پاکستان کشمیر اور نوائے وقت/ صادق جرال

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جب دیکھا کہ ہندو ستان میں انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک ساتھ رہنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے کیونکہ انکا مذہب ، رہن سہن ، لباس،کھانا پینا الغرض ہر چیز علیحدہ ہے تو انھوں نے خطبہ الہ آباد میں واضح اعلان کیا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں رھتی ہیں لہذا مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت ہونی چاہیے۔ اس اعلان نے ہندوؤں کو حیرت زدہ کر دیا۔ انھوں نے سازشوں کے جال بننے شروع کردیے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس مملکت پاکستان کا قیام منظور تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح جو پہلے کانگریس میں تھے بعد میں مایوس ہو کر کانگریس کو چھوڑ کر انگلستان چلے گئے۔ علامہ محمد اقبال کی دور رس سوچ جان چکی تھی کہ پاکستان کا قیام صرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ہی معرض وجود میں آسکتا ہے انھوں نے بار بار قائد اعظم کو بذریعہ خطوط باور کرایا کہ آپ واپس آکر مسلمانوں کی قیادت کریں۔ بالاآخر قائد اعظم کے دل میں اللہ تعالیٰ نے بات ڈال دی اور انھوں نے حامی بھر لی۔ 23 مارچ 1940ء کو اقبال پارک لاہور (منٹوپارک) میں قائد اعظم کی صدارت میں ایک تاریخی کنونشن ہوا جس میں بنگال ،پنجاب ،سندھ ، بلوچستان, سرحد، کشمیر سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں مندوبین نے شرکت کی اور اتفاق رائے سے قرار داد پیش کی جسکو قرار داد پاکستان کہا جاتا ہے قرارداد منظور ی کے بعد صرف سات سال کے قلیل عرصے میں قائد اعظم نے لاٹھی گولی کھائے جیل جائے بغیر دو بڑے سیاسی حریفوں انگریزوں اور ہندوؤں کو شکست دے کر جنوبی ایشیا میں پاکستان کے نام سے ایک اسلامی مملکت بناکر دکھا دی۔ یہ پوری دنیا کے لئے حیران کن بات تھی۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر علامہ اقبال اور قائد اعظم جیسی مخلص ایماندار مصمم ارادہ والی قیادت موجود نہ ہوتی تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ تحریک پاکستان میں بنگال سے کشمیر تک قائد اعظم کے مخلص ساتھیوں نے بڑا ساتھ دیا۔ قائد اعظم کی کشمیر اور کشمیریوں سے خصوصی محبت اور عقیدت تھی انھوں نے تحریک پاکستان کے دوران کشمیر کے بھی طویل وزٹ کئے انہوں نے کشمیر ی سپوت کے ایچ خورشید کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا کشمیر ی رہنما رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس پر بڑا اعتماد تھا۔ انھوں نے جا نشینوں میں ان کا نام بھی تجویز کیا تھا۔ زندگی آخری لمحات میں بھی قائد کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ کشمیر کا کیا بنے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1940ء کو نوجوان رینما حمید نظامی کو اپنا اردو اخبار نکالنے کا کہا تاکہ ہندوؤں کا مقابلہ کیا جا سکے کیونکہ اس وقت پریس میں مسلمانوں کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔ حمید نظامی نے نوائے وقت کا اجراء کرکے اپنے قائد کے حکم کی تعمیل کی۔ بعد ازاں روزنامہ کی شکل میں تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ حمید نظامی کی وفات کے بعد مجید نظامی مرحوم نے لندن سے آکر اس کی ادارت سنبھالی اور وہ کردار ادا کیا جو قابل ستائش ہے کیونکہ قائد اعظم قیام پاکستان کے ایک سال بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے پاکستان کے آئینی سسٹم کو رخ نہ دے سکے یہ ہی یماری بد قسمتی تھی۔ آج تک ہم پٹڑی پر نہ چڑھ سکے۔ مسلم لیگ جسکے پرچم تلے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا وہ غلط ہاتھوں میں چلی گئی۔ پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجید نظامی مرحوم نے اپنی زبان اور تحریروں کے ذریعے آنے والے حکمرانوں کا قبلہ درست کرنے کی بہت کوشش کی۔ کبھی مصلحت کا شکا ر نہ ہوے۔ بھارت کی نظر میں پاکستان میں کوئی انکا سب سے بڑا دشمن اور رکاوٹ تھی تو وہ مجید نظامی تھے۔ بڑے سے بڑے سول اور ملٹری ڈکٹیٹر انکو جھکا اور خرید نہ سکے۔ کشمیر اور کشمیریوں کے وہ محسن تھے کشمیر کے معاملے پر پاکستانی حکمرانوں کا قبلہ درست رکھا۔ پاکستان آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں کی امیدوں، کا محور و مرکز ہے اس کے عوام پاکستان سے سچی محبت کرنے والے جفاکش قوم ہیں۔ انشاء اللہ امید ہے پاکستان ترقی کی منازل ضرور طے کرے گا اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ آج یوم آزادی کے موقع پر پوری قوم عورتوں بچوں سے لیکر نوجوان بوڑھوں تک جشن آزادی جوش خروش سے منا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم وہ منز ل حاصل کر سکیں جس کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔




