ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

کتاب : ہیرو شیما کے آنسو
(سفرنامہ)
مصنفہ: بینا گوئندی
تبصرہ: کنول بہزاد
بینا گوئندی منفرد سوچ کی حامل ایک درویش منش انسان ہیں ۔وہ جب بھی ملتی ہیں اپنی شخصیت کا ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہیں ۔ بینا نے بہت سفر کیے ہیں ، ایک دنیا کو چشم بینا سے دیکھا ہے۔۔۔اور ہمیشہ ایک نیا زاویہ نگاہ اپنے قارئین کو دیا ہے ۔۔۔اس بار ملیں تو اپنی کتاب ” ہیروشیما کے آنسو ” تحفے میں دی ۔۔۔یہ بظاہر تو جاپان کا سفر نامہ ہے مگر اس کتاب میں درون ذات سے لے کر کائنات کے اسرار تک پرت در پرت کھلتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے بم انسانیت کے سینے پر وہ زخم ہیں جو شاید کبھی مندمل نہ ہو سکیں۔۔۔بینا نے کتاب کو یہ نام دے کر نئی معنویت عطا کر دی ہے۔۔۔بینا نے پہلی بار یہ سفر 1992 میں کیا۔۔۔ایک نوجوان چھیل چھبیلی لڑکی ۔۔۔جس کی آنکھوں میں حیرت اور تجسس بہ یک وقت جاگزیں تھے ۔۔۔بینا کو جاننے کے اشتیاق نے وہ منزلیں عطا کیں جو ہر لکھنے والے کو نہیں ملتیں ۔۔۔جاپان جاتے ہوئے وہ پائلٹ کے کاک پٹ میں جا بیٹھی اور کھلی آنکھوں سے خوابوں جیسے منظر دیکھے۔۔۔
بینا نے جاپان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی خود کو پاکستان کی سفیر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔اپنے وطن سے گہری محبت اس کی تحریر میں جا بجا دکھائی دیتی ہے ۔۔۔
بینا نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے مندوبین کے درمیان اپنی ایک الگ پہچان اور شناخت بنائے رکھی ۔۔۔یہاں اسے ملنے والے جاپانی ، ایرانی اور بنگلہ دیشی ، ہندوستانی اور ناجانے کس کس خطے کے لوگ تھے۔۔۔سب اس چوبیس سالہ نوجوان پاکستانی لڑکی کی زیرک نگاہی اور ذہانت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔۔۔
اس کتاب کا چوتھا باب جس میں بینا ہیروشیما سے مکالمہ کرتی نظر آتی ہیں اور ہیروشیما کے دل سوز جوابات سے نہ صرف اپنا دامن دل بھگوتی ہیں بلکہ قاری بھی سوز کرب کے سمندر میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔۔۔ ایک انسان دوسرے انسانوں کو کیسے بھیانک موت کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔ یہ سوچ کر روح کانپ اٹھتی ہے جنگی جنون کیسے خالق کی تخلیق کی گئی اس خوبصورت دنیا کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔۔۔
داد دینی پڑتی ہے جاپانیوں کو کہ کیسے انہوں نے راکھ سے پھول اگائے اور اب اس طرح اقوام عالم میں سر اٹھائے کھڑے ہیں کہ دوسروں کے لیے مثال بن گئے ۔۔۔
بینا کا یہ سفر نامہ پڑھنے کے قابل ہے آپ ایک بار اسے شروع کرتے ہیں تو مکمل کر کے ہی دم دیتے ہیں۔۔۔ اس سفرنامے میں بینا کے لکھے بہت سے جملے آپ کو چونکاتے ہیں جو اس کے گہرے مشاہدے اور بصیرت کے عکاس ہیں ۔۔۔ 24 سالہ بینا گوئندی جوانی سے ہی ایک الگ راہ کی مسافر دکھائی دیتی ہے ۔ اس کی تحریر کی دلکشی قاری کو ہمہ وقت ساتھ لیے پھرتی ہے ۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے آپ اپنی آنکھوں سے سارے مناظر دل و ذہن پر کندہ کر رہے ہیں ۔
جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو کے یہ الفاظ دیکھیے ۔۔۔
The time has come to bear the unbearable.
یہ وژن جاپانی قوم کو کامیابی کے سفر کی جانب لے گیا ۔
بینا گوئندی کو بطور تخلیق کار منظر کشی میں بھی کمال حاصل ہے ۔۔۔نویں باب میں ایک جگہ لکھتی ہیں:
آسمان پر بادل جھوم رہے تھے اور زمین پر شفاف پوتر پانیوں کی آبشاریں گر رہی تھیں ۔۔ ہر سو مہکتی جھومتی ہریالی ہی ہریالی تھی۔
ذرا دور چیری کے درختوں سے بھرا چھوٹا سا ایک باغ جس میں سیاہ پتھر کے پاس بونسائی کا ایک پودا ۔۔۔جس کو ایک شخص مرکز و معبد مان کر عالم جذب میں تھا۔۔۔ وہ ارد گرد کے سحر انگیز ماحول سے بے نیاز تھا اس کی پرواز بہت اونچی تھی۔ سب مناظر سے بے نیاز وہ شنتو کے در پر حاضری دے رہا تھا۔۔۔ اب سمجھی رب مجھے یہ روح پرور ماحول اس لیے دکھا رہا ہے کہ جب جاپانیوں کے عقیدے کی مضبوطی سے کچھ سبق سیکھوں ”
بینا نے جاپان میں مختصر قیام میں کیا کیا نہ دیکھا ، محسوس کیا ۔۔۔قاری بھی ان سب احساسات کو بینا کے ساتھ سانجھا کرتا ہے ۔۔۔
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
جاپان کے چھوٹے بڑے شہر ، وہاں کے لوگ ، کلچر ، مذہب ، تعلیم ۔۔۔بینا ہر پہلو کو اپنے اس سفرنامے میں سمویا ہے ۔۔۔جاپان میں نوبل پرائز جیتنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے اور تعلیم کے میدان میں تو وہ ایک عرصے سے نئی راہیں متعین کر رہے ہیں ۔۔۔سائنس ان کی تعلیم کا مرکز و محور ہے۔۔۔بقول بینا۔۔
” سائنس کا علم رب کا علم ہے ۔”
بینا نے دو ہزار چوبیس میں دوبارہ جاپان کا سفر کیا اور پھر اس سفرنامے کو مکمل کیا جو بتیس برس سے ادھورا پڑا تھا ۔۔۔یہ بینا کا جاپان سے گہرا لگاؤ اور تعلق تھا جو اسے تین دہائیوں بعد دوبارہ لے گیا ۔۔۔
” یہ تو وہ جاپان نہیں ۔۔۔مجھے پہچاننے میں کچھ وقت لگا۔۔۔ یہ بالکل اس طرح تبدیل ہوا جس طرح میں تبدیل ہو گئی اب جو میں اپنی پرانی تصویر دیکھتی ہوں تو پہچان نہیں پاتی بس میرا جاپان بھی اسی طرح بدل گیا ہے”
اس بار بینا نے نئے جاپان کو دیکھ کر لکھا:
"ترقی کی زندگی جدید اور قدیم سے بڑھ کر منفعت پر انحصار کرتی ہے جب بے شمار اسانیاں بے شمار چھتیں بے شمار راستے نکل آئیں تو مسافر تنہا رہ جاتے ہیں ۔۔۔مجھے پل بھر کو لگا یہ قوم کہیں شدید تنہائی کی مسافر تو نہیں۔۔۔ وہ میرا ایک خیال تھا اب دنیا کے لیے جاپان کے دروازے کھلے ہیں بے شمار مختلف زبانوں کو جاپان کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے جاپانی ایکسچینج پروگرامز پر بہت توجہ دیتے ہیں۔۔۔ دل نے مجھے تسلی دی بینا ! یہ تنہا نہیں منفرد ہیں یہ اپنی معاشرت کی اصولوں میں اپنے تمدن ،ماضی کے رنگ میں مستقبل کی تعمیر امن اور سکون اور راہ نجات پر استوار کر رہے ہیں ”
غرض آج ہی یہ سفرنامہ اپنی لائبریری کا حصہ بنائیے اور اسے دل کی آنکھ سے پڑھیے۔




