خبریں

سپریم کورٹ میں ججوں کی تعینانی پر اجلاس، ممکنہ احتجاج پر ریڈ زون میں سکیورٹی سخت/ اردو ورثہ


پاکستان کی عدالت عظمٰی میں آٹھ نئے ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج (پیر) طلب کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب وکلا کے ایک گروپ نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سمیت چار ججوں نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کرنے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔

اس حوالے سے آٹھ فروری کو سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججوں نے اپنی درخواست میں چیف جسٹس سے کہا تھا کہ وہ عدالت عظمیٰ میں نئے ججوں کی تقرری اس وقت تک ملتوی کر دیں جب تک کہ 26ویں آئینی ترمیم کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

بعض وکلا کی طرف سے بھی اس اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

ممکنہ احتجاج اور مارچ کے سبب پیر کو وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون جہاں سپریم کورٹ کی عمارت کے علاوہ پارلیمنٹ ہاؤس سمیت دیگر اہم عمارتیں موجود ہیں وہاں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور بعض مقامات پر کنٹیرز رکھ کر سڑکوں کو معمول کی ٹریفک کے لیے بند بھی کیا گیا ہے۔

عدالت عظمٰی سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کے علاوہ چاروں صوبائی بار کونسلوں نے اتوار کو ایک مشترکہ اعلامیے میں بعض وکلا گروپوں اور نمائندوں کی ہڑتال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سیاسی عزائم رکھنے والے جو لوگ وکلا برادری کے اندر موجود ہیں وہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم قانونی برادری کے منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر انتشاری لوگوں کی کال کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکلا کی ان نمائندہ تنظیموں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہڑتال کا فیصلہ صرف وکیلوں کی تنظیمیں ہی کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے بھی دارالحکومت میں ریڈ زون کی طرف جانے اور آنے والے راستوں کی بندش کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’10 فروری 2025 کو لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستے جن میں سرینا، نادرا، میریٹ، ایکسپریس چوک اور ٹی کراس بری امام صبح چھ بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند ہوں گے۔‘

اس حوالے سے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفری دشواری سے بچنے کے لیے متبادل کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تین نئے ججوں کے تبادلے کے خلاف دارالحکومت کے وکلا نے ان احکامات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال اور وکلا کنونشن کے انعقاد کا اعلان کیا تھا جبکہ لاہور کی وکلا تنظیموں نے عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ 





Source link

Author

Related Articles

Back to top button