سائنس و ٹیکنالوجیغزل
غزل | قبول ہوتی دعاؤں پہ صبر کرتے ہوئے |حارث بلال

غزل
قبول ہوتی دعاؤں پہ صبر کرتے ہوئے
پگھلتے جاتے ہیں ماؤں پہ صبر کرتے ہوئے
میں ایک سچی محبت کی لاج رکھتا ہوں
ہزار جھوٹے خداؤں پہ صبر کرتے ہوئے
بدن سے جھاڑ کے شعلے حسد کی آتش کے
نکل پڑا ہوں میں گاؤں پہ صبر کرتے ہوئے
پہنچتا وہ ہے جو رفتار کو رکھے قائم
عقب میں آتی بلاؤں پہ صبر کرتے ہوئے
لہو کی آگ میں ہر چیز جھونک دیتے ہیں
فقیر اپنی اناؤں پہ صبر کرتے ہوئے
برہنہ شاخوں کے دم خم پہ ناز کرتا ہوں
کٹی چھٹی ہوئی چھاؤں پہ صبر کرتے ہوئے




