اردو فکشن میں افسانے اور کہانی کے فرق پر اکثر بحث چھڑی رہتی ہے کہ افسانہ کیا ہے، کہانی کیا…
Read More »
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ اشرف نے دروازہ کھولا تو سامنے مالک مکان کھڑا تھا۔ وہ بولا: "اشرف صاحب!…
Read More »
شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت…
Read More »
سلام ڈاکٹر شاہین زیدی ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے بجھنے پہ…
Read More »
غزل احتشام حسن یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل…
Read More »
اردو فکشن میں افسانے اور کہانی کے فرق پر اکثر بحث چھڑی…
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ اشرف نے دروازہ کھولا تو سامنے…
شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں…
سلام ڈاکٹر شاہین زیدی ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان،…
غزل احتشام حسن یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل…
سلام ثقلین جعفری حسین صرف ترا غم ہی چار سو ہوگا ہر…
اردو فکشن میں افسانے اور کہانی کے فرق پر اکثر بحث چھڑی رہتی ہے کہ افسانہ کیا ہے، کہانی کیا…
Read More »
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ اشرف نے دروازہ کھولا تو سامنے مالک مکان کھڑا تھا۔ وہ بولا: "اشرف صاحب!…
Read More »
شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت…
Read More »
سلام ڈاکٹر شاہین زیدی ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے بجھنے پہ…
Read More »
جلے ہوے سایے مصنفہ : کاملہ شمسی مترجم۔ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (زیرِ اشاعت ناول کے اردو ترجمے کا…
Read More »
سندھ اب بھی ‘ای’ سگنل پر پھنسا ہوا، پارلیمنٹیرینز کا پی ٹی اے سے کارروائی کا مطالبہ قومی اسمبلی کی…
Read More »اردو فکشن میں افسانے اور کہانی کے فرق پر اکثر بحث چھڑی رہتی ہے کہ افسانہ کیا ہے، کہانی کیا ہوتی ہے، اور ان دونوں میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ اردو فکشن کی دو الگ الگ اصناف ہیں یا ایک ہی تخلیقی اظہار کے دو مختلف وسیلے؟ عام طور پر افسانے اور کہانی کے فرق کو سمجھنے کی کوشش میں اچھے خاصے قلمکار بھی الجھ جاتے ہیں، اور اسے واضح کرنے کی کوشش میں موضوع کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی موضوع پر میری یہ مختصر سی کاوش بنیادی طور پر نئے لکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ اکثر افسانہ لکھنے والے احباب مجھے اپنے افسانے صلاح مشورہ کے لیے بھیجتے رہتے ہیں تو ان میں نمایاں مسئلہ افسانے اور کہانی کے درمیان فنی فرق کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے یا وہ اس فرق تک پہنچ نہیں پاتے، جس کے باعث وہ اپنی ہر تحریر…
مزید پڑھیںدروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ اشرف نے دروازہ کھولا تو سامنے مالک مکان کھڑا تھا۔ وہ بولا: "اشرف صاحب! اگلے مہینے تک مکان خالی کر دیں، میں نے اوپر والا پورشن اپنے بھتیجے کو دینا ہے۔” اشرف نے کہا: "اکرم صاحب! میں بوڑھا آدمی ہوں۔ میری بیوی بہت بیمار ہے۔ ہم اتنے بڑے شہر میں کہاں نیا مکان ڈھونڈتے پھریں گے؟” لیکن مالک مکان نے عمر کا بھی لحاظ نہ کیا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا۔ "اشرف صاحب! مکان جلد خالی کر دیجیے گا۔” اس نے دروازہ بند کیا اور اندر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو وہ پریشان ہو گئی۔ کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ پھر اس نے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "کرائے کے مکان میں رہنے والے آدمی کو کبھی سکون نہیں ملتا۔ ہر وقت یہی فکر لگی رہتی ہے کہ نہ جانے کب مکان خالی کرنے کا حکم مل…
مزید پڑھیںشہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت کے آگے سر نیہوڑ گئے۔ اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے آہستہ آہستہ بلند و بالا عمارتوں کی چوٹیوں پر سر اٹھاۓ کھڑے ہوۓ نظر آنے لگے۔ اس کی مہارتِ فن کا یہ عالم ہو گیا کہ وہ مجسمے زندہ انسانوں کی سی شباہت دینے لگے۔ اس پر سب سے زیادہ اعتراض ان رات کے بوڑھے چوکیداروں کو تھا۔ لیکن اس کے مجسموں میں ایک خرابی آہستہ آہستہ نظر آنے لگی۔ وہ جونہی بلندی پر ٹکتے، سورج کی شعاعوں کے آگے ان کے چہرے پھٹنے لگتے ان میں دراڑیں واضح ہونے لگتیں۔ اور وہ بد صورت لگنے لگتے۔ تاہم کاریگر کی مہارتِ فن انہیں پھر بھی قائم رکھتی۔ ان کے تاثرات زندہ لگتے، گویا وہ کچھ کہنا چاہتے تھے۔۔۔ آہستہ آہستہ شہر کے دوسرے مجسمہ ساز مشینوں سے ڈھلے ہوۓ مجسموں…
مزید پڑھیںسلام ڈاکٹر شاہین زیدی ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے بجھنے پہ آ گیا تھا تیرے دین کا چراغ اصغرؑ کے خوں سے اس کو جلایا حسینؓ نے صدیوں سے انبیا نے بھی کوشش ہزار کی کربل میں وہ بھی کر کے دکھایا حسینؓ نے صحرا کی تپتی ریت پہ اک معجزہ ہوا ایک ایک کر کے سب کو سلایا حسینؓ نے زینبؑ کے لخت ہائے جگر، دین پر نثار بی بیؑ کو یہ بھی آ کے بتایا حسینؓ نے ابنِ حسنؑ کی لاش ہوئی ایسی منتشر ٹکڑے سمیٹ کر ہی اٹھایا حسینؓ نے دستِ عباسؑ کٹ کے بھی لکھتے رہے وفا درسِ وفا بھی اُن کو سکھایا حسینؓ نے شاہیںِ یزیدی فوج کا تختہ الٹ گیا جب نعرۂ تکبیر لگایا حسینؓ نے Author فرح خان
مزید پڑھیںغزل احتشام حسن یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل پڑے ہیں وہ تشنہ لب جو سراب آنکھیں سجا کے نکلے سمجھ رہے تھے کہ چند قدموں پہ جل پڑے ہیں تمہارے جلووں سے دو قبیلوں میں ٹھن گئی ہے پرانے یاروں کی دوستی میں خلل پڑے ہیں یہ سن کے پیاسوں نے ایک صحرا کا رخ کیا تھا کہ دشت میں ایڑیوں سے چشمے ابل پڑے ہیں کہو تو پل بھر میں ختم کر دوں میں دے کے بوسہ جو برہمی سے تمہارے ماتھے پہ بل پڑے ہیں اسے یہ سمجھا کے میں نے خود سے جدا کیا ہے جہاں میں میرے ہزار نعم البدل پڑے ہیں ہمارے حلیے مقامی لوگوں سے مختلف تھے سو ختم کر کے پڑاؤ بستی سے چل پڑے ہیں اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں رکے ہوئے پانیوں پہ جیسے کنول پڑے…
مزید پڑھیںسلام ثقلین جعفری حسین صرف ترا غم ہی چار سو ہوگا ہر ایک قریہ میں ہوگا ، یہ کو بکو ہوگا حسین تھام کے بیٹھے ہیں دل کو لاشے پر کوئی دکھاؤ جو اکبر سا خوبرو ہوگا جو کٹ مرے ہیں رہ حق میں ریگ کربل پر کسے مثال کریں کون ہو بہو ہوگا جو ان کو حق کی علامت یہاں پہ جانے گا یقین جانیں فقط وہ ہی سرخرو ہوگا نبی کی آل کے دشمن یہ بات یاد تو رکھ بروز حشر ترے ہاتھ پر لہو ہوگا زمانہ روک رہا ہے جسے زمانوں سے وہ زکر اب تو زمانے میں چار سو ہوگا مجھے تو ناز ہے ثقلین اپنی نسبت پر مروں گا جب تو علی میری جستجو ہوگا Author فرح خان
مزید پڑھیںسلام ارشاد نیازی کچھ اس لیے بھی تھے لشکر تمام گھبرائے گلوئے خشک نے ایڑی سے تخت الٹائے خدا کرے کہ تمہاری بھی ایک بیٹی ہو تمہیں حُسین کی بیٹی کا دُکھ سمجھ آئے بتاؤں کیسے کہ اکبر حسین کتنے ہیں سمجھ لو چاند جنہیں دیکھ کر ہے شرمائے ابھی تلک جو معطر زمینِ کربل ہے حسینی خون کی تاثیر دشت مہکائے کبھی لحد پہ کسی پیڑ کا نہ سایہ کیا کبھی جنازے پہ لوگوں نے تیر برسائے یہ جانتے ہوئے تم دن ہے دس محرم کا ہمیں یہ پوچھتے ہو چہرے کیوں ہیں مرجھائے چراغِ خیمہ بجھایا گیا تھا سچ ہے مگر حسین چھوڑ کے کوئی بھلا کہاں جائے بس ایک نعرہ ء حیدر بجز نہیں کچھ بھی بدن کو سونپے جو قوت لہو کو گرمائے جسے کہیں سے میسر شِفا نہ ہو ارشاد ہے مشورہ کہ وہ لنگر حسین کا…
مزید پڑھیںڈاکٹر شاہدہ رسول اس وقت دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ بصارت سے محرومی کے باوجود دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو کے تحقیقی مجلہ ارمغان کی چیف ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ اعزاز کسی اور نابینا فرد کو حاصل نہیں ہو سکا۔ وہ 2015 میں دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئیں اور 2021 سے 2023 تک سربراہِ شعبہ اردو کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتی رہیں۔ تحقیق و تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ایم فل کی سطح پر اب تک ان کی زیرِ نگرانی بیس طالبات اپنے تحقیقی مقالے مکمل کر چکی ہیں، جبکہ رواں برس ایم فل کی پانچ طالبات ان کی نگرانی میں تحقیق کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تین طالبات کو پی ایچ ڈی بھی مکمل کروا…
مزید پڑھیںشہر کے پرانے سرکاری ہسپتال کی عمارت دور سے یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وقت نے اسے اپنے تھکے ہوئے کندھوں پر اٹھا رکھا ہو۔ دیواروں پر سفیدی کا رنگ جگہ جگہ سے اتر چکا تھا، کھڑکیوں کے جنگلے زنگ آلود تھے، برآمدوں میں بکھری ہوئی دھوپ بھی مریضوں کی طرح بے جان لگتی تھی۔ جون کا مہینہ تھا، ہوا میں گرمی کے ساتھ ایک عجیب قسم کی نمی شامل تھی، جیسے پورا شہر بخار میں پھنسا ہوا ہو اور سانس لیتے ہوئے اپنے اندر کی بھاپ باہر چھوڑ رہا ہو۔ ہسپتال کے لمبے برآمدوں میں دواؤں، پسینے، جراثیم کش محلول اور ابلتی ہوئی بے یقینی کی ملی جلی بو پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف لوگ تھے مگر ہر شخص اپنے دکھ میں اکیلا تھا۔ اسی راہداری میں، جہاں ایک طرف ایمرجنسی کا دروازہ بار بار کھلتا اور بند ہوتا تھا جہاں مریضوں کے عزیز رشتہ دار آ جا رہے…
مزید پڑھیںتین دن کی مسلسل کاروباری مصروفیات ، تھکا دینے والی میل ملاقاتوں اور دماغ کو چکرا دینے والے حساب کتاب کے بعد بالاخر میں دِن ڈھلے انطالیہ سے اپنے شہر الاشہرکی جانب روانہ ہوا۔ترکی کے خوبصورت شہر انطالیہ میں سیاحوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر میں نے اپنے بزنس پارٹنرمصطفے کے ساتھ مل کر چند ماہ بیشتر ہی یہاں مختلف مقامات پر اپنے ہوٹل کی تین شاخیں کھولی تھیں۔ میں انہی کے معاملات کا جائزہ لینے آیا تھا۔یہاں آ کر یہ اطمینان ہوا کہ سب کچھ خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا تھا۔بچوں کے امتحانات کے باعث میں اہل خانہ کو ساتھ لے کر نہیں آ سکا جبکہ مصطفے کا میری غیر موجودگی میں الاشہر میں رہنا ضروری تھا۔ مجھے ڈرائیو کرتے ہوئے تین گھنٹے گذر چکے تھے اور ابھی مزید دوگھنٹوں سے کچھ زیادہ سفر باقی تھا کیونکہ راستے میں میں دو جگہ سستانے کے لیے کچھ…
مزید پڑھیںجب سکول محفوظ نہیں ہوتے: کاہنہ کے سانحے سے پاکستان کے تعلیمی نظام، قیادت اور قومی ضمیر کے نام ایک کھلا خط تحریر: شعیب طاہر | زمرہ: تعلیمی اصلاحات، قومی امور "تعلیم کی پہلی شرط نصاب نہیں، تحفظ ہے۔ جو ریاست اپنے بچوں کو کمرہ جماعت میں زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتی، وہ انہیں مستقبل کے خواب دیکھنے کا حق بھی نہیں دے سکتی۔” لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ، جس میں ایک مقامی ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد طالب علم شدید زخمی ہوئے، صرف ایک افسوسناک خبر نہیں ہے؛ یہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس نے پورے ملک کے اجتماعی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ ان ہزاروں والدین کے دلوں میں خوف، اضطراب اور بے یقینی کی ایک گہری لہر پیدا کر گیا ہے جو ہر صبح اپنے معصوم…
مزید پڑھیںمیں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں (فرحت احساس) انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہے جو بہت زیادہ وسیع، پراسرار اور گہری ہے۔ اس دنیا میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ اداسی بھی شامل ہے لیکن کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں کی قید میں نہیں آتے۔ جب انسان دکھ، تنہائی یا کسی اذیت سے گزرتا ہے تو اس کے جذبات آنسوؤں کی شکل اختیار کر کے چپ چاپ بہنے لگتے ہیں۔ یہ آنسو ان کہی کہانیوں، ادھوری خواہشات اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جب ہم معاشرے میں نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ہر چہرہ ایک نقاب کے پیچھے چھپا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انسان اس دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ دن بھر کی مصروفیات اور ذمہ داریوں کا…
مزید پڑھیںسلام منزہ سحر صدقہ حسین کا ہے یہ چاہت حسین کی دل میں بسی ہوئی ہے محبت حسین کی سمجھا نہیں یزید نے رتبہ حسین کا بالا ہے تخت و تاج سے عزت حسین کی دیکھا نہیں ہے جس نے بھی پانی کی پیاس کو جانے گا کس طرح سے وہ عظمت حسین کی سجدہ ادا کیا ہے جو تیغوں کے سائے میں دیکھے کوئی تو شان عبادت حسین کی صدیاں گزر گئی ہیں زمانے گزر گئے بھولا نہیں جہان شہادت حسین کی Author فرح خان
مزید پڑھیںسلام احتشام حسن صدائے گریہ و ماتم کہاں اسیر ہوئ جہاں دبائی وہیں سے نمو پذیر ہوئی ہماری دھڑکنیں ہیں مرثیہ ء_ میر انیس ہماری آہ و فغاں نوحہء_ دبیر ہوئی حسین سے ہے مودت متاع_ کل اپنی یونہی نہیں یہ مرا مافی الضمیر ہوئی لہو کی دھار جو نکلی ہے نطق_ اصغر سے یزید_ وقت ترے نام پر لکیر ہوئی چراغ ، خیمہ، اقارب ترا بیان حسین ترے وسیلے سے تجدید_ ذوالعشیر ہوئی غم_ حسین ملا ہے ہمیں وراثت میں یونہی نہیں یہ صفت شامل_ خمیر ہوئی ہمارے مسئلے حل یا علی مدد سے ہوئے کہیں پہ مدحت_ شبیر دست گیر ہوئی خدا کا شکر صف_ دشمناں سے حر نکلے خدا کا شکر کوئی آنکھ تو بصیر ہوئی حسن بہشت کے شاہوں کی بارگاہ ہے وہ کہ جس میں پیش تری کاوش_ حقیر ہوئی Author فرح خان
مزید پڑھیںسلام طاہر محمود ہاشمی نہیں نہیں کہ ترا امتیاز مسئلہ ہے حسنؐ حسینؐ پہ احمدﷺ کا ناز مسئلہ ہے خدا کو سجدہ کناں ہیں فریق دونوں طرف غلط کہ دشتِ بلا میں نماز مسئلہ ہے علیؐ ولی سے ملاقات میں ہے یہ حائل کچھ اس لیے مِرا عمرِ دراز مسئلہ ہے یہ لا الہٰ کی ضمانت ہے پس ہمیشہ سے یزیدیت کو حسینی محاذ مسئلہ ہے خدا شعورِ درِ سیدہؓ نصیب کرے ہمارا کب یہ نشیب و فراز مسئلہ ہے ولا کی عالمِ ارواح میں ہوئی آمین مگر زمیں پہ ابد تک یہ راز مسئلہ ہے غمِ حسین کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں ہم ایسے لوگوں کا سوز و گداز مسئلہ ہے برائے جَون علیہ السلام کہتے نہیں منافقین کا قدرِ ایاز مسئلہ ہے ہمارے سینے پہ ماتم کے کم نشاں ہیں ابھی غمِ حسین میں تن کا لحاظ مسئلہ ہے مَیں واجبی سا تعلق بھی کیوں رکھوں طاہر…
مزید پڑھیں