بلاگبلاگ / کالمز

حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و جاں سے کرتے ہیں تا کہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکیں۔ اگر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ مہینے کے آخر میں تنخواہ مل جائے گی لیکن ایک مزدور کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ شام کو گھر جاتے وقت اس کی جیب میں کچھ ہو گا یا نہیں۔ اس کی زندگی میں رنج و الم زیادہ اور خوشیاں کم ہوتی ہیں۔ اس ایک حقیقت کو سمجھے بغیر ہم مزدور کی زندگی کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ مہنگائی کے اس دور میں مزدور طبقہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ جب آٹے کی قیمت بڑھتی ہے، بجلی کا بل آتا ہے تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے، جو کماتا ہے وہ اسی دن ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک اور مسئلہ ہے جس پر کم بات ہوتی ہے مزدور طبقے کو اجرت نہایت ہی کم دی جاتی ہے۔ کبھی پیسے نہیں ملتے، کبھی کہا جاتا ہے تم کل آ جانا اور کبھی اگلے مہینے آ جانا لیکن اسے وقت پر اجرت نہیں ملتی۔ وہ مجبور ہوتا ہے اور چپ چاپ سب سہہ جاتا ہے کیوں کہ اگر وہ بحث کرے گا تو اگلی بار اسے کام نہیں ملے گا۔ اس کے پاس لڑنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ریاستی نظام کی بات کریں تو مزدور کے لیے بہت سے قوانین موجود ہیں کم از کم اجرت، اوقات کار، اصول وغیرہ مگر یہ سب وہاں لاگو ہوتے ہیں جہاں نوکری مستقل ہو۔ دیہاڑی دار مزدور اس دائرے سے باہر ہے۔ وہ ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں اس کا درد بانٹنے والا کوئی نہیں۔ خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں، تشدد کا سامنا بھی کرتی ہیں، کھیتوں میں مزدوری بھی کرتی ہیں۔ اپنے بچوں کی خاطر مشکل سے مشکل کام انہیں کرنا پڑتا ہے اور گھر آ کر ان کی ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی کیوں کہ انہوں نے کام کے ساتھ ساتھ گھر کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے مزدور کو کبھی انسان مانا ہی نہیں۔ ہمیں بس کام چاہیے لیکن اس کی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم نے کبھی بھی اس کے حال پر رحم نہیں کیا۔ یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں معاشرے کا بھی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں تسلیم نہیں کریں گے کہ مزدور بھی اسی عزت کا حق دار ہے جو کسی دفتر میں بیٹھے شخص کو حاصل ہے تب تک کچھ نہیں بدل سکتا۔ کم از کم اتنا تو ہو سکتا ہے کہ مزدور کے لیے کام کا کوئی باقاعدہ نظام بنایا جائے۔ اس کے لیے بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے جیسے صحت، تعلیم اور اتنی آمدن ہو کہ وہ سکون سے زندگی بسر کر سکے۔ اس بارے میں تب سوچا جائے گا جب ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہوں گے۔ کیوں کہ ایک تھکا ہوا آدمی زیادہ دیر تک بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور جب وہ ہار جاتا ہے تو بعض اوقات اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x