افسانچہ | کِھلونا | باسط پتافی
افسانچہ | کِھلونا
صبح کی سفیدی میری آنکھوں میں تیر رہی ہے اور ہونٹوں پر شبنم رقص کر رہی ہے مگر میں اداس ہوں یا میرا دل اداس ہونا چاہتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔
شاید کوئی ماضی کا قصہ کھٹک رہا ہو یا مستقبل کی کوئی چنتا گھیر رہی ہو مگر یہ سب شعور پر دھندلا دھندلا ظاہر ہونے لگا ہے لیکن لا شعور میں گھمسان کا کیا رنگ ہو مجھے نہیں پتہ۔
سچ تو یہ ہے کہ مجھے شعور و لاشعور دونوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے بلکہ میں دل کی دھڑکن کو غور سے سننا چاہتا ہوں مگر ہر بار فطرت کے مناظر مجھے بھٹکا دیتے ہیں۔
جیسے ابھی صبح کی سفیدی اور شبنم مجھے بھٹکا رہے ہیں، ایسے کل شام کی شفق اور گلالی گالوں کی دمک بھٹکا رہی تھی۔
کبھی کبھی حسن و جمال، رقص و سرود راہ سے ہٹا دیتے ہیں تو کبھی اشک و اداسی بھرے چہرے مجھے ملول کر جاتے ہیں یعنی جذبات پر سوچنے نہیں دیتے۔
میں پرسوں بھی اسی طرح کرسی پر بیٹھا شہر کی آلودہ فضاؤں میں رات کو جی رہا تھا اور میں آج بھی اسی زہریلی ہواؤں میں صبح کو جی رہا ہوں۔
میں کل بھی اپنے دل کو نہیں سن پایا میں آج بھی اسے نہیں سن پا رہا۔
خیر پرسوں تو میں ساری کتابیں بیچ آیا تھا کیونکہ ان میں نئی تحقیقات، علمی موشگافیاں، سائنسی طریقے اور مذہبی دلائل تھے۔
مجھے ان میں سے کسی نے بھی جذبات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد نہیں دی اور نہ یہ دے سکتے تھے۔
افسانوں کی کتابیں میں نہیں خریدتا اور ناولوں کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔
بابا بابا!
کیا ہوا بیٹا؟
میرا کھلونا ٹوٹ گیا ہے (روتے ہوئے)
کوئی بات نہیں ابھی سورج کو سر اٹھانے دو تو پھر بازار چلتے ہیں۔



