نظم

آخر وہ کل آئے گا / ریحانہ عثمانی

نظم

آخر وہ کل آئے گا

ریحانہ عثمانی

مایوس نہیں میں اس کل سے
جب بخت سنوارے جائیں گے
وہ تخت اچھالے جائیں گے
جو ظلم کے دیپ بلائیں گے

گونجے گا ہر سو نعرہ الست
ہم بھڑ جائیں گے دست بہ دست
وہ مرقد انبیاء اور لہو
ایسی تو نہیں تھی اپنی خو
خاموش رہیں اور کچھ نہ کہیں
اور چین کی نیند سے ہم نہ جگیں

ہر آنکھ میں منظر تازہ ہے
اور دل میں ایک ارادہ ہے
ہم بھولیں گے نہیں بہتا لہو
جو پیش ھوا اقصئ کے لئے
درپیش ھوا امہ کے لئے
معصوم شہید بےگوروکفن
مٹی سے اٹے تھے ان کے بدن
فاقے تھے نمایاں چہروں پر مسکان سجی تھی ہونٹوں پر

مقروض قلم ہے میرا یہ
گر اٹھ نہ سکا یہ تیرے لئے
معصوم بلکتے راہوں میں
سنگین حالات کی بانہوں میں
نہ ہی گھر نہ ہی در نہ ممتا رہی
نہ ہی شفقت کے سائبان رہے
جو رہا تو ظلم ہر آن رہا
ظلمت کے سب دربان رہے

اے دشمن دیں کب تک آخر
تو توڑ کے ہم کو کھائے گا
اور اک اک کو بھڑکائے گا
کیا مقصد کو پا جائے گا

چل جا یہ میٹھے خواب نہ دیکھ

اک دن تو ایسا ائے گا
جب کوہ گراں گر جائے گا
ہر بادل تب چھٹ جائے گا

مہدی کا لشکر آئے گا
اور تجھ کو فنا کر جائے گا
کوئی راہ نہ پھر تو پائے گا

شہید میرا مسکائے گا
جنت کی راہ وہ پائے گا

آخر وہ کل آئے گا
آخر وہ کل آئے گا

Author

Related Articles

Back to top button