نظم
فیصلہ / احمد علی شاہ مشالؔ
فیصلہ
وقت
میرے کمرے کے فرش پر
اونگھا لیٹ رہا ہے
اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں بڑبڑا رہی ہیں
کہ لمحے کہیں کیوں نہیں جاتے؟
میرا وجود
کرسی پر پڑا ہے
جیسے انتظار کا بوسیدہ عکس
کتابیں مجھ سے بات کرنے کی بجائے
کھڑکی سے جھانکتے چاند کو دیکھتی ہیں
روشنی
اندر آنے سے شرماتی ہے
میں سوچتا ہوں
انتظار انسان کی ایجاد ہے
اور وقت ناپنے کا پیمانہ بھی
مجھے دونوں میں سے ایک کا گلا گھونٹ دینا چاہیے




