غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں…
Read More »
غزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں یہ کام…
Read More »
غزل جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں بھاڑ میں جائیں خزانے اور دولت خاک میں …
Read More »
فلسفہ کے لئے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟ فلسفہ صرف عقل کی حاکمیت کا نام ہے۔ فلسفے میں ہر…
Read More »
سفر زادے سفر زادے! میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے…
Read More »
غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں …
غزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں…
غزل جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں …
فلسفہ کے لئے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟ فلسفہ صرف عقل…
سفر زادے سفر زادے! میسر آ در و دیوار پر کائی جمی…
میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا. وہ کریانہ کی…
غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں…
Read More »
غزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں یہ کام…
Read More »
غزل جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں بھاڑ میں جائیں خزانے اور دولت خاک میں …
Read More »
فلسفہ کے لئے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟ فلسفہ صرف عقل کی حاکمیت کا نام ہے۔ فلسفے میں ہر…
Read More »
جلا ہوا جہاز / شاعر : جان ڈن | مترجم : اعجازالحق اک جلتے ہوئے جہاز سے جہاں آگ…
Read More »
iQOO launched the Neo10 in China in November, and now it seems almost ready to make it to international markets,…
Read More »غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں میں دنیائے دل کو زیر و زبر کر رہا ہوں میں کرنا نہیں تھا عشق مگر کر رہا ہوں میں جس غم نے روز و شب پہ سیاہی انڈیل دی سب پنچھیوں کو اس کی خبر کر رہا ہوں میں جاتے ہوؤں کو میری طرف سے نوید ہو زندہ دلی سے وقت بسر کر رہا ہوں میں کاندھوں پہ اپنے لاد کے حساسیت کا بوجھ وحشت کے پل صراط کو سر کر رہا ہوں میں اس نے کبھی کناروں کے پاؤں نہیں چھوئے جس جل کے پانیوں پہ سفر کر رہا ہوں میں خود میں اگا کے یاد کے پودے نئے نئے اچھے بھلے وجود کو تھر کر رہا ہوں میں دل میں جو تیری یاد کا جگنو جلایا تھا اب رفتہ رفتہ اس کو شرر کر رہا ہوں میں …
مزید پڑھیںغزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں یہ کام ہم سے نہ ہو پائے گا کسی صورت خزاں رسیدہ شجر کو بھی سایہ دار کہیں جسے بھی دیکھیے ہنستا ہے رونے والوں پر کوئی نہیں ہے یہاں جس کو غم گسار کہیں ہمیں تو گھومتے رہنا تھا بس اسی کے گرد وہ جا چکا ہے تو اب کس کو ہم مدار کہیں کوئی ولی ہو تو انگلی اٹھائے ، بات بھی ہے گناہ گار بھی مجھ کو گناہ گار کہیں ؟ ہزار اس کے مراسم نظر کے سامنے ہیں بتائیں کس طرح اس کو وفا شعار کہیں کبھی کبھی تو یہ دل چاہتا ہے بعدِ فراق سسک کے شعر کہیں اور بے شمار کہیں Author توحید زیب
مزید پڑھیںغزل جب یہ دنیا فانی ہے تو عیش و عشرت خاک میں بھاڑ میں جائیں خزانے اور دولت خاک میں خوبصورت چہرے لے جاتی ہے قسمت خاک میں اور مل جاتی ہے کیسی کیسی صورت خاک میں کانپ اٹھتا ہوں میاں انجام اپنا سوچتے جب کبھی ملتی ہے یاروں کی محبت خاک میں زندگی بھر بوجھ اِس کا میں اٹھاؤں بھی اگر مل ہی جائے گی کسی دن میری وحشت خاک میں دوست! آ بھی جاؤ اب تیمار داری کے لئے یا کہ کرنے آؤ گے تم بھی عیادت خاک میں اتنے کاموں میں خیالِ بندگی بھی کب رہا؟ عین ممکن ہے ملے گی تجھ کو فرصت خاک میں اس جہاں میں مل لیا کر دوستوں سے تو کبھی کون ملنے کی کرے گا تجھ سے زحمت خاک میں نوچ کھائے گا تمہیں بھی وقتِ آخر حاکمو مل ہی جائے گی تمہاری بھی رعونت خاک میں رب نے مرنے پر…
مزید پڑھیںفلسفہ کے لئے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟ فلسفہ صرف عقل کی حاکمیت کا نام ہے۔ فلسفے میں ہر اثبات و نفی کا مرجع صرف انسانی عقل ہوتی ہے۔ فکر اس وقت تک فلسفیانہ نہیں ہوتی جب تک وہ عقائد، آئیڈیالوجی اور شناختوں کے دائرے سے باہر نہ ہو۔ عقلی فکر کو مقید کرنے والے تمام سانچے ادب اور فن جیسے فریب کار عنوانات کے ذریعے پردہ پوشی کرتے ہیں، اور سب سے خطرناک فریب وہ ہے جب عقائد، آئیڈیالوجی اور شناختیں چھپ کر فلسفہ، معرفت اور علم کے پردے میں اپنے احکام مسلط کرتے ہیں۔ بہت سی تحریریں ایسی ہیں جنہیں فلسفہ نہیں بلکہ علمِ کلام کہا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ فلسفیانہ عنوانات اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب عقل کسی عقیدے کے فریم میں سوچتی ہے تو اس کی فکر چھپا ہوا لاهوت بن جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ “فلسفے کی اسلامی تشکیل” کی…
مزید پڑھیںسفر زادے سفر زادے! میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے ہیں دل برباد روتا ہے تجھے دنیا کی خوشبو ساتھ لے کر پھر رہی ہے اور تو تاخیر پر تاخیر کرتا جا رہا ہے یہاں پتھر ہوئی جاتی ہیں آنکھیں اور سینے کا روپہلا زخم ادھڑتا جا رہا ہے لوٹ آ میرے سفر زادے ترے پیروں کے چکر نے کسی بےبخت کو اک دائرے میں قید کر رکھا ہے اور اس دائرے کی سبز کائی سے اٹی دیوار در دیوار پر اگنے لگے ہیں سانپ نیولے تری بے بخت کو ڈس لیں گے خوش بختا! مہاریں موڑ پِیڑیں* بڑھ رہیں ہیں وے طبیبا! وگرنہ یوں نہ ہو پیارے سفر زادے! تو لوٹے تو جنہیں آباد چھوڑا تھا تجھے برباد بھی نہ مل سکیں پیارے سفر زادے مہاریں موڑ Author توحید زیب
مزید پڑھیںمیری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا. وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور میں تیزی سے اوپر چڑھ رہا تھا. ہماری زور دار ٹکر نے جہاں اس کا خریدا گیا سامان بکھیر دیا وہیں میرا وجود بھی. تھڑے سے گرنے باعث اسے گھٹنے میں شدید چوٹ آئی تھی. میں نے انسانی ہمدردی کے ناطے اس کا ضائع شدہ سامان دوبارہ مول لے کر اسے اپنی نیلی کلٹس میں اس کے گھر اتارا دیا (مگر کیا یہ واقعی محض انسانی ہمدردی تھی؟؟ ) راستے بھر عقب نما آئینہ ایک حیرت کدہ بنا رہا اور ہماری آنکھیں الجھتی رہیں. اس کی مے گوں آنکھوں کو درد اور نمناکی نے سحر طراز کر رکھا تھا. میں کہ پیشے سے محاسب یا حساب دار پر طبیعت سے شاعر تھا. بچ نہ سکا اور تیرِ نظر سے گھائل ہوا. ظالم دل کو اس سے کیا غرض کہ کس…
مزید پڑھیںغزل سید ضیاء حسین مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے ہو سکے درد کا درماں تو کِیا بھی جائے سوچتا رہتا ہوں، اِک بات کہوں میں کُھل کر اِتنی ہمت تو مِلے، اُن سے کہا بھی جائے تیری تصویر جو دیکھی تو یہ خواہش جاگی تجھ سے اِک بار، بہر طَور مِلا بھی جائے عشق کرنا ہے تو پھر مت کرو آہ و زاری منتخب درد کِیا ہے تو سہا بھی جائے سچ ہی کہنا ہے اگر، چُپکے سے دِل میں کہہ لو اِتنا اونچا نہ کہو تم کہ سُنا بھی جائے رات لمبی ہے کبھی دن بھی تو لمبے ہوں گے ظُلم اُتنا ہی کرو، خود سے سَہا بھی جائے جو وسائِل ہیں، کرو اُن میں گزارا لڑکی ورنہ ممکن ہے کہ پھر سَر سے رِدا بھی جائے پِھرتے رہتے ہو ضیاؔ! کھوج میں جانے کِس کی گھر بنایا ہے تو پِھر اِس میں رہا…
مزید پڑھیںغزل محمد اکرام قاسمی جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت اِک آنکھ کہ تاریکیءِ منظر کی اَمیں ہے اِک آنکھ کہ ہے راہروِ خوابِ محبت اِک حُسن کہ ہے تیرہ شبِ خامہ نوائی اِک حُسن کہ روشن ہے جہاں تابِ محبت اِک دل ہے کہ تسکین نہیں جس کی لپک کو اِک درد کہ جُز اور نہیں خوابِ محبت اک آس کہ تقدیر فقط جس کی تھکن ہے اک عزم کہ بنتا ہے گہر تابِ محبت اِک دیکھی ہوئی آنکھیں مئے ناب ہیں اکرام اِک چومے ہوئے ہونٹ ہیں زہرابِ محبت Author فرح خان
مزید پڑھیںغزل عرفان صادق مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں جب سے ہم نے دیکھی ہیں میتیں چراغوں کی راستے بدلنے میں عافیت سمجتی ہیں جب ہوا پہ کھلتی ہیں سیرتیں چراغوں کی اس لیے جلا ہوں میں آندھیوں کی آنکھوں میں یاد ہیں مجھے ساری آیتیں چراغوں کی اس کے گھر کی چوکھٹ پر تیرگی نہیں ہوتی جو بھی آ کے کرتا ہے بیعتیں چراغوں کی ہر گھڑی ہواوں کی زد پہ ہم کو رہنا ہے اس لیے گرہ میں ہیں نسبتیں چراغوں کی Author فرح خان
مزید پڑھیںغزل سعید شارق دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی! کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے! سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ اُترتی ہی نہیں! لاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹُوٹ گئی! قریہٴ جاں میں چلی تیز ہَوا، پَل بھر کو یاد کی شاخ ہِلی اور کَلی ٹُوٹ گئی کھینچ پڑتی ہے تو آ جاتا ہوں واپس لیکن کیا کروں گا! جو یہ زنجیر کبھی ٹُوٹ گئی! جوڑ بیٹھا تھا مَیں اِک روز، کوئی آئینہ پھر مِرے ہاتھ کوئی شےبھی لگی،ٹُوٹ گئی بے خیالی میں اسے پھینک دیا تھا، شارِق اور وہ کانچ کی گُڑیا ہی تو تھی، ٹُوٹ گئی! Author فرح خان
مزید پڑھیںاک گروہ ِعجب ۔۔۔۔۔۔ اور قیامت کے دن ، عصر کے بعد کا وقت ہو گا اہل دنیا کے سب فیصلے ہو چکے ہوں گے,جب بار بار اپنے سینہ و سر پیٹتے اک گروہِ عجب کو ملائک ہنکاتے ہوئے ، داور حشر کے سامنے لائیں گے عرض پرداز ہوں گے رب عزوجل! یہ ترے آخری سب سے پیارے نبی مکرم کی امت کے کچھ قرن آخر کے مظلوم و مقہور ہیں چوتھے درجے کے درماندہ و خستہ تن ان کی صبحوں میں شاموں میں ، اعمال ناموں میں کچھ بھی نہیں یہ وہ مجبور ہیں حکمراں ان کے قارون و فرعون و شداد کی مشترک خصلتوں کے امیں ایک مضبوط لشکر کے گٹھ جوڑ سے زندگی بھر انھیں قید رکھا گیا ایسے زندان میں جو بنایا گیا تھا ترے نام پر چند روٹی کے ٹکڑے کمانے میں ان کی نمازیں گئیں بھوک افلاس نے ان کے روزے رکھے گھر سے…
مزید پڑھیںغزل حوالے صبح کے کر آیا کب کا چرواہا ہمارے خواب کی بھیڑوں کو شب کا چرواہا یہ بات طے ہے کہ اب کائناتی ریوڑ بھی کسی طرف کو تو ہانکے گا رب کا چرواہا بلا کے دشت میں رحمت بھرے گلاب اُگے جہاں جہاں سے بھی گزرا عرب کا چرواہا یہ اور بات کہ دِکھتا نہیں ہوں خانہ بدوش حقیقتاً تو ہوں نام و نسب کا چرواہا غضب دکھاتا کوئی فصل کی تباہی پر سبب بناتا ہوا بے سبب کا چرواہا اُسی کے ذمے لگایا ہے کائنات کا رزق جسے خدا نے بنایا ہے سب کا چرواہا جو سو رہا ہو تو ہوں اس کی اَدھ کھلی آنکھیں کب ایسی فکر میں سوتا ہے اب کا چرواہا زرین ! اُجاڑ چکا باپ کا دیا ہوا مال نہ ڈھب کا بیٹا بنا میں نہ ڈھب کا چرواہا Author توحید زیب
مزید پڑھیںسعدیہ قریشی نے ‘The Healing Kettle‘ کے علامتی نام سے اپنے گھر پر ایک خوبصورت نشست کا اہتمام کیا، جس میں ان کی روزنامہ ‘جنگ’ کی صحافی دوستوں نے شرکت کی۔ سعدیہ قریشی نے کم عمری میں ہی شعبہ صحافت میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ روزنامہ ‘جنگ’ میں ان کے کالم بہت پسند کیے جاتے ہیں، جن میں ادبی چاشنی اور شاندار اسلوب ہوتا ہے۔ روزنامہ ‘نائنٹی ٹو’ اور ‘دنیا’ سمیت انہوں نے جہاں بھی لکھا، ان کے کالموں کو بے حد پذیرائی ملی۔ وہ سوشل ایشوز اور ملکی مسائل سمیت ہر موضوع پر لگی لپٹی رکھے بغیر بے لاگ رائے دیتی ہیں اور مظلوم طبقات کے لیے بھی انہوں نے ہمیشہ بے خوف و خطر لکھا ہے۔ ان کے گھر ‘The Healing Kettle’ کے حوالے سے منعقدہ اس پہلی نشست میں ان کی وہ سہیلیاں شامل تھیں جن سے روزنامہ ‘جنگ’ میں کام کے دوران دوستی ہوئی اور…
مزید پڑھیںغزل پرندہ کینوس پر جو بنایا ، بولتا ہے یہ ایسی شاخ پر ہے جس کا سایہ بولتا ہے میں اپنے عکس کے انجام سے خود ڈر رہا ہوں یہ وہ درویش ہے جو ” مایہ مایہ“ بولتا ہے در و دیوار بھی محتاط ہو کر دیکھتے ہیں گھر آ کر جب کوئی اپنا پرایا بولتا ہے صدائیں دے رہے ہیں بے بسی کی وادیوں میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کوئی آیا بولتا ہے جسے تو نے خموشی کی چٹانوں سے تراشا وہ آکر خواب میں کتنا خدایا بولتا ہے بلاتا ہوں جسے میں دل کی گہرائی سے فیصل وہ دھڑکن کی زباں میں ”آیا آیا“ بولتا ہے Author توحید زیب
مزید پڑھیںغزل راکھ ہوں آگ میں پلنا ہی مری زندگی ہے میں نہ چاہوں بھی تو جلنا ہی مری زندگی ہے چار موسم مرے چہرے ہیں، زمانہ ہوں مَیں وقت پر رنگ بدلنا ہی مری زندگی ہے آپ مجھ مہر کو پابند نہیں کر سکتے اپنی مرضی سے نکلنا ہی مری زندگی ہے شب سے بچ بھی رہوں تو دھوپ لپک لے گی مجھے شمع- تربت ہوں پگھلنا ہی مری زندگی ہے بدگماں! زاویہء دید بدل کر مجھے دیکھ پھر بھی کھَلتا ہوں تو کھَلنا ہی مری زندگی ہے کیوں مجھے رشتے بھی اشیا کی طرح ملتے ہیں کیا کھلونوں سے بہلنا ہی مری زندگی ہے خاک ہوتا ہوں تو پھر خاک سے اُگ آتا ہوں دھول سے پھول میں ڈھلنا ہی. مری زندگی ہے میں بڑھاپے میں بھی بچپن سے کہاں نکلا ہوں یعنی گر گر کے سنبھلنا ہی مری زندگی ہے …
مزید پڑھیں