آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں آوازہ ِ خلقت میں چاہے نہ…
Read More »
مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ” تبصرہ نگار… محمد اکرام قاسمی انسان صدیوں کی…
Read More »
الگورتھم اور انسان کی وجودی بیگانگی الگورتھمز اور روبوٹس اب ہماری زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں داخل ہو چکے…
Read More »
غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے…
Read More »
کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے…
Read More »
آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں…
مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ” تبصرہ…
الگورتھم اور انسان کی وجودی بیگانگی الگورتھمز اور روبوٹس اب ہماری زندگی…
غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در…
کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو آنکھ خواب…
حیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے…
آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں آوازہ ِ خلقت میں چاہے نہ…
Read More »
مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ” تبصرہ نگار… محمد اکرام قاسمی انسان صدیوں کی…
Read More »
الگورتھم اور انسان کی وجودی بیگانگی الگورتھمز اور روبوٹس اب ہماری زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں داخل ہو چکے…
Read More »
غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے…
Read More »
کسی شہر میں مارٹن ایوڈیچ نامی ایک موچی رہتا تھا۔ اس کے پاس تہہ خانے میں ایک چھوٹا سا کمرہ…
Read More »
In an age where mobile devices have become indispensable, protecting your personal and professional data is more important than ever.…
Read More »آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں آوازہ ِ خلقت میں چاہے نہ سنے کوئ پر کاٹ لیے جائیں پرواز تو بنتی یے دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ گر انگارے سا جلتا ہو خنجر ہوں رویوں کے سُر چھانٹنے پڑتے ہوں بے سوز گویوں کے دیپک تری آنکھوں کے ہر شام جلیں گوری ہمراہ ترے شب میں سو دیپ چلیں گوری جذبوں کی صداقت کا احساس تجھی کو ہے رشتوں کو نبھانے کا بس پاس تجھی کو ہے دنیا کے بدلنے کی بس آس تجھی کو ہے دنیا سے الگ ہے تو دنیا ترے پاؤں کے ناخن سے بھی ادنی ہے جنگل ہو تو جنگل میں بیلہ ہو تو بیلے میں رونا تو اکیلے میں خوابوں کی ڈگر والی خوشبو کے سفر والی پیچیدہ نہ ہو جانا زیبا نہ تھا…
مزید پڑھیںمصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ” تبصرہ نگار… محمد اکرام قاسمی انسان صدیوں کی شاہراہوں پر نہ جانے کتنے کاروانِ حیات لیے گزرا ہے ۔ اگرچہ انسانی ذہن اِس کا مکمل احاطہ کرنے میں قدرے معذور نظر آتا ہے ۔ لیکن وقت کی صدیوں پر پھیلی ہوئی آنکھ نے انسانی زندگی کے تمام تر واقعات و حالات کو نہ صرف دیکھا بلکہ اپنے حافظے میں محفوظ بھی رکھا ہے۔اور جب منیرہ احمد شمیم کی تخلیقی صلاحیت صدیوں سے زمین کو اپنی رہائش گاہ بنائے ہوئے انسان کی شکست و ریخت کے اسباب کو تجزیاتی نگاہ سے دیکھتی ہے، تو اُن کے حل کی تلاش میں اپنے پسندیدہ رنگوں کی روشنی کو حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پکار اُٹھتی ہے ۔ عقل کو کچھ نہ ملا علم میں حیرت کے سوا دل کو بھایا نہ کوئی رنگ محبت کے سوا جس…
مزید پڑھیںغزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں تلوار سے کچھ درندے ہیں اسی کے منتظر آ رہا ہے جو سمندر پار سے پھر بنا اور پہلے سے بہتر بنا شہرِ غم ، مٹتے ہوئے آثار سے خواب میں دیکھا تھا جو پتھر کبھی آج لایا ہوں اسے بازار سے وہ سمجھتے ہیں جو میرے دل میں ہے کچھ نہیں کہنا مجھے سرکار سے Author توحید زیب
مزید پڑھیںکہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سرزمین ہے ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی سرخوشی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو اشہبِ خیال و فکر بے لگام ہے ابھی ترا اسیر موج میں ہے، خوش خرام ہے ابھی لہو کے رنگ میں فشار کا قیام ہے لٹی پٹی صدا میں اب بھی حوصلے کا نام ہے ابھی نظر کی پتلیوں میں چیختی ہے روشنی کہاں چلی اے زندگی تُو کر سکون سے تباہ حوصلہ فقیر کا وجود تک مٹا زمیں سے بے نوا فقیر کا کچھ اس طرح سے دفن کر دے زائچہ فقیر کا کوئی نہ ڈھونڈ پائے پھر نشانِ پا فقیر کا اسے سزا وہ دے کسی کو جو کبھی…
مزید پڑھیںحیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے ترتیب کررہا تھا،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا راج تھا،نمل نے اس کے ہونٹوں پر گہری ہوتی مسکان کو دیکھا تو آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب جا رکی،اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا،ایک لمحے کواس کے چہرے کا رنگ بدلا تھا،مسکراہٹ سمٹ گئی تھی،اس نے کچھ سوچا اور اچانک ہی اس کی آنکھوں میں نمل کےلیے طنز کی ایک لکیر ابھری تھی،نمل نے اس کے بدلتے رنگوں کو دیکھا اور سوالیہ انداز سے پزل بورڈ کوتکنے لگی اس نے پزل بورڈ کو چھوا تو حیدر نے نمل کی کلائی کو زور سے پکڑا اور استہزایہ انداز میں بولا! یہ پزل ہے ؛کیا تم اس پزل کو حل کرسکتی ہو؟ اس نے اس کو چیلنج کیا تھا،کیا ہے اس پزل میں؟نمل نے سوال کیا تھا؛ پزل کب بتایا جاتاہے؟ بس میں چیلنج…
مزید پڑھیںآخر کار رات کے پچھلے پہر بارش برس پڑی۔اسے لگا کہ بارش جب برسی تو صرف بارش نہیں بلکہ یادیں برس رہی تھیں۔ مجھے وہ وقت یاد آیا۔ جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، بارش کو سب کچھ دھو دینے کی اجازت دیتا ہوا، جیسے کچھ چیزوں کو بچانے کا حق وہ کب کا کھو چکا ہو۔ پہلی بوند اس کے ماتھے پر گری تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے وقت کے پرانے زخم پر انگلی رکھ دی ہو۔ اس نے پلکیں جھپکیں، مگر یادیں آنکھوں سے نہیں ہٹیں۔ سڑکیں چمکنے لگیں، گاڑیاں گزرتی رہیں، لوگ چھتریاں کھولتے رہے۔ اس بارش نے سڑکوں کو نہیں دھویا۔ اس نے وہ چہرے صاف کیے جو برسوں سے نقاب اوڑھے پھر رہے تھے۔ وہ ان چہروں کو پہچانتا تھا۔ انہی میں وہ خود بھی شامل تھا۔ گھٹا گہری تھی اور تنہائی اس سے بھی زیادہ۔ ایسی تنہائی جو ہجوم میں بھی…
مزید پڑھیںیوں لگ رہا تھا جیسے سورج سوا نیزے پر ہو۔ روز کی طرح آج بھی گھرمیں کہرام برپا تھا۔ بال کھولے, آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے, حال بے حال ،کمرے کی ہر چیز کو زیر و زبر کرنے کے بعد اب ٹانگیں پسارے مختلف ڈراؤنی آوازیں نکال رہی تھی۔ آنکھوں میں ایسا خون اترا تھا کہ آج کسی نہ کسی کا تو گلہ کاٹے ہی کاٹے۔ بوڑھے ماں باپ پہلے پہل تو پریشان ہوتے مگر اب ہاتھوں میں سر دیے ایک کونے میں دبکے اپنی قسمت پر ماتم کناں رہتے تھے۔ علاج معالجے سے زیادہ دم درود پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا۔ اب تک جانے کتنے ہی رنگ برنگے عاملوں کے ہاتھوں اپنی محنت کی کمائی لٹا چکے تھے۔ مگر بینش ڈھونگی عاملوں کو ان کے ڈھونگوں سمیت تگنی کا ایسا ناچ نچاتی کہ الامان الحفیظ ۔ ” بڑے ہی تگڑے جن کے نرغے میں ہے بینش۔۔۔۔۔۔…
مزید پڑھیںسبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند روشن ہوئے جا رہے ہیں نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے قرب میں بھی یہاں اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو ہیں لا تعلّق مگر ہیں مداروں میں جکڑے ہوئے دائرے۔۔۔۔ جن کے اندر کئی اور ہیں دائرے جو کہیں پر جدا۔۔۔ اور کہیں قوس دَر قوس آپس میں کٹتے چلے جا رہے ہیں کئی خط بَنے اِن کے پھیلاؤ سے اور اُن سے عجب زائچے کِھچ رہے ہیں ہر اِک زائچہ ایک دنیا ہے جس میں ہزاروں شبیہوں کی صورت گری ہو رہی ہے مسلسل حباب اُٹھ رہے ہیں کہ جو پھولتے پھیلتے چار سُو اِک تصادم میں ہیں اور ٹکراؤ کے حاشیوں پر چمکتے ہوئے دشتِ امکان کے اَن گنَت برق رفتار ذرّے جنم لے رہے ہیں وہ ذرّے کہ جن کی طلائی لکیروں کے آثار میں راستے۔۔۔۔ ریشہ…
مزید پڑھیںسائرن تمام ٹینکوں پر ایک ہی لوگو پینٹ کیا گیا ہے (ایک فاختہ کی چونچ میں سفید گلاب ) اور ان کے سائیلنسرز سے ہر لمحے ایک نیا رنگ نکلتا ہے سفید، سبز ، نیلا اور گلابی اور ہوا میں خوشبو بکھیرتا چلا جاتا ہے سوئے ہوئے لوگ اس خوشبو کو اپنے نتھنوں میں محسوس کرتے ہیں اور گہری نیند میں چلے جاتے ہیں۔ اور کروٹ بدل کر سنہرے خواب دیکھتے ہیں ۔ شہر کے بیچوں بیچ بڑی بلڈنگ کے پاس آج بڑے سپیکر پر ایک پیس فل دھن بجائی گئی تاکہ تھکے ہوئے شہری کچھ دیر اس میں کھو جائیں اور اپنی پریشانیاں بھول سکیں۔ ہم کتنی خوب صورت دنیا میں رہتے ہیں سنا ہے زمین پر جب انسان آباد ہوئے تھے تب جنگیں ہوا کرتی تھیں ایک مملکت دوسری کو چین سے نہیں رہنے دیتی تھی یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے ۔ بھلا انسان انسان کا…
مزید پڑھیںہما نے دور جاتے ایک وجود کو الوداعی نظروں سے دیکھا اور قمیض سرکا کر، کندھے کی گولائی پر پڑا نیل کا نشان دیکھ کر مسکرائی۔ پسینے سے تر بدن پر لباس چپک رہا تھا۔ دھول اور مٹی میں محنت و مشقت کے باعث سانسیں بے قابو ہو رہی تھیں۔ اس کی گوری گردن پر کالی لکیر واضح نظر آ رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے درد کی ٹیس، چہرے پر پھیلی مسکراہٹ، کرب میں بدل گئی تھی۔ جلدی سے پیراہن درست کیا اور گھر کی جانب خراماں خراماں چلنے لگی۔ اگلی صبح نئے عزائم لئے ایک بار پھر اسی میدان میں موجود تھی۔ ایک جگہ ٹھٹھک کر رک گئی۔ "تم زنگ آلود ہو۔ کیا ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہو ؟” ہما نے زمین پر پڑے وجود کا بغور جائزہ لے کر سوال کیا۔ "میری جلد بازی نے مجھے زنگ لگا دیا ہے۔” روہانسی بڑبڑاہٹ میں جواب ملا۔ "تمہیں جلد…
مزید پڑھیںایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتے کو رائٹ ہینڈ سرجیکل سامان کی گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی لیفٹ ہیند میں مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو سب سے اچھا والا کواٹر ہے، وہی نیلے درواجے والا! وہ کالا صاحب کا گھر ہوتا۔ کالا صاحب یعنی پیٹر فرانس کا ماں باپ گوا سے کراچی آیا تھا۔ پیڑ ان کا ایکو ایک ہی بیٹا ۔ باپ پال فرانسس صدر میں مشنری اسکول میں منشی تھا۔ وہ اکھا جندگی ادھرئیچ کام کیا اور ادھر سے ہی ریٹائر ہوا۔ پیٹر بھی اسی اسکول سے پڑھا، پھر کالج سے ڈگری لے کر، کے۔ ڈی۔ اے میں بابو بھرتی ہوا اور کھوب سارا مال پانی بنایا۔ ماں مارتھا تو جب پیڑ انٹر میں تھا، تب ئیچ ہی ہیون میں چلا گیا تھا۔ بس پھر پال اکھا شام دارو پی کر ٹن رہتا۔…
مزید پڑھیںغزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان میں اس کے کرے بات کوئی اور اونچی نہ رہے ناک مری کب سے سونی ہیں منڈیریں گھر کی رہ گئی جانے کہاں ڈاک مری دیکھتا رہتا ہوں اب کھانے کو بس یہی رہ گئی خوراک مری وہ بھی کیا دن تھے جنوں کے ذیشان حسن کرتا تھا قبا چاک مری Author توحید زیب
مزید پڑھیںغزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے کو شبنم میں گوندھ کر ہم نے سرشتِ عالمِ اَضداد تازہ کر دی ہے نئے سِرے سے اُسارا ہے مُنہدم کر کے خدا نے دَہر کی بنیاد تازہ کر دی ہے اُڑا کے لے گئی دل سے غُبار غفلت کا اُکھڑتی سانس نے فریاد تازہ کر دی ہے نہ تھی گریز کی صنعت میں تازگی شاہد خلش نے قوّتِ ایجاد تازہ کر دی ہے Author توحید زیب
مزید پڑھیںپدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے، اور تم… کنول کے پھول پر شبنم کی ایک بوند کی طرح ظاہر ہوئے۔ تم مراقبے کی گہرائیوں میں ڈوبے تھے، اور میں سوالوں کے بھنور میں بھٹکتا رہا، مگر ہماری راہیں اسی ایک ندی سے پھوٹیں جو ادھیانہ کی مٹی میں ازل سے رواں تھی تبت کی ہواؤں میں ابھی تک تمہاری سانسوں کی بازگشت ہے، اور میں ادھیانہ میں تمہارے سائے کی تلاش میں سرگرداں ہوں نوٹ: پدماسمبھاوا، جس کا مطلب ہے "کنول سے جنم لینے والا”، روایت کے مطابق ادھیانہ (Uḍḍiyāna)، وادیٔ سوات (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ وہ آٹھویں صدی کی ایک مافوق الفطرت اور روحانی شخصیت تھے، جنہیں تبتی بدھ مت (Vajrayana Buddhism) کے بانیوں…
مزید پڑھیںاپنی بات عصرِ حاضر برق رفتار اور فتنہ پرور ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی کے مختلف ٹولز نے مواد اور معلومات کی دستیابی کو سہل اور تیزتر بنا دیا ہے ‘ جس سے یہ تاثر فروغ پا رہا ہے کہ کتاب کا وجود آئندہ چند برسوں میں ختم ہو جائے گا۔ کتاب کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر بات کرتے ہوئے اکثر اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کتاب نے ہر دور میں درپیش مسائل اورچیلنجز کو قبول کیا اور ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوئی ہے ۔ ابتدا میں کتاب زبانی روایتوں کی صورت میں رہی اور طویل عرصے تک سینہ بہ سینہ چلتی رہی ہے۔ جب انسان نے ترقی کے مدارج طے کرنے شروع کیے تو کتاب چمڑے، درختوں کی چھال ، پتوں ،پتھر کی سلوں ، لکڑی اور مٹی وغیرہ کی تختیوں پر لکھی جانے لگی۔ کاغذ کی ایجاد نے کتاب…
مزید پڑھیں