خبریں
غزل :داؤ پیچ اور گھات الگ ہے/ شاعرہ: رقیہ اکبر

غزل
رقیہ اکبر چوہدری
داؤ پیچ اور گھات الگ ہے
عشق میں جنگ اور مات الگ ہے
ایک ہی لفظ کے سو مطلب ہیں
باتوں میں یہ بات الگ ہے
اس نے بھی پامال کیا تھا
خود سے کھائی مات الگ ہے
ہر سو وحشت برس رہی ہے
اب کے یہ برسات الگ ہے
لہجے میں یہ کاٹ نئی ہے
لفظوں کی سوغات الگ ہے
میں بھی نہیں اب پہلے جیسی
اس کی بھی ہر بات الگ ہے
اِس کی خاطر اُس سے جھگڑا؟
سب کی اپنی ذات الگ ہے
Author
URL Copied




