غزل

غزل | خواہشِ نام و نمائش مسترد کرتے ہوئے | ڈاکٹر جواز جعفری

غزل

خواہشِ نام و نمائش مسترد کرتے ہوئے

میں کبھی چہرہ نہیں تکتا مدد کرتے ہوئے

ہے رواں میرا ستارا جانبِ اوجِ کمال

یار مجھ سے پیار کرتے ہیں حسد کرتے ہوئے

گل کیے گردوں نے کیسے کیسے چہروں کے چراغ 

آنکھ بھر آتی ہے ذکرِ خال و خد کرتے ہوئے

کس قدر شوقِ حسابِ عہدِ رفتہ تھا اسے

رو پڑا خود بھی وہ یوں داد و ستد کرتے ہوئے

زندہ رکھا میں نے مردہ شہر میں اپنا ضمیر

عمر گزری ہے تمیزِ نیک و بد کرتے ہوئے

کم نسب لفظوں کو نوکِ خامہ پر لاتا نہیں

میں غزل کہتا ہوں لفظوں کو سند کرتے ہوئے

موت کی دنیا سے باہر بھی ہے اک دنیا جواز

بھید یہ مجھ پر کھلا سیرِ ابد کرتے ہوئے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x