ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں، تقریباً 40 ہزار اہلکار تعینات: پنجاب پولیس/ اردو ورثہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعے کو ممکنہ ہڑتال کے پیش نظر پولیس نے تقریباً 40 ہزار اہلکار تعینات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو ’سڑکوں پر آنے کی اجازت‘ نہیں دی جائے گی۔
سیاسی و مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) گذشتہ ہفتے اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہی تھی کہ مریدکے کے مقام پر انہیں منتشر کرنے کے لیے 13 اکتوبر کو پولیس نے کارروائی، جس میں ایک پولیس انسپکٹر سمیت متعدد افراد کی جان گئی جبکہ درجنوں اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی اور جماعت کے دیگر قائدین منظر سے غائب ہیں اور ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ اس کے بھی کئی کارکن جان سے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔
اس صورت حال میں کئی مذہبی جماعتوں نے جمعے کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔
جمعرات کو رات دیر گئے پنجاب پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’کل (جمعے کو) کسی بھی شخص کو ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے، قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں، شہریوں کی جان و مال، املاک کا تحفظ، قانون کی پاسداری بہرصورت یقینی بنائی جائے گی۔‘
آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ 27 ہزار افسران و اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی کریں گے، جبکہ سپیشل برانچ کے 12 ہزار اہلکار ’شرپسندوں‘ کو گرفتار کریں گے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت اجلاس، لا اینڈ آرڈر، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ، کل کسی بھی شخص کو ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے، قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں، شہریوں کی جان و مال، املاک کا تحفظ، قانون کی پاسداری بہرصورت یقینی بنائی جائے گی۔ مارکیٹیں، کاروباری… pic.twitter.com/u4rxhozqYG
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) October 16, 2025
بیان کے مطابق: ’تمام شرپسندوں کا ڈیٹا سیف سٹی، پٹرولنگ وہیکلز میں نصب کیمروں میں فیڈ کیا جا چکا ہے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت پنجاب پولیس کو مطلوب درجنوں شرپسندوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا جائے گا۔‘
مزید کہا گیا کہ ’شر پسندی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے‘ اور 10 سے 14 سال کی سزا ہو گی۔
پنجاب پولیس نے یقین دہائی کروائی ہے کہ جمعے کو مارکیٹیں، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں کھلی رہیں گی۔
جمعرات کو ہی اسلام آباد میں بھی ایک اجلاس، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مذہبی سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شرکت کی، ملک میں حالیہ امن و امان کی صورتحال کا جائرہ لیا گیا۔
وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حالیہ ہنگاموں میں سرکاری و نجی املاک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا اور عوام کی سکیورٹی اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’ملک میں کسی کو بھی بدامنی اور انتشار پھیلانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔‘




