منتخب کالم

  آگ اور پانی/ ندیم اختر ندیم



کتنی ہی تحریریں لکھی ہیں اور پھاڑ پھینکیں کتنے ہی موضوعات قلم بند کیے کتنے ہی خیالوں کو لکھا کتنی ہی باتیں تحریر کیں لیکن وہ سب ادھوری باتیں رہیں نا مکمل رہیں کہ کسی بھی بات کو لکھتے ہوئے ایک تصور سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے وہ تصور ہے غزہ میں جلتے مرتے کٹتے سلگتے چیختے پکارتے بھوک سے بلبلاتے درد سے تلملاتے بے کسی لاچارگی اور مجبوری کے گرداب میں پھنسے ہوئے معصوم فلسطینیوں کا کہ جن پر اسرائیلیوں نے اس قدر ظلم وستم روا رکھا کہ تاریخ بھی اسرائیل کے مظالم کی مثال تلاش کرنے میں لگ گئی ہے بھلا ان معصوم فلسطینیوں کا قصور ہی کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں بس اسی جرم کی پاداش میں کہ انہوں نے کلمہ حق کہنا سیکھا ہے اور مسلمان کلمہ حق کو کہتے ہوئے کسی بھی ظلم اور جبر سے خوفزدہ  نہیں ہوتا یہ ان ڈیڑھ دو سالوں کی بات نہیں فلسطین پر یہودیوں کہ جبر کے سلسلے بہت دراز ہیں اور اسرائیلیوں کے ہاتھوں ہزاروں نہیں لاکھوں فلسطین شہید ہو چکے اور لاکھوں ہی زخموں سے چور ہوئے کسی نے اسرائیل کی طرف سے اپنے جسم پر گھاؤ لیا تو کسی کی روح اسرائیل کے مظالم سے گھائل ہوئی معصوم فلسطینی اپنے ہی گھروں کو چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے یہ کچھ سال پرانی بات ہے یہ وڈیو کسی ٹی وی چینل پر دیکھی کہ جس میں اسرائیلی ایک فلسطینی کے گھر پر قبضہ کر رہے تھے اور اس گھر کی خاتون فریاد کر رہی تھی ان اسرائیلیوں کو بتا رہی تھی کہ یہ اس کا گھر ہے اور وہ اسرائیلی مسکراتے ہوئے اس خاتون کو کہہ رہے تھے ہمیں معلوم ہے کہ یہ آپ کا گھر ہے لیکن اس گھر پر اگر ہم قبضہ نہیں کریں گے تو کوئی اور اسرائیلی کر لے گا اس ظلم اور بے بسی کے درمیان مسلمان قوم کسی دوزخ میں جلتی ہوئی کیفیت کی طرح ہے ایک طرف تو اسرائیلیوں کا حدود سے تجاوز کرتا ہوا ظلم دوسری طرف بے بس مجبور فلسطینی ایک طرف عالمی قوانین کو روندتے ہوئے اسرائیلی فوج اور دوسری طرف دنیا کے قانون قاعدے کی پاسدار فلسطینی قوم ایک طرف ظلم کی روز بروز پھیلتی ہوئی آگ تو دوسری طرف صبر اور شکر کرتے ہوئے بے گناہ فلسطینی کبھی کسی نے یہ سوچنا بھی چاہا ہے کہ اگر دنیا کے جدید ترین اسلحے سے کسی ملک پر صرف ایک دن ہی یلغار کر دی جائے تو اس خطے کی حالت کیا ہوگی اور جہاں تقریبا پچھلے دو سالوں سے کیا میزائل کیا گولہ بارود کیا بم اور کیا دیگر ہتھیاروں سے مسلسل حملے کئے جارہے ہیں وہاں کا عالم کیا ہوگا چیختی چنگھاڑتی اسرائیلی فوج کہ جس نے فلسطین کی گلیوں میں قیامت برپا کر دی اور اسرائیلی ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے نہتے فلسطینی کہ جو شہید ہوتے جا رہے ہیں جلتے جا رہے ہیں لیکن اپنی زمین کو چھوڑنا انہیں منظور نہیں۔

قارئین کرام یہ باتیں لکھی جا چکی ہیں لکھی جا رہی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی لیکن ان باتوں کا دنیا کے ٹھیکیدار داروں پر کچھ اثر بھی ہوگا کوئی ظلم کے آگے کھڑا بھی ہوگا۔غزہ کی گلیوں میں ہر روز کربلائی منظر دیکھنے کو ملتے ہیں ہر روز کراہتے فریاد کرتے بین کرتے  لوگ اسرائیلی وحشتوں اور ان کے مظالم  کا نوحہ کہتے ہیں دنیا میں کوئی اتنا بہادر بھی ہوگا جو بچوں کے کٹے ہوئے بازوؤں کو دیکھ سکے اور آپ ان معصوم بچوں پر آگ اور بارود برسانے والے سورماؤں کی سفاکیت کا اندازہ کیجئے کہ  روز کم سن بچوں کے وحشیانہ قتل عام میں مصروف ہیں یہ وحشی دنیا کے لئے کتنے خطرناک ہیں ایسے خطرناک وحشیوں کا وجود دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے یہ اخلاق سے عاری۔ قانون سے نا بلد اور کسی قاعدے سے ماورا لوگ دنیا میں پھیلتی ہوئی آگ کی طرح ہیں جو دنیا کے امن کو جلا کر راکھ کر دیں گے دنیا کو اس آگ میں جلنے سے بچنا ہے وحشتوں کی اس آگ کے آگے بند باندھنے کے لیے دنیا کے رہنماؤں کو کوئی کردار ادا کرنا ہوگا وگرنہ دنیا اسرائیلی یہودیوں کی وحشتوں کی نذر ہو کر رہ جائے گی یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں کیونکہ وحشیوں کا کیا بھروسہ۔ انسانی خون کے پیاسے کسی بھی وقت کسی بھی طرف رخ کر سکتے ہیں ہٹلر نے کچھ تو دیکھا ہوگا کہ اتنے بڑے پیمانے میں یہودیوں کو تہہ و تیغ کیا یہ انتہائی خطرناک قوم ہے دنیا کو ان یہودیوں کی خطرناکیوں سے بچنا ہوگا دنیا کو ان سے بچاؤ کے طریقے تلاشنے وں گے دنیا کو ان وحشیوں سے بچنے کی کوئی تدبیر کرنا ہوگی۔

دوسری جانب میں سوچتا ہوں پانی تو آگ بجھانے کے کام آتا ہے اور ہمارے ہاں پانی کے مسئلے نے آگ لگا رکھی ہے سندھ اور وفاق ایک دوسرے کے مقابل ہیں دنیا ترقی میں کمالات کے بام عروج پر ہے سائنس نے انسان کو حیرتوں کے سمندر میں پھینک دیا ہے دنیا کا مسلمان زیر عتاب ہے اور ہم دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی بجائے ابھی اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کے بھنور میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button