نظم

نظم :ابد کے خلا میں / شاعر: رفیق سندیلوی

ابد کے خلا میں

 رفیق سندیلوی

تیرے سینے میں آباد تھی
اِک الگ طرز کی کائنات
اور پیروں تلے ایک جنت تھی
بالکل انوکھی
جسے مَیں نے تیرے ڈُوپٹے کی خُوشبو میں
شیرِ رضاعت میں
آغوش کے گرم فرغل میں
پاپوش کے سُرخ پُھولوں میں دیکھا تھا
اب کتنا ویران تھا تیرا سینہ
جو سُکڑا ہُوا تھا
ترے پیر جو برف کی مثل ٹھنڈے تھے
بے جان تھے
کتنے سوجے ہُوئے تھے
مشینوں کو کیا علم تھا
تیرا کیا مرتبہ ہے
مشینیں تو مجبور تھیں
تیرے گُردوں کو
اپنے اُصولوں پہ دھوتی تھیں
اور صاف کرتی تھیں آلائشیں
تیرے باطن کا جن سے علاقہ نہ تھا
تیرے پیروں کی سوجن میں
کوئی تو اَسرار تھا
جو مُجھے پائنتی کی طرف کھینچ لاتا
خموشی سے مَیں دھیرے دھیرے
ترے پیر شب بھر دَباتا
تو لگتا کہ اِس مخملیں جِلد کے نیچے
جیسے پہاڑوں سے رستہ بناتی ہُوئی
آبشاروں سے آتی ہُوئی
گُنگُناتی ہُوئی
کوئی ندّی ہے
جس میں چمکتا ہُوا
تیری یادوں کا شفّاف پانی رواں ہے
محبت کی اِک داستاں ہے
جسے سُن رہا ہُوں
سکوتِ مُسلسل میں
سایوں کے جنگل میں
لیکن کسی دوسرے شخص تک
اِس کی آواز جاتی نہیں!

بسترِ مرگ پر
تیری ہچکی کی آواز
لہروں سے پیوست تھی اِس طرح
جس طرح قلب تک
ایک کف دار نلکی
جو گردن میں چیرا لگا کے
کسی رگ میں ڈالی گئی تھی
ترے کان کی لَو کو چُھوتی تھی
یُوں جیسے نلکی نہ ہو
کوئی جُھمکی ہو
جس کو کسی اور ہی
سانچۂ لازمانی میں رکھ کر بنایا گیا ہو
یہ سب جانتے تھے
کہ تُو ایک زرگر کی بیوی تھی
گیرو لگی بالیاں
موتیوں سے سجی مُرکیاں
پائلیں، چوڑیاں اور کنگن
تری دسترس میں تو کچھ بھی نہیں تھا
خدا کی قسم
تیرا زیور تو کیا، تیرے زیور کا کوئی ہیولا
مرے حافظے میں نہیں ہے
نمیدہ نگاہوں کے آگے
فقط اِک اُلوہی، لہو رنگ جُھمکی
ابد کے خلا میں
کہیں جُھولتی ہے!!

٭٭٭٭

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x