
عزیزم
مٹھی میں بند ریت کی طرح تم بھی ہاتھ سے ایک ایک دقیقہ کر کے ایسے پھسلے کہ احساس تک نہ ہوا کب ساٹھ دقیقوں کے سنگریزوں نے ایک منٹ کی اینٹ بنائی، ساٹھ اینٹوں نے ایک گھنٹے کی دیوار اٹھائی، چوبیس دیواروں نے ایک دن کے آشیانہ کی داغ بیل ڈالی، سات آشیانوں نے ایک ہفتے کا محلہ آباد کیا، چار محلوں نے ایک مہینے کا ہنستا بستا شہر رچا دیا اور بارہ شہروں نے پورے برس کو مملکتِ وقت پر ایک ناقابل ِ تسخیر سلطنت بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگرسالِ نو نے عین وقت پر آ کر وہ طوفان برپا کیا جس نے پوری سلطنت کوملیا میٹ کر ڈالا اور تمہاری تمام تر سطوت اپنے سارے جاہ و جلال کے ساتھ قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تم نے آتے ہی وعدوں کی ایک پوٹلی میرے سامنے رکھی تھی اور جاتے جاتے بہت سے معموں سے بھرا صندوق چھوڑ کر چلے گئے ہو۔ تمہارے دن کبھی قلقاریاں مار کر ہنستے تھے تو کبھی ساون کی جھڑی کی مانند آنکھوں سے چھم چھم آنسو برسانے پر مجبور کر دیتے تھے۔ کبھی دن گدگداتی شرارتوں سے پُر تھے اور کبھی تمہاری راتیں پُرہول خاموشی اور غم ناک سسکیوں سے رلاتی تھیں۔ تم نے بہت سوں کو وہ دیا جو انہوں نے مانگا بھی نہ تھا مگر بہت سوں سے وہ بھی چھین لیا جس کو ہم نے مضبوط سہارا سمجھ کر تھاما ہوا تھا۔ کہیں کامیابیوں کی نرم گرم چھاوں تھی تو کہیں ناکامیوں کی جھلسا دینے والی کڑکڑاتی دھوپ۔
اے گذرے برس! تم نے مجھے لوگوں کی پرکھ سکھائی، صورتحال کو جانچنے کا پیمانہ سمجھایا۔ تمہاری ٹھوکروں نے میرے اندر حوصلے کو تراش کر مجھے برداشت کی نئی منازل سے روشناس کرایا۔ صلہ ملنے میں تاخیر نے میرے صبر کو مہمیز کیا اور وقت کے نوکیلے پنجوں نے مجھے زخم خوردہ ہو کر بھی ان تھک جدوجہد کے عزمِ صمیم سے مالامال کیا۔تمہاری بے رحم ساعتوں نے میری نرم دلی کو ابھارا۔وقتِ رخصت تمہارا ملبوس گرد سے اٹا ہوا تھا اور آنکھوں میں وہ گلے شکوے تھے جن کی ز بان خاموشی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے تم دندناتے ہوئے آئے تھے مگر جاتے ہوئے بغیر دستک دبے قدموں اور شکستہ دلی کے ساتھ ایسے آئے تھے جیسے کوئی یاد ہمارے دل و دماغ میں آتی ہے۔ تمہارے لبوں پر گہرا سکوت تھا اور ہاتھ میں ایک بوسیدہ تھیلا جس میں خوشیوں کے چند سکے، ٹوٹی ہوئی امیدوں کی کرچیاں اور کچھ ایسے لمحات جو ابھی تک سانس لے رہے تھے۔
تمہاری شکستہ مسکراہٹ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ مجھے یاد ہے تم نے آتے ہی اپنے دن ایک ایک کر کے فرش پر بچھا دیئے تھے۔ اُن میں سے کچھ دن دھوپ کی طرح چمکدار تھے اور کچھ ایسے جن پر بارش تھم تھم کر روتی رہی تھی۔ ایک دن کو فرش سے اٹھا کر تم نے کہا تھا، ” یہ وہ دن ہے جب تم مضبوط ہوئے تھے حالانکہ بری طرح شکست و ریخت کا شکار تھے”۔ ایک اور دن کو اٹھا کر تم نے کہا تھا، ” یہ وہ لمحے تھے جب تم ہنس رہے تھے جبکہ تمہارا دل غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا تھا”۔ تم نے ہی مجھے احساس دلایا تھا اُن لوگوں کی موجودگی کا جو ماہ و سال کے بدلنے سے قطع نظر میری دعاوں میں رہتے ہیں اور پھرتم نے ایسے خوابوں کی طرف اشارہ کیا تھا جن کا گذر اب میری نیند سے نہیں ہوتا۔
میں کیسے فراموش کر سکتا ہوں رخصت ہوتے وقت تم نے اپنی جیب سے پرانی ڈائری نکال کر اُس کے صفحے پلٹے تو اُن میں سے آوازیں برآمد ہوئیں، ادھوری دعاوں کی، وقت پر پورا نہ ہونے والے خواب کی اور ایک ایسے دلخراش فیصلے کی جس نے دِل کو دو حصوں میں منقسم کر دیا تھا۔ تمہارے الفاظ اب بھی میری سماعت میں گونجتے ہیں، ” میں اگر سخت تھا تو صرف اور صرف اس لیے کہ تم کمزور نہ پڑو۔ میں تم کو نئے سال کے حوالے کر کے جا رہا ہوں "۔
تمہارے جانے کے بعد دروازہ بند ہوا تو کمرہ خالی نہیں تھا، کمرے میں سانس لیتے جیتے جاگتے وہ تمام اسباق تھے جو تم مجھے سکھا کر گئے تھے، میز پر صبر رکھا ہوا تھا۔ تب میں نے آئینہ دیکھا تو مجھے اُس میں ایک ایسے انسان کی جھلک دکھائی دی جو آنے والے دنوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے تمام خطرات کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑا تھا۔ اے سالِ گذشتہ اگرچہ تم چلے گئے مگر تم میرے اندر بس چکے ہو کبھی نہ جانے کے لیے۔





ما شاء اللہ ، آپ کا قلم جب بھی چلا ہے کمال کر گیا ہے،
Very Nice