ حسن اور ان کی مسز سیدہ مہرین مجتبیٰ ہیں اور فاریہ بی بی کے والد کی وفات پر افسوس کرنے آۓ ہیں۔ فاریہ کو اسے پہچاننے میں ذرہ برابر بھی دقت نہ ہوئی۔ یہ مہرین تھی۔۔۔ ڈاکٹر گلریز کی دور کی رشتہ دار۔ یہ وہی لڑکی تھی جس نے مجتبیٰ حسن کو لبھانے کیلئے ہر جائز ناجائز حربہ اختیار کیا تھا۔ لیکن یہ سیدہ کب سے ہو گئی ؟؟ اور اس لڑکے کو کیا دکھا کر شادی کی اس نے ؟؟؟ بھئی دین ایمان بدلتے تو کچھ دیر ہی نہیں لگتی۔ فاریہ نے سوچا اور کچھ کہے بغیر اپنے گھر کے اندر چلی گئی۔ لیکن اسے پھر زمان خان کا خیال آیا۔ وہ اپنے خدوخال پہچاننے کیکئے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ لیکن آئینہ شاید آج اس سے نظریں چرا رہا تھا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x