غزل
غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

غزل
روز ملتے ہیں نئے اشجار سے
بے گھروں کو کیا در و دیوار سے
روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں
یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے
دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن
خون مٹتا ہی نہیں تلوار سے
کچھ درندے ہیں اسی کے منتظر
آ رہا ہے جو سمندر پار سے
پھر بنا اور پہلے سے بہتر بنا
شہرِ غم ، مٹتے ہوئے آثار سے
خواب میں دیکھا تھا جو پتھر کبھی
آج لایا ہوں اسے بازار سے
وہ سمجھتے ہیں جو میرے دل میں ہے
کچھ نہیں کہنا مجھے سرکار سے




