غزل
غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

غزل
سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری
مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری
تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے
کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری
وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری
مبارک تمہیں ہو یہ دولت تمہاری
اٹھا ہے تمہاری شرافت سے پردہ
میاں! کھل چکی ہے حقیقت تمہاری
کسی ایک کے تم نہیں ہو سکو گے
بتاتی ہے مجھ کو یہ حسرت تمہاری
یہاں سے کہیں اور تم چل پڑو گے
جہاں آج کل ٹھہری رغبت تمہاری
کہوں کیوں نہ ہر گام الحمد للہ!
جو اتری ہے سر سے مصیبت تمہاری




