منتخب کالم

کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ/ جویریہ بنت ربانی



میرے لکھے گئے کالم کے بعد نریندر مودی نے میرے اس نعرے پر پابندی لگا دی: ‘‘ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے۔’’ یہ صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ اس رشتے کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہے۔ میں آج بھی کہتی ہوں: ‘‘ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے۔ تیرا میرا رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ۔’’ مودی تو کیا، مودی جیسے ہزاروں بھی آ جائیں تو بھی اس رشتے کو ختم نہیں کر پائیں گے۔
ہندوستانی دہشت گرد فوج نے کشمیریوں پر دنیا کے مہذب معاشروں اور انسانیت کو بھی شرما دینے والے مظالم ڈھا کر بھی دیکھ لیا، مگر کشمیریوں کے جذبہ حریت اور پاکستان سے دلی محبت کو نہ نکال سکے۔ ہمارے دلوں سے کیسے نکالو گے پاکستان کی محبت کو؟ پاکستان کوئی عام سرزمین نہیں، یہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی مانند ایک ربانی نشانی ہے۔
جس طرح قومِ ثمود نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا اور برباد ہوئے، ویسے ہی وہ قومیں مٹ جاتی ہیں جو اپنی مقدس امانتوں کا مذاق اڑاتی ہیں۔ یہ وطن ہمیں اللہ کے کرم اور شہداء کے خون سے ملا ہے۔ اس کی بے توقیری کسی نعمت کی ناقدری کی طرح عذابِ الٰہی کو دعوت دیتی ہے۔
حکومتوں سے اختلاف کرو، غلطیوں پر آواز اٹھاؤ، مگر سرزمین کو نشانہ بنانا اپنی ماں کی توہین جیسا ہے اور اللہ کی ناراضی کا سبب بھی۔ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ایک نظریہ، ایک امانت، اور اْمتِ مسلمہ کی شناخت کا جیتا جاگتا مظہر ہے۔ جو اپنی مٹی سے وفا کرتا ہے، اللہ اسے عزت، امن اور بلندی عطا فرماتا ہے۔ یہی تاریخ کا سچ ہے۔
آزاد کشمیر، وہ چراغ جو دشمن کی ہر آندھی میں روشن رہا۔ آزاد کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، یہ تحریکِ آزادی کا مرکز، اس کا نظریاتی قلعہ اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے لیے امید کا مینار ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آزادی کی سانس لی جاتی ہے اور جہاں ہر گھر، ہر فرد، ہر دعا صرف ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے: ’’کشمیر بنے گا پاکستان۔‘‘
جب خیمۂ آزادی کا ہو تو در و دیوار بھی خطرہ لگتے ہیں۔ بھارت نے دہشت گردی کا لیبل سفارتی مہر میں بدل کر ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو آزادی کی گونج رکھتی ہے۔ نظریات سے خائف ریاستیں اکثر لفظوں کو جرم بنا دیتی ہیں اور یہاں بھی یہی کچھ ہوا، جہاں جدوجہد کو شدت پسندی اور حق کو خطرہ قرار دیا گیا۔
آزادی کی بات جب بھی کسی پہاڑی، کسی بستی یا کسی جھنڈے سے گونجی، اسے فوراً بیرونی سازش کا نام دے کر دبا دیا گیا۔ ایسا صرف اس لیے کہ آزاد کشمیر آج بھی اپنے نظریے پر زندہ ہے، اور کچھ شناختیں صرف جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔
فالس فلیگ جیسے اسکرپٹ اسی خام خیالی کی پیداوار ہیں۔ جب کہیں آگ نہ ہو تو دھواں خود پیدا کیا جاتا ہے تاکہ مظلوم کی سچائی کو ملبے تلے دفن کیا جا سکے۔ ذرائع ابلاغ، فلمیں اور حکومتی مؤقف سب اس اسٹیج کا حصہ ہیں جہاں کردار بدلتے ہیں مگر کہانی ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے: سچ کو مجرم اور جھوٹ کو محافظ بنانا۔
مگر کچھ خیمے تاریخ کے ایسے صفحے ہوتے ہیں جو بار بار جلائے جانے کے باوجود مٹتے نہیں۔ کچھ علاقے اور کچھ نظریے صرف زمین پر نہیں ہوتے بلکہ وہ دلوں میں ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے تو انہیں دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔
بھارتی فوج کا بحیثیت فوجی ادارہ کوئی ڈسپلن، کوئی پیشہ ورانہ تربیتی معیار، کوئی قاعدے قوانین ہیں تو ان کا مظاہرہ کہیں پر تو نظر آئے۔ لیکن بھارت کی جاہل، گنوار فوج کا تربیتی معیار سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ نفسیات کے مارے بھارتی فوجیوں کی ذہنی معذوری کا عالم یہ ہے کہ آئے روز ایل او سی پر فائرنگ کر کے عام شہریوں کو شہید کرتے رہے۔
ڈرپوک اور خوفزدہ انسان ہی ہمیشہ گھبراہٹ کا شکار رہتا ہے اور اس کا مظاہرہ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر آبادیوں کو نشانہ بنا کر کرتی رہی۔ پھر اسکول کے چھوٹے بچوں کی وین پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کیا گیا۔ اس مرتبہ دس مئی کو پاک فوج نے جواب دے کر اگلی پچھلی ساری کسر نکال دی۔
ان بھارتی فوجیوں کو اپنے بچے دیکھ کر کشمیر کے وہ معصوم بچے یاد نہیں آتے جن کی بینائی اور زندگی چھین کر وہ اپنے بچوں کے منہ چوم رہے ہیں۔ آفرین ہے ان بچوں کی ہمت پر جو درندوں کی بندوق کا مقابلہ پتھروں سے کرتے ہیں۔ شکست خوردہ سات لاکھ بھارتی فوج پتھر کھا کھا کر ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔
٭…٭…٭





Source link

Author

Related Articles

Back to top button