
غزل
کیا ہے محبتوں کی نشانی سمجھ میں آئے
اے دل سمجھ میں آ کہ کہانی سمجھ میں آئے
تو بھی گزر فراق سے رہ میں رکے بغیر
تجھ کو بھی آنسوؤں کی روانی سمجھ میں آئے
اُس اُس پہ فرض ہے مری امداد شہر میں
جس جس کو میری نقل مکانی سمجھ میں آئے
موجوں کی تہ میں کون صدف رکھنے والا ہے
مٹی سمجھ میں آ گئی پانی سمجھ میں آئے
کب تم پہ میرے شعر کھلیں اور نہ جانے کب
تم کو مری یہ سحر بیانی سمجھ میں آئے
پھولوں کی سمت جاؤں کھلونوں سے ہو کے میں
بچپن گزر گیا ہے جوانی سمجھ میں آئے
عدنان خال و خد کی لغت کھول دی گئی
اب تم کو آئنے کے معانی سمجھ میں آئے




