کتاب قیافہ /گل جہان /تبصرہ… ڈاکٹر ارشد معراج

کتاب….. قیافہ
مصنف… گل جہان
تبصرہ.. ڈاکٹر ارشد معراج
گل جہان کا جہان _ نظم
نظم لکھنا بہت آسان ہے اور بہت مشکل بھی ۔ نظم شاعری کی اولین صنف ہے ۔ انسان سے اس کا ملاپ ازلی و ابدی ہے ۔ مصرع موزوں کر لینے والے نظم میں مصرع در مصرع نظم بن لیتے ہیں ۔ غزل کہنے والوں کا دعوی ہے کہ وہ ہر دو مصرعوں میں نظم ہی تو لکھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن نظم جو وجود پر طاری ہو کر پوری حسیات کے ساتھ دل و دماغ کے نہاں خانوں سے طلوع ہوتی ہے اور انفس و آفاق کو اپنی گرفت میں لیتی ہو اوارق پر اپنا ہونا ثبت کر دیتی ہے ، یہ کار دشوار ہے ۔ اس دریا کے شناور خال خال ہیں ۔
نظم جہان _ معنی ہے ۔ ایک مکمل کائنات ہے جو خارجی مظاہر سیاروں ، ستاروں ، کہکشاؤں سے ہوتی ہوئی درون جاں کے بلیک ہولز میں لے جاتی ہے جہاں اس کے ساتھ وہی نبھا کر سکتا ہے جس نے خود کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دیا ہو ۔ یہ سوکن برداشت نہیں کرتی ، تن تنہا ہر مسام میں بس کر زندہ رہتی ہے ۔ ایسی نظمیں صدیوں سے راج کر رہی ہیں اور کرتی رہیں گی ۔
نظم کی اس وسیع و عریض دنیا کا ایک باسی گل جہان بھی ہے جو اس نازک مزاج کی محبت میں مبتلا دیوانہ وار اسے گلے لگائے ہوئے ہے ۔ میرے پاس اس کی تازہ نظموں کا مسودہ ” قیافہ ” موجود ہے اور میں انہیں بسر کر رہا ہوں ۔ حیات و کائنات کو سمجھنے کی ابتدا قیاس و قیافہ سے ہی ہوئی ہے ، قیافیہ سائنس کا بنیادی کلیہ ہے ۔ ہم پہلے فرض کرتے ہیں قیافہ لگاتے ہیں اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے مثالیں دیتے ہیں اور آخر میں نتائج مرتب کرتے ہیں جسے سائنسی طریقہ قرار دیا جاتا ہے ۔ گل جہان نے قیافوں سے نظم کی چنگیر بھری ہے اور حیات و کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سے قبل بھی اس نے نظموں کی ایک چھاگل سے پیاس بجھائی ہے مگر وہ مجھے دستیاب نہ ہو سکی ورنہ میں تب سے اب تک کے سفر کا کچھ موازانہ کر پاتا ۔
گل جہان کی نظموں کا خمیر جہاں مظاہر فطرت سے اٹھتا ہے وہاں وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مکمل فیض یاب ہوئی ہیں ۔ یہ نظمیں کسی ایک نظریہ یا نقطہ نظر کے گرد گردش نہیں کرتیں بلکہ ہر پھول سے خوشہ چینی کر کے ایک الگ مٹھاس پیدا کر رہی ہیں ۔ گل جہان کو ” جہاں سازی ” کی ترکیب آتی ہے اس پینوراما میں وہ جہاں بھر کی وسعتوں کو سمیٹ کر ایک تصویر بنا لیتا ہے اور اسے خود سمجھ کر سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ بالکل ایسے سے غار سے جب سفر ابتدا کرتا ہے تو انسانی تہذیبی و تمدنی کرداروں سے اپنی کہانی میں رنگ بھرتا ہابیل ، قابیل ، عورت کی محبت اور کوے کی دانش مندی سے ہوتا ہوا یونان کی اساطیر سے پرومیتھیس کو مستعار لیتا ہے اور E=mc2 سے کائناتی دریچے کھول کر زمین و آسمان کے مکمل معنی جاننے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے ، اگلے لمحے وہ نمرود ، شداد اور فرعون کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے اور ایک ہی جست میں مصر، یونان ، دیبل ، ہڑپہ عبور کرتا ہوا دجلہ کنارے خمیہ زن ہوتا ہے ، کبھی برگد تلے گیان دھیان تو بیک وقت مکہ ، مدینہ اور کربلا ۔۔۔۔ اسے ارشمیدس اپنی جانب اشارہ کرتا ہے تو نیوٹن اپنے کائناتی رازوں میں اسے ہم راز بناتا ہے ۔ منٹو کی جرات اور کافکائی فضا اسے بھاتی ہے تو بلیک ہول کا سفر سٹیفن ہاکنگ کے ساتھ کرتے ہوئے وقت کی لہروں پر تیرتا ہے اور دھماکے سے دھماکے کے سفر کو یوں نظم کرتا ہے :
"مجھے کم سنی میں
کسی خواب نے یہ کہا تھا
دھماکے سے چل کر دھماکے تلک ،
کائناتی سفر ہے
مگر اس کے مابین
حرکت کی برکت بھری زندگی کا شجر ہے”
(نظم: کائنات کے اس طرف )
کلسٹرز اسی فکر کی ایک اکائی ہے ۔ کہیں گوتم بھی آلتی پالتی مارے گیان دھیان میں مصروف ہے جسے گل جہان حیرت سے دیکھ رہا ہے ۔ یہاں ہونے نہ ہونے کے کنارے پر کتنا جینا ، کیسے جینا تشکیک و شبہات سے قیافہ تک لے آتا ہے جو کبھی مذہبی بیانیے اور کبھی سائنٹفک توجہات اسے اپنی اپنی اور کھینچتی ہیں گویا طبیعات و مابعد طبیعات کا تصادم جاری ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہان فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے ۔
میں نے درج بالا پیرا گراف میں مظاہر فطرت کی بات کی تھی۔ گل جہان انہی مظاہر کے توسط سے نظم ” نظم سے متعارف” کے ڈریعے خود سے متعارف ہوتا ہے ۔ فطرت کے قریب پرورش پانے والوں کے مزاج میں فطری طور پر سادگی و رنگینی یکجا ہو جاتی ہے وہ جس قدر زندگی پر غور و فکر کرتے ہیں اسی قدر فطرت ان کے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہے یوں ایک بچہ طفل ناداں سے عاقل و بالغ نظر ہو جاتا ہے ۔ جنہوں نے چکی کی تک تک سنی ہو گی ، جو سردیوں کی دھند میں صبح سکول جاتے ہوئے کھیتوں کے کنارے سے گزرتے ہوئے یخ ہوا کے ساتھ ڈھوروں کے گلے کی گھنٹیاں سنتے رہے ہوں گے ، جو تختی بستہ لیے برگد کی چھاوں میں بیٹھ کر الف ب یاد کرتے رہے ہوں گے ان آنکھوں کے خواب سبز و شاداب رہے ہوں ہیں ۔ گل جہان اس تجربے سے بار ہا گزرتا رہا ہے ۔ پنجاب کی زرخیز سر سبز شاداب دیہی زندگی اس کے خمیر میں گندھی ہے ۔ ڈاکٹر عابد سیال سے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران میں نے یہی عرض کیا ہے کہ مضافات کے ادب کو رعایتی نمبر نہیں دئیے جا سکتے ان کے موضوعات اربن سوسائٹی کے ادیب کی مانند بہت پیچیدہ نہ سہی مگر ایک اور طرح کی تر و تازگی اور فطرتی آہنگ سے لبریز رہتے ہیں گل جہان کا نظمیہ جہان اس کی ایک عمدہ مثال ہے ۔ ایک نظم ملاحظہ کیجیے کہ کیسے پنجاب کی ارغوانی مٹی نامیاتی وحدت میں ڈھل کر خواب کے سر سبز و شاداب خوش_آب سے سفر کرتی ہوئی جھنگ کی رومان پرور فضا میں کھل کر بھرپور سانس لیتی ہے جہاں آکسیجن کی فروانی ہے ۔۔
"خواب کی راب سے مجھ کو گوندھا گیا
اب مرا رنگ مٹی سے ملتا نہیں
زخم سلتا نہیں
ارغوانی فضاؤں کی چہکار سے
میری مردہ سماعت میں جان آگئی
لفظ ہنسنے لگے
اور آواز کے جسم بننے لگے
چند آنکھوں کی حیرت میں رنگت کا آمیزہ شامل ہوا
نامیاتی خلا کا مداوا بنا
جسم کو ہجر کی تیز ترسیل میں
پہلا رخنه بنا
منطقے کا ظہوری علاقہ ، کشادہ ہوا
میں زیادہ ہوا
ایک پر کار سے دو عدد قوس کی شکل واضح ہوئی
قاب حاصل ہوا
خواب حاصل ہوا
خواب کے اندروں
مجھ کو تحلیل ہونے کا فن سیکھنے
شہر_خوشاب سے
اک جنوبی علاقے میں جانا پڑا
راستے میں مجھے اک زمانہ پڑا
میں نے پہچان کے چند سکوں سے دنیا خریدی
سفر اپنے پیروں سے باندھا
چلا اور چلتا گیا
پانچ جنموں کی پہلی مسافت کٹی
مجھ کو میری مکمل زیارت ہوئی
میں نے اطراف دیکھا تو جھنگ آگیا
خواب پر میری مٹی کا رنگ آگیا”
(رنگ یابی)
گندم کو کھانے کو جرم تو قرار دیا جاتا رہا یے لیکن کھانے والے کے سبب آدمی کو "گندم کا بیٹا” قرار دینا الگ معنی معتین کرتا ہے ۔ وہ جو جنت سے ذائقوں کے سبب سے در بدر ہوا لیکن اس جہان _ خراب میں مداروں کی گردش کے ہر فاصلے نے اس کے لیے دائروں میں نیا راستہ بنایا جو روشنی کو سوا نیزے پر لے آیا ۔ روشنی زندگی کی سب سے بڑی علامت ، حرارت ، حرکت ، توانائی ، توانائی شعور کی حمتی شکل ہے ۔ یہاں یہ جرم نہیں رہا بلکہ ارتقا و ارتفاع نے جنم لیا ہے ۔ روشنی پھول بن گئی ہے ۔
مذکورہ نظم جب آگے سفر کرتی ہے تو گندمی محبت کا استحصال فاحشانہ انداز اختیار کرتا ہے تو نظم نگار کو تمام تر سرسبز و شاداب کیفیات جو نامیات میں محبت کے پیامبر ہیں فاحشہ کی دسترس میں معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ پھر گناہ و ثواب کے دائرے میں قید ہو کر گندمی محبت کو واپس بھیجنے کا تمنائی ہو گیا ہے۔ نظم کا پہلا حصہ انتہائی رجائیت سے بھرا ہے جو آگے چلنے اور زندگی کو سر کرنے کا حوصلہ دیتا ہے وہاں دوسرا حصہ روایتی بیانیے کی زد میں آ کر آدمی کی محدودیت جو اس کے اعمال کے سبب ہے پر ختم ہوتا ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تمام طرح کے مذہبی ، اساطیری ، روایتی اور سائنسی بیانیے گل جہان کو متاثر کرتے ہیں اور وہ یک طرفہ نہیں سوچتا اس لیے اس نظم میں فکری تضاد ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں کئی بڑے شعرا کے ہاں ایسے تضادات دکھائی دیتے ہین ۔ سردست یہ نظم اپنے منظر نامے میں میری توجہ کھینچنے میں کامیاب رہی ہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے:
سائے سے خالی درختوں کی بہتی قطاریں
قطاروں کے اندر بنے راستے
جن پہ سمتوں کا ادغام یوں ہے
کہ جیسے کسی فاحشہ کی ہنسی
جو سب کے لیے ایک ہی ذائقہ بانٹتی ہے
پیروں کا کیا ہے
وہ جس راستے پر پڑیں گے
اسے ہانک کر دو و و و ور تک ساتھ چلنے پر مجبور کرتے رہیں گے
سنا ہے
مداروں کی گردش کا ہر دائرہ فاصلے پر کھڑا ہے
جہاں فاصلے کہ یہ ترتیب ٹوٹی
وہاں سے نئے دائرے کی طرف راستہ پھٹ پڑے گا
کبھی تو ملو روشنی !
میں سوا نیزے پر پھول ٹانکے کھڑا ہوں
تلاشی کے دن ہیں
سو آنکھوں کے تہ خانے
خوابوں کے نقشے
جزیروں پر مل بیٹھ کر گائے نغمے
پپیتے کے اور ناریل کے درختوں کے نیچے بچھائی ہوئی نیند
اور شام کے ہاتھ پر آدھ لگائی ہوئی تازہ مہندی
سبھی کو مٹا دو
تلاشی کے دن ہیں ۔۔۔۔۔۔!!
محبت کا پودا ہماری زمیں کا نہیں ہے
یہ گندم کا بیٹا ،
اسے جو چکھے گا
اُسے چھاؤں سے بانجھ پیروں میں
سمتوں کے ادغام میں مبتلا راستوں پر روانہ کیا جائے گا
وہاں سے سوا نیزے پر فاحشہ روشنی کا برہنہ بدن نوچتی ہے
تبھی تو یہ دنیا
ہمیں گندمی نسل کی ہر محبت کے اعمال سے روکتی ہے۔ "
(گندمی محبت)
خدا کی تلاش ، خدا کی حقیت ، خدا کا اختیار ، خدا کی پہچان ، خدا کو پانے کی آرزو ، خدا تک پہنچنے کے راستے مابعد طبیعات میں اسطورہ سے مذاہب تک ، فلسفہ سے تصوف تک کے سب سے اہم موضوع رہے ہیں ۔ ہر سوچنے والا ذہن خواہ وہ مذہبی ہے یا نہیں اس حوالے سے کچھ نا کچھ تصورات ضرور رکھتا ہے ۔” قیافہ” کی نظموں میں گل جہان "خدا کے خدا” کی تلاش میں ہے اور حرف و صوت کے معجزے پر یقین رکھتا ہے وہ کہتا ہے :
” گلیل چوٹی پہ وعظ کرتے ہوئے مسیحا نے آواز کی حدوں سے عمیق خاکہ سا بن دیا تھا
خدا کا خاکہ ”
( نظم : خمار )
"قیافہ” کی پہلی نظم ” صحیفے وارث کے منتظر ہیں ” میں وہ دعوی کرتا ہے کہ تمام تگ و دو کے بعد
"جلد قرآن اپنے وارث کے ساتھ اترے گا
روشنی کے جدید معنی کا بند ٹوٹے گا
اور بھٹکتے تمام سجدے
خدا کا خانہ تلاش لیں گے ”
” خدا اپنی آنکھیں مجھے سونپ کر جا چکا ہے ”
(نظم : قیافہ)
” میں خدا کی خامشی کا پیڑ سے تلازمہ نکالتا
خود اپنے آپ میں اچھالتا
بازوں کو پر بنا نہیں سکا ”
(نظم : خامشی کا در )
” خدا تو نے جوڑے بنائے
مگر خود مزکر مونث سے عاری رہا ”
( نظم : خواب – مخنث)
"مجھے تب تب خدا کے ہاتھ کی تاثیر پر پختہ یقین آیا کہ جب جب ماں ہمیں پہچاننے میں بھولتی تھی اور ہنستی تھی
خدا تو نے مجھے اس غار میں بھی دور رکھا
جس میں اکیلا پن مراحق تھا
خدا تو نے اکائی کیوں چھپائی ہے”
( نظم : جڑواں )
"میں اپنی دھجیوں کے سارے چیتھڑے سمیٹتا
عدم کی حد پہ جا پڑا
میں نا تمام
آئنے کے روبرو کھڑا ہوا
جہاں ہوا
وجود اور عکس کا مکالمہ
وجود نے کہا کہ
"ہم میں ایک ہے خدا”
جواب آیا
"دوسرا خدا کا بھی خدا”
تمام لفظ مر گئے
زبان گنگ ہو گئی
اور آنکھ اپنی بولیوں سمیت دفن ہوگئی ۔۔۔”
(نظم : خدا کا خدا )
مذاہب اور خدا کے تسلسُل میں سوچ کا ایک مختلف انداز دیکھیے:
” سنو ہمیں اختیار کرنے کی اک سہولت
نہ ہم ہیں گریہ گزار مسلک
نہ ماتمی ہیں
یہاں بدن کا کوئی تعلق روا نہیں ہے
کہ ہم شریعت سے گوتمی ہیں ”
(ہم طبیعت میں گوتمی ہیں )
خدا کے مختلف روپ مختلف حوالوں سے بار بار اس کی نظموں میں ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ تصور _ خدا اس کا خاص مسئلہ ہے ۔ خدا کے اساطیری ، مذہبی تمام حوالے اسے ازبر ہیں اس کے ساتھ ساتھ الحاد سے بھی واقفیت ہے ۔ اس کے ہاں رد و اثبات ہے تو تلاش و جستجو بھی ہے ۔ تشکیک کے کئی رنگ ہیں تو سائنسی بیانیہ بھی ہے ۔ مضافات کی سر سبزگی ہے تو ہونے نہ ہونے کے درمیان معلق خلا و انخلا بھی ہے ۔ خدا اور بھگوان بھی ہے اور مکاشفہ و مکالمہ بھی ۔ گل جہان بنیادی طور پر مرکزے کی تلاش میں ہے ۔ نظم کے اس ٹکڑے سے اس کی فکر واضع ہوتی ہے :
"محبتوں میں مداومت کا اصول _تطبیق مشترک ہے
یہ کائناتوں کا مرکزہ ہے
وہ چاہے سائنس ہو
فلسفہ ہو،
معیشتوں کے اصول ، مذہب کا حاشیہ ہو
سبھی کے اپنے مدار ہیں ۔۔۔۔۔۔ مرکزہ نہیں ہے”
( نظم : خمار )
سوچ کی لہریں ہوا کے دوش پر تلاش کے تمام وسیلوں کو بروئے کار لاتی ہیں تو نظم نگار سمجھتا ہے کہ :
"زمین مرکزہ ہے کا ئنات کے وجود کا
جدھر کو جائیے
جہاں سے گھوم پھر کے آیئے
زمین کی کشش
خدا آدمی کو چھوڑتی نہیں”
(نظم : کھڑکیاں )
اسی نظم میں آدمیت کی عظمت اور ” کن” کی حقیقت نظم نگار کے ہاں یوں متشکل ہوتی ہے :
” یہ کائنات ” پینٹنگ“ ہے بے خیال کی
تمام آدمی ہیں کھڑکیاں
خدا کی مستند ترین کھڑکیاں”
( نظم : کھڑکیاں )
سوال بہت اہم ہوتا ہے ۔ سوال میں جواب بھی پنہاں ہوں تو پھر بھی جواب مشکل ہی سے ملتے ہیں ۔ انسان اپنی سرشت میں محبت سے کنارہ کش نہیں ہو سکتا ۔ یہ ایک الگ قبیلہ ہے جو ذات کے درون سے لامحدودیت کے زائچے بناتا ہے جس کے سرے غائب ہوتے ہیں ۔ اس تجسس کو کھولنا ایسے ہے جیسے مرکزیت سے پھیلاو کی طرف جانا اور پھر مرکزیت تک سالم و ثابت لوٹ آنا ۔ اس سفر پر جانے والے سالم لوٹ کر آتے نہیں دیکھے ۔ اگر اس حالت میں خیال _ مبحث کی ابتلا ملسط ہو جائے تو پھر کئی سوال ابھرتے ہیں جو آب و سراب ، خواہشوں کے خوابچوں ، وقت کی رفتار ، ستاروں سیاروں ، آگ اور نور کی تفریق ، خلا کا انخلا اور ظہوریت تک کھینچتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ مسلسل تلاش کا عمل ہے ۔ سوال کا کوئی حتمی جواب ہو ہی نہیں سکتا خواہ ایڑیوں پر گھوم گھوم کر کرہ ارض کی مٹی کو مٹی کر دیں صرف جستجو ہی حاصل _ سفر ہے ، راستہ ہی منزل ہے ورنہ منزل ۔۔۔۔موت ہے ۔ میری تمام گفتگو کا پس منظر گل جہان کی دو نظمیں ہیں ۔ ” سوالیہ ” اور ” مبحث ” لیکن ” خامشی کا در ” ایک اور انداز سے سریت کے در وا کرتی ہے جو "کن” میں ” واو” لا کر اسے "کون” بنا رہی ہے ۔ کون و مکان کے اسرار ، لامکاں سے مکاں کی حد تلک گل جہان کی نظم آدمی کو کشف قرار دیتی ہے جہاں خسارے اور افادے میں مبتلا آدمی نے زندگی کو خوب صورت بھی بنایا اور بدامن بھی ۔ گل جہان کو امن کی توقع تھی ۔۔۔۔ ایک حساس دل تمام حسیات کو بروئے کار لاتے ہوئے عشق کے در پر ہاتھ باندھے کھڑا رہنے والا یہی تمنا کرتا ہے جو لاحاصل ہے جس پر دل و دماغ درد میں مبتلا ہو کر واپس آدمیت کے ہونے پر سوال اٹھاتا ہے ۔ ابتدائے آفرینش ایک تضاد بن جاتا ہے تو نظم نگار وقت کے دائرے سے ذرا باہر نکل کر ان تمام مظاہر کا پھر سے مطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہتا ہے کہ اگر دوبارہ سے ابتدا ہو تو ۔۔۔۔ شاید یہ عجلت کے سبب ایسا ہوا ہو ۔۔۔
گل جہان قاف کی پریوں کو ” قیافہ” میں تلاش ضرور کرتا ہے لیکن اس کی نگاہ دوسری جانب ان پر بھی جو ہے نہ پورے مرد ہیں نہ پوری عورت لیکن وہ اپنی شناخت "عورت ہونا ” کروانا پسند کرتے ہیں ۔ ان کے اعضا مردانہ سہی لیکن ان کی سوچ ، تخیل ، عادات و اطوار ، سلیقہ مندی ، گفتگو ، لب و لہجہ ، خود کو سنوارنے بنانے اور سراہے جانے کے تمام آداب عورت کے ہیں ۔ ان میں ایک مکمل عورت جاگ رہی ہوتی ہے تو کیوں نہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہ عورت ہی ہے ۔ کیوں کہ احترام کیا جائے کہ جو جیس صنف میں خود کو متعارف کروانا چاہتا ہے اسے وہی تسلیم کر لیا جائے ۔ زمانہ ایسا نہیں، ان کے لیے سیاہ و سفید ہے ، حق و باطل ہے ، سچ اور جھوٹ ہے جب کہ سیاہ ایک کنارے پر ہے اور سفید دوسرے کنارے پر ۔۔۔۔ درمیان بھرپور زندگی سرمئی ( گرے) رنگ میں رواں دواں ہے ۔ ہم سیاہ اور سفید خود بھی نہیں ہوتے لیکن اس کا درس شد و مد سے دے رہے ہوتے ہیں ۔ ان گرے ایریاز میں جینے والوں کو کیوں نہ انسان تسلیم کرتے ہوئے احترام _ آدمیت تصور کیا جائے ۔
گل جہان کئی مقام پر حیرت زدہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو کیسے جنس _ بازار بنا دیا ہے ۔ ہندسوں کا کھیل ، بلند و بالا عمارتیں، مارکیٹ کے نئے خدا جن کے ہاتھوں میں سات ارب انسانوں کی معیشت نہیں زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں کرہ ارض کے انسانوں کو کووڈ میں مبتلا کر کے آبادی کم کر دیں، وائرس پھیلا کر دواوں کی فروخت بڑھا دیں ۔ کلوننگ کر کے دماغ پلٹ دیں۔ سائبر سے انسانی نفسیات پر قابو پا لیں اور انسان روبوٹ سے کم درجہ پر فائز ہو جائے ۔ یہ ہیں آج کے سرمایہ کے خدا ۔ نظم کا ٹکڑا دیکھیے :
” نئے خدا کی تاج پوشیوں کی رسم _ جاوداں ۔۔۔۔
جدید سے قدیم کا شکار ہوتے سلسلے
شماریات میں ترقیوں کی اونچی بلڈنگیں
دو پائے کے فرار کی ہر ایک جست
اپنے خول سے ہی سر کو پھوڑتی فنا ہے کیوں ۔”
(نظم : محاسبہ )
گل جہان پروٹان اور الیکٹران کو گوندھ کر پروٹان بناتا ہے اور اسے وجود میں مجسم کر کے محبت کی پال لگتا ہے لیکن وہ جہادی نکلتا ہے ۔ تہذیب ، تمدن ، ثقافت ، انسانیت سے کہیں دور صرف ایک جہادی ۔۔ شاعر پریشان ہے کہ کیا اس قدر طویل تمدنی سفر کے بعد انسان جنس _ بازار یا صرف جہادی کیسے بن گیا ۔ اس قسم کے سنجیدہ سوالات ” قیافہ ” کی نظموں میں تواتر سے سر اٹھاتے ہیں ۔
نظم گل جہان کا مسئلہ ہے اسی لیے یہ دیوی اس پر مہربان ہے اور اسے رنگ رنگ سے نوازتی ہے ۔ نظم کی تخلیق پر ان کی متعدد نظمیں کتاب میں موجود ہیں مثلا ” نظم فانی نہیں ” ” میں کب ایسی نظم لکھوں گا ” ” آنکھوں سے محروم نظم ” اور ” کتاب سے باہر گری ہوئی نظم ” ۔ اس کی ایک نظم ملاحظہ کیجیے جو سلاست و بہاو کی عمدہ مثال ہے ۔
"کہاں جانتا ہوں میں اس گل جہاں کو
جو نظموں کی نظموں سے
خاموش تر گفتگو کے اثر کو
سماعت کے بیضہ میں رکھ کر
اسے بولتی نظم کرنے کا خالص ہنر جانتا ہے
نہیں جانتا میں وہ کیسے
شبوں کے مساموں سے رستی ہوئی تابناکی
کھنکتے ہوئے چند لفظوں کی آنکھوں میں بھر کر
مناظر کی پرتوں میں دبکے ہوئے خال و خد کو،
نمو جذب کرنے کا فن دے رہا ہے
میں چالیس برسوں سے
اس کی جگہ، اس کا
خوشبو بھرا نام پہنے ہوئے جی رہا ہوں
مگر اس کے الحان سے متصل منطقے کا محرک
مری ذات کا تانا بانا بھی مجھ سے
مری اس اداکاریوں سے بھری زندگی سے
کسی طور جڑتا نہیں ہے
اگر میں شعوری اکائی کے تیشے سے ترشوں
تو کھلتا ہے، وہ ، وہ نہیں ہے
وہ ہم میں ، ہمی سا بدن اوڑھ کر چھپ گیا ہے
وہ ہم سا ہی اک نام پہنے ہوئے
ہم میں گھل سا گیا ہے
مگر اس کے اندر کا انساں
ہمارے جہاں کا نہیں ہے
اسے نظم کے حسیاتی بہاؤ کو محسوس کرنے کی عادت پڑی ہے
اسے نظم میں کود کر پار لگنے کی ہمت ملی ہے
وہ ہر گز بھی ہم سا نہیں ہے۔
(وہ جو گل جہاں ہے)
حسن کوزہ گر نو سال دیوانہ وار پھرتا رہا لیکن جہاں زاد کی لاحاصلی نے اسے جہان _ کل سے آشنا کر دیا ۔ گل جہان کو جہاں زاد کی جستجو ہے وہ حسن سے چند قدم آگے تلاش _ نظم میں چالیس برس صرف کر چکا ہے ۔
” قیافہ ” کی نظموں کے اسلوب اور سطر در سطر پیوستگی نظم نگار کی ہنروری سلیقہ مندی اور بنت میں مہارت کی واضح دلیل ہیں ۔ ان نظموں میں علامتیں بہت گہری اور ادق نہیں ، اکثر نظمیں دائروی انداز میں موضوع کا احاطہ کرتی آغاز ، کلائمکس اور انجام تک پہنچتی ہیں جو بہت روانی اور سلاست سے قاری کو ساتھ بہاتی لیے جاتی ہیں ۔ اس کتاب نے مجھے متاثر کیا ۔ ان نظموں کے اسلوب ، ڈکشن اور تکنیک پر بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن یہ جگہ کسی اور کے لیے چھوڑتا ہوں ۔ "قیافہ” معاصر نظم کی دنیا میں ایک خوب صورت اضافہ ہے ۔ آپ بھی نظمیں پڑھیے اور لطف کے ساتھ ان فکری دھاروں پر بھی غور کیجیے جن کی جانب گل جہان نے توجہ دلائی ہے ۔ یہ نظمیں فکر کے بوجھ تلے دب کر سسک نہیں رہیں بلکہ زندہ تخلیقی حقیقت کی صورت ہمارے سامنے موجود ہیں ۔




