نظم

ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

ابرہہ بڑھ رہا ہے

رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا 

اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ

فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں

ابرہہ بڑھ رہا ہے

بڑھتا چلا آ رہا ہے

اس کے ہودے میں

نفت کے تیر ہیں تیر انداز ہیں 

دھواں ہی دھواں 

 آگ ہی آگ ہے

 اک طرف لوگ سہمے ہوئے

 ا ک طرف خون آلودہ بستے 

بچیوں کے ادھڑے بدن ہیں

الاماں الاماں کے اس شور میں

حجروں میں پھیلے دھوئیں سے ڈری

چمگادڑیں

پاگل ہوئی

اجالے میں دن کے 

بے سمت آرتی چلی جا رہی ہیں

مگر آج بستی کا سردار

اپنے سربریدہ بدن سے

ابرہہ کے لشکر سے بھڑ ہی گیا ہے

جہاں آتش و آہن کی بارش  

جلاتی ہے بچوں کے نعشے

جلاتی ہے ماؤں کی گودی

خون بہتا ہوا 

خون جلتا ہوا 

خون مہکا ہوا 

اس مہک سے ہیں جاگے  

صدیوں سے سوئے ابابیل پھر سے

جن کی چونچوں میں زیتون کی پتیاں نہیں ہیں 

آگ کے تیر ہیں 

ابرہہ

تیری بستی کو بڑھتے لپکتے ہوئے

 

ابرہہ اپنی بستی کی کچھ تو خبر لے

الاماں الاماں کی آواز اب تو 

وہاں سے بھی ادھر آ رہی ہے

اے خدا 

میرے اچھے خدا 

ابرہہ بڑھ رہا ہے

دیکھ اب ادھر بھی

ادھر بھی نظر کر

یہ ابابیل زندہ رہے تو 

خراساں بچے گا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x