افسانہ : الفت کے تقاضے/ افسانہ نگار : بنت قمر مفتی

میرا اسٹیشن جیسے جیسے قریب آرہا تھا ٹرین کی رفتار سست اور دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی ۔ٹرین سے اترتے ہی میری متلاشی نظروں نے اسے کھوجنا شروع کیا ۔صبح سویرے اکا دکا لوگ ہی سٹیشن پر ہوتے تھے ۔ ایک امید تھی کہ وہ میرے استقبال کو سٹیشن پر ہی ہوگی ۔ لیکن امید ٹوٹتے ہی میرا جسم بےجان سا ہوگیا میں اپنے تھکے ہوئے وجود کو بنچ پر گراتے ہوئے خود کلامی کرنے لگا ۔ جانتا ہوں ناراض ہو مجھ سے ، لیکن میں بھی مجبور ہوں ۔ کبھی کہا نہیں لیکن ایسا کوئی دن بھی نہیں جب تمہیں یاد نہ کیا ہو ۔ دیکھو تو رات تم نے فون کیا اور میں نے فوراً گاؤں کی راہ لے لی ۔ مجھے کل شام دفتر کے نمبر پر اس کی کال آئی تھی ۔
"آئی ماں کی طبیعت بگڑ رہی ہے ہوسکے تو فوراً آجاؤ کہیں دیر نہ ہو جائے ” اس کا لہجہ بہت اداس تھا اس کی آواز سن کر میری دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئ تھیں ، "کیسی ہو زہرہ "۔۔ جب تک دھڑکنیں سنبھال کر پوچھا وہ ریسور کریڈل پر رکھ چکی تھی ۔ کتنی بدل گئی ہو تم ، وہ شوخ لہجہ بالکل بجھ گیا تھا اور اس کی وجہ میری خاموشی تھی ۔
اماں زہرہ کی آیا تھی ۔ ماں نے بہت عزت کے ساتھ اپنا کام نبھایا تھا ۔بڑی حویلی تک ہر کسی کی رسائی نہ تھی۔ زہرہ کی ماں کے انتقال کے بعد چودہری صاحب نے اور شادی کرلی تھی لیکن زہرہ کی دیکھ بھال اماں کی زمہ داری تھی اور زہرہ کے لئے اماں ہی سب کچھ تھیں۔ اماں نے مجھے ڈاکٹر بنانا چاہا لیکن مجھے انجینئرنگ کرنا تھی اور اب میں سول انجینئر بن چکا ہوں۔ تعلیم کے دوران میں اماں کو خط لکھا کرتا تھا ۔میری ماں ان پڑھ تھی مجھے جب ہاسٹل میں پہلا خط اماں کا ملا تو بہت خوشی ہوئی میں بھول ہی گیا کہ اماں ان پڑھ ہے ۔ پھر میں بھی اماں کو جوابی خط لکھا کرتا ۔ تقریباً تین یا چار ماہ بعد اماں کا خط آتا ۔ ایسے ہی وقت گزرتا رہااک روز اماں نے خط میں لکھا کہ ملنے کا بہت دل ہے اور میں نے بھی جوابی خط میں بتایا کہ پندرہ دن بعد جمعہ کو صبح کی ٹرین سے آؤں گا ۔
صبح سویرے سٹیشن پر اترا تو بخشو ٹانگے والا پہلے سے موجود تھا ۔ میں نے کہاں گھر لے چلو تو بولا حویلی کے لئے سواری آرہی ہے ٹرین آنے والی ہے پھر ساتھ ہی گاؤں چلتے ہیں ۔
ٹرین رکی، اس ق وقت نے ٹرین سے اترتے ہی بخشو کو دیکھا وہ اس کا بیگ لے کر ٹانگے کی طرف چل۔پڑا ۔
بخشو بھیا ! ارے رکو تو بھائی کیا جلدی ہے ۔اتنااچھا نظارہ ہے یہاں کا کچھ دیر تو آنکھوں کو جلا بخشنے دو ۔ ابا تو ڈرائیور بھیج رہے تھے میں نے منع کردیا کہ میں تانگے کا سفر کروں گی بہت اچھا لگتا ہے مجھے صبح سویرے خاموش سڑک پر گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سننا اس نے منہ سے ٹاپو کی آوازیں نکالتے ہوئے کہا ۔
چھوٹی بی بی ایک سواری اور بھی ہے نا بخشو نے پیچھے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔ اس نے مڑ کر مجھ پر نگاہ ڈالی میں بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
کون ہے یہ اپنے تئیں تو اس نے سرگوشی کی لیکن میں نے سن لیا ۔ اماں رحمتاں کا نصیر ہے ۔۔ بخشو نے ہولے سے تعارف کروایا ۔
” آ ہا۔۔اا۔ انجینئر صاحب اس نے” ۔۔۔ ذرا زور دے کر کہا یہ کہ کر اس نے میری طرف دیکھا
"آپ جانتی ہیں مجھے” اب کی بار میں بول ہڑا
"چلو ٹانگے پر بتاتی ہوں” اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا
"تمہارے خط۔پڑھتی ہوں جو تم بھیجتے ہو ” اس نے سنجیدگی سے کہا
مم۔مم۔۔میں نے کب ۔۔۔۔ میرا جملہ ادھورا ہی رہ گیااس کے قہقہے صبح کی خاموش فضا میں رس گھولنے لگے ۔
"ارے بدھو تم آئی ماں کو خط۔لکھتے ہو نا وہ تو پڑھنا لکھنا نہیں جانتی میں ہی تو ان کو خط پڑھ کر سناتی ہوں اور جو وہ کہتی لکھ کر دیتی یوں ۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا
اس کی مسکراہٹ زندگی سے بھرپور تھی ۔
"آپ چوہدری صاحب کی بیٹی ہیں ۔۔۔ میں آپکے ساتھ کیسے ۔۔۔بخشو ٹانگہ روکو "۔۔۔۔ اچانک مجھے اپنا آپ حقیر محسوس ہوا ۔
نہیں بخشو بھیا ٹانگہ حویلی جا کر ہی رکے گا ۔اس نے گردن اکڑا کر حکم دیا ۔۔۔ اور ترچھی نظروں سے مجھے دیکھا
پھر حویلی تک میں سر جھکائے بیٹھا رہا ۔ یہ زہرہ سے میری پہلی ملاقات تھی ۔
حویلی آگئی۔ زہرہ نے ٹانگے سے اترتے ہوئے کہا "میں نے کبھی کسی کو حقیر اور خود کو اعلیٰ نہیں سمجھا. آئی ماں کی بہت عزت کرتی ہوں” میں سر جھکائے بیٹھا رہا اور وہ چلی گئی
"نصیر بھائی ” کسی کے بلانے پر ماضی کی یادیں دھندلا گئیں
"چلیں نصیر بھائی میں سٹیشن کے باہر کب سے آپکی راہ تک رہا ۔ ٹرین تووقت پر آئی تھی آپ کہاں یہی بیٹھے رہ گئے ۔ سراج نے میرا بیگ پکڑا اور سٹیشن سے باہر چل پڑا "تمہیں کیسے معلوم کہ میں آرہا ہوں ” میں نے حویلی کے ڈرائیور سراج سے پوچھا
حویلی کی کار میرے لئے آنا اچھنبے کی بات تھی۔
زہرہ بی بی نے بولا تھا آپکو لے کر آؤں۔ اس نے میرے لئے گاڑی کادروازہ کھولتے ہوئے کہا
اماں رحمتاں آپکی راہ تک رہی ہیں ۔ ہسپتال داخل تھیں اور اب گھر آگئیں ہیں ” اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے مجھے مطلع کیا ۔ میں گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے پھر سے ماضی میں کھو گیا
اس دن پہلی ملاقات کے بعد شام کو بھی زہرہ مجھے نظر آئی جب میں اماں سے ملنے گیا تھا لیکن ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کردیا تھا ۔ مجھے اس دن پتا چلا کہ زہرہ بی اے کر رہی ہے اور شہر امتحان دینے جاتی ہے ۔
اس طرح چھ ماہ بعد کبھی آٹھ ماہ بعد میرا اماں کے پاس چکر لگتا اور ایسے ہی خطوط کاسلسلہ بھی جاری تھا ۔ ایک دن خط میں اس نے لکھ دیا کہ اتنا بے مروت بھی نہ ہوگا کوئی کہ جو خط لکھ کر دے اسکا حال احوال بھی نہ پوچھا جائے ۔
میں نے جواباً لکھ دیا میں بے مروت ہی سہی آپ پوچھ لیا کریں حال آپکو کس نے روکا اور یوں ایک دو جملوں کے تبادلے ہونے لگے اور جب جب اماں سے ملنے جاتا زہرہ سے ملاقات بھی ہوجاتی ۔ مجھے شاعری پسند تھی ۔ وہ شعر یاد کرنے لگی لیکن شعر کے مصرعے آگے پیچھے کر دیتی تھی ۔اکثر ہم ایک دوسرے کو شعر سناتے اور وہ کبھی مصرع اور کبھی لفظ آگے پیچھے کر کے شعر بگاڑ دیتی تھی اور میں ہنستا رہتا تھا ۔ انجینئرنگ کا آخری سال تھا۔ میں آخری امتحان دے کر گھر آگیا تو اماں بھی حویلی سے گھر آگئی۔ زہرہ بھی ہمارے گھر آئی تو اماں کے چہرے پر پریشانی کے سائے لہرانے لگے۔
” تم بچی تو نہیں جو اب اماں کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ میری ماں مجھے لوٹادو زہرہ” میں نے مسکراتے ہوئے کہا
"تم اماں کے ساتھ مجھے بھی رکھ لو اپنے پاس. میں خوشی خوشی رہ لوں گی ”
بے اختیاری میں وہ ظہار کر گئی تھی جس پر میں مسرور تھا۔ ماں مجھے مسکراتا دیکھ کر ساری کیفیت سمجھ گئی تھی ۔ اماں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے پچکارتے ہوئے کہا میرا خواب تھا تو بڑا آدمی بنے اب تو انجینئر بننے جارہا ۔ بڑا آدمی بن رہا ہے لیکن بڑے خواب نہ دیکھ ۔ میری بہت عزت ہے حویلی میں ۔ اپنی ماں کی عزت قائم رہنے دے ۔ رب تجھے رنگ لگائے خوشیاں دے لیکن یہ جو ابھی تم خوش ہورہے ہو نا یہ خوشی بہت مہنگی ہے بیٹا ۔ اپنی ماں کی لاج رکھ لے ۔ ماں کی محبت کا واسطہ ہے تجھے اس محبت سے دستبردار ہوجا اور پھر میری مجبوری نے مجھے زہرہ سے کچھ بھی کہنے سے روک دیا ۔
میری سرکاری نوکری لگ گئی ، گھر مل گیا اماں میرے بلانے پر بھی شہر نہ آئی وہ زہرہ کی ماں بن چکی تھیں جب تک وہ بیاہی نہ جائے گی اماں اسے چھوڑ نے کو تیار نہ تھی اور وہ بھی اماں کو ہمیشہ پاس رکھنا چاہتی تھی۔
زہرہ نے مجھے کتنے خط لکھے میں نے جواب نہ دیا ۔ وہ شعر کہنے لگ گئی تھی ۔ میں اسے سراہنا چاہتا تھا ۔اسے بہت کچھ بتانا چاہتا تھا۔ لیکن میں پتھر کا بن چکا تھا۔ وہ خط لکھتی رہی ۔ میں بے چینی سے اس کے خطوط کا منتظر رہتا تھا۔ پھر آخری کچھ خطوط میں چند آڑھی ترچھی لائینیں ہوتی تھیں۔ کوئی لفظ نہیں ۔اور پھر آخری خط بالکل کورا تھا۔ ایک بھی لفظ نہ تھا ۔ میری خاموشی جیسا چپ چاپ ۔ انجینئرنگ پاس کرنے کے بعد پھر ایک مبارکباد کا خط آیا اس نے عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ میں بھورے رنگ کے سفاری سوٹ میں آؤں وہ مجھے صاحب کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے ۔ اس کی معصوم سی خواہش پر دل مچلا لیکن پھر ماں کی محبت کا تقاضہ تھا سو میں خاموش رہا ۔
اور پھر وہ بیاہی گئی۔ وہ اماں کو اپنے ساتھ لے گئی تھی ۔ جانے کیوں مجھے بھی تسلی تھی کہ وہ اماں کے ساتھ ہے ۔
پھر اماں ہی کبھی کبھار فون کر لیتی تھی۔ پانچ ماہ گزر گئے۔ اماںں نے مجھے کال کرکے کہا کہ "اب وہ گاؤں اپنے گھر واپس جارہی ہے ۔ زہرہ اپنے گھر خوشی خوشی بس گئی ہے اب مجھے کسی دن شہر لے جانا ” اس دن مجھے محسوس ہوا کہ اب زہرہ ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ گئی ہے۔
آج نہ جانے کیا سوچ کر میں بھورے رنگ سفاری سوٹ پہن کر گاؤں آیا تھا ۔ اماں سےملا اماں بہتر تھی انہیں شہر لے جانے کا انتظام۔کیا . دو دن حویلی میں بہت عزت و احترام ملا۔ نہ ملی تو زہرہ نہ ملی ۔میری نگاہیں اس کے دیدار کو ترس گئیں تھیں ، کہیں کسی کھڑکی سے ،کسی دروازے سے وہ مجھے ضرور دیکھ رہی ہوگی ۔ ہر کھڑکی دروازے پر بار بار نظریں ڈالتا تھا کہ شاید اس کی جھلک نظر آجائے ۔ آج شدت سے احساس ہورہا تھا کہ خاموشی اختیار کر کے میں نے زہرہ کو کتنی اذیت دی تھی ۔ اس کے جاندار قہقہوں کے لئے کان ترستے رہے۔ اسے نہیں ملنا تھا وہ نہ ملی حویلی میں ہوتے ہوئے بھی وہ مجھ سے کتراتی رہی ۔اور میں اس کی جھلک کے لئے ترستارہا ۔
اماں کو دیکھ کردل میں اک ہوک سی اٹھی
کاش تمہیں بتا سکتا زہرہ ، ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہےجاتے۔
میں اماں کو لیکر شہرجارہا تھا ۔ سراج مجھے سٹیشن چھوڑنے آیا اور جاتے ہوئے ایک تہہ دار کاغذ پکڑاتے ہوئے بولا ” یہ زہرہ بی بی نے مائی رحمتاں کی دوائیاں لکھ دی ہیں۔ ”
میں نے کھولا تو لکھا تھا
الفت کے تقاضے اتنے تو نہ تھے پر تم تو۔۔۔۔ خیرچھوڑو۔
ایک ہی تقاضا تھا ، بھورا سفاری سوٹ پہننے میں اتنی دیر کیوں کردی انجینئر صاحب۔
خط کے اختتام پر زہرہ نصیر لکھ کر کاٹ دیا گیا تھا۔




