نظم

نظم :ماں تیرے بچھڑنے کا دکھ / شاعرہ : نسیم سکینہ صدف

ماں تیرے بچھڑنے کا دکھ 

نسیم سکینہ صدف

پچھلے برس

آج ہی کی شام

کاش میں اس کے قدم روک لیتی۔

اُداس ہوتی ہوا کے سامنے

اپنا دامن پھیلا دیتی

اور زیست کے زرد لمحوں میں سے

چند ساعتیں

چند سانسیں چرا لیتی

دھند میں لپٹی

وہ چند آخری راتیں

اپنی مٹھی میں سمیٹ لیتی

کہ جی بھر کر

تیری صورت دیکھ لیتی

محبت اور شفقت سے بھری

وہ آخری نظر

اپنے دل میں اتار لیتی

اور خوشبوؤں میں بسے

اس وجود کا لمس

اپنی سانسوں میں بسا لیتی

پھر شاید

راہِ حیات کے طویل سفر میں

اتنی ویرانی نہ ہوتی،

یہ دل یوں بےقرار نہ پھرتا

اور آنکھیں

یوں ہر شام نم نہ ہوتیں

کبھی کبھی سوچتی ہوں

اگر اُس شام

میں وقت کو تھام لیتی

تو شاید آج

یادوں کا یہ بوجھ

اتنا بھاری نہ ہوتا۔

ماں تیرے بچھڑنے کا

دکھ میرے ساتھ نہ ہوتا

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x