سسکتے بلکتے کراچی کی کہانی/ محمد نعیم قریشی

شہرقائد کے عوام پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی نااہلی کرپشن اور اقربا پروری سے مکمل طور پر عاجزآچکے ہیں،بارش کے چندقطروں سے تباہ حال کراچی قومی اور صوبائی خزانہ میں ہزاروں ارب روپے ٹیکس اور ریونیو کی مد میں جمع کرواتا ہے۔ ایسالگتاہے کہ معمولی بارشوں میں ڈوب جانے والے اس شہر کا مقدر جان بوجھ کرخراب کیاگیاہے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جسے نہ سمجھاجاسکے کیونکہ یہ قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ ہے، شہر میں نکاسی آب کا بوسیدہ نظام اور اس پر ہونے والی اربوں کی کرپشن کی وجہ ہی اس شہرمیں اربن فلڈنگ کا سبب بنتی ہے۔ اسی ناقص حکمت عملی لاپرواہی کے نتیجے میں مون سون کی صرف ایک دن کی بارش نے شہر کا نقشہ بگاڑکررکھ دیاہے،میئر کراچی کی انوکھی منطق اور مسلسل تین دہائیوں سے سندھ حکومت پرراج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شہر کے نالے صرف 40 ملی میٹر بارش کا بوجھ ڈھو سکتے ہیں۔ مطلب اس سے زیادہ ہونے والی بارش کا ہم نے کوئی ٹھیکہ نہیں اٹھارکھاہے۔ مطلب کوئی ان سے پوچھے ہر سال کراچی کے نام پر ملنے والا اربوں روپے کا بجٹ پھرکہاں جاتاہے ؟ نالوں کی صورتحال اور نکاسی آب کوبہتر کرنا پھر کس کی ذمہ داری ہے؟ آپ نے توکہہ دیاکہ ہم صرف چالیس ملی میٹرتک بارش کے مسائل حل کرینگے وگرنہ عوام خود ہی بارش سے نمٹتے رہیں۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ وہ شہر کی بہتری میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے ان موصوف کی جماعت بھی عوام کولارے لپے لگانے میں کسی سے کم نہیں ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام ٹاؤنز کو دیے گئے تمام فنڈز کی تفصیلات بھی حیرت انگیز ہیں۔ کراچی کے بلدیاتی سیٹ اپ میں مئیر بھلے ہی پی پی کا ہے مگر 9ٹاؤنز جماعت اسلامی کے زیر انتظام بھی ہیں جس پر میئر کراچی کا یہ دعویٰ میڈیا پرزیرگردش ہے کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنزچیئرمین کو گزشتہ 26ماہ کے دوران 27ارب روپے دیے گئے ہیں۔ خیر عوام کوالزام تراشیوں میں الجھانے والوں کوعلم تھا کہ کراچی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی جاچکی ہے مگرلاپرواہ انتظامیہ کی جانب سے مون سون کی تیاریاں تو کیا ہونا تھیں، بلکہ الٹا شہرہی کو ہی چیرپھاڑ کر رکھ دیاتھا، جہاں کئی سالوں سے پلوں اور سڑکوں کے نام پرشہرکھنڈر بناہواہے وہاں شہر کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی نے تو بارش سے قبل سڑکیں کھود رکھی تھیں اور جہاں کہیں نئی لائنیں بچھائی وہاں ویسے ہی سڑکوں اور گلیوں کی پیوندکاری کیے بغیر قبریں سی بناکر چھوڑ دی تھی جس نے بارش کے بعد آمدورفت کو مزید مشکل بنادیاتھا جبکہ ان بارشوں سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی تھی اور تاجروں کو صرف دو دن میں 10ارب روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑاہے۔ ان بارشوں سے کراچی میں کرنٹ لگنے، دیوار گرنے اور نالوں میں ڈوبنے کے مختلف حادثات میں دو بھائیوں سمیت 20افراد جاں بحق ہوئے جبکہ صوبہ سندھ میں مجموعی اموات کی تعداد 40تک پہنچ گئی۔ علاوہ ازیں عوام درجنوں گاڑیوں موٹر سائکلوں اور گھروں سے محروم ہوئے۔ شہرویسے ہی ٹوٹ پھوٹ کاشکارتھا رہی سہی کسرچند گھنٹوں کی بارش نے نکال دی۔ اس شہر کی سڑکوں کا آنکھوں دیکھاحال یہ ہے کہ گاڑیاں لگژری یو ڈبلیو گیارہ طرز کی بسیں سب کی سب اچھل اچھل کر اور سسک سسک کر چلتی ہیں۔ سندھ میں پی پی کے وزرا میڈیاکو پریس کانفرنس کرنے کادعوت نامہ بھیج دیتے ہیں کہ آو اور ہمارے زہن میں یہ ترقیاتی منصوبہ ہے اس کاپرچار کرکے تم بھی گناہ آلود ہوجاؤ۔ ترقیاتی کاموں کے نام پر کراچی کا بیڑہ غرق کرنے والوں نے جو کئی دہائیوں کے بعد تھوڑی بہت سڑکوں کی مرمت کی تھی وہ بھی حالیہ بارش کی وجہ سے اپنی پہلی والی حالت میں آچکی ہیں۔ یہ اس غریب پرورشہرکامقدرہے کہ ٹارگٹ کلنگ سے جان چھوٹتی تو سٹریٹ کرائمز اسکا گلا پکڑ لیتاہے۔ اگر ہم پوری دنیا کی بھی بات کرلیں تو رواں سال سب سے زیادہ وارداتیں کراچی شہر میں ہوئی ہیں اور یہ ٹرافی کئی دہائیوں سے شہرقائد ہی جیت رہا ہے۔ اس شہر کی تباہی کاتماشہ دیکھنے والے وفاق کے لوگوں کو بھی میں یہ کہنا چاہونگاکہ پاکستان کی خوشحالی کراچی کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے اور اس شہر کو نظرانداز کرنا پاکستان کومعاشی طورپرکمزورکرنے کے مترادف ہے۔



