انٹرویو: نیلما ناہید درانی (ایس ایس پی ریٹائرڈ، ادیبہ و شاعرہ)/ انٹرویوور: سیدہ عطرت بتول نقوی

تعارف
نیلما ناہید درانی پاکستان کی ایک ممتاز ادیبہ، شاعرہ، سفرنامہ نگار اور سابق پولیس افسر ہیں۔ آپ نے پاکستان پولیس سروس (PSP) میں بطور انسپکٹر شمولیت اختیار کی اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کی بدولت ایس ایس پی (SSP) کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔
ادبی سفر اور خدمات:
- اصنافِ سخن: آپ نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں افسانہ نگاری، شاعری، کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
- زبان و بیان: فارسی اور پنجابی میں ایم اے کرنے کے باعث آپ کی تحریروں میں کلاسیکی گہرائی اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔
- مشہور تصانیف: آپ کی شعری مجموعوں میں ’جب تک آنکھیں زندہ ہیں‘ اور ’اداس لوگوں سے پیار کرنا‘ جبکہ پنجابی شاعری میں ’دکھ سبھا ایہ جگ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کے سفرناموں، بالخصوص ’چاند چاندنی چنڈی گڑھ‘ اور ’بلجیم میں بیس دن‘ کو قارئین میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
- میڈیا اور فن: آپ نے پی ٹی وی پر بطور اناؤنسر اور ریڈیو پاکستان میں مختلف ادبی و ثقافتی پروگراموں کی میزبانی کے ذریعے اپنی آواز اور شخصیت کا سحر جگایا۔
انٹرویو
سوال 1: آپ نے افسانہ نگاری، شاعری اور سفرنامہ نگاری تینوں میدانوں میں طبع آزمائی کی۔ آپ کے دل کے سب سے قریب کون سی صنف ہے اور کیوں؟
جواب: میں نے جب لکھنے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے کہانی لکھی تھی۔۔۔ جب میں نے لکھنا نہیں سیکھا تھا اس وقت میں زبانی خود سے کہانیاں بنا کر اپنے ساتھیوں کو سنایا کرتی تھی۔ پانچویں جماعت میں ہی میری پہلی کہانی ماہنامہ "ہدایت” میں چھپی تھی، جس کے ایڈیٹر جناب نظر زیدی تھے۔ نظم چھٹی کلاس میں لکھی؛ اسکول کے ساتھ لاہور عجائب گھر جانے کا پروگرام تھا جو شدید بارش کے باعث نہ ہو سکا، پہلی نظم اسی بارش پر لکھی۔
پہلی نظم جو اپنے پہلے مشاعرے میں پڑھی وہ جنگ ستمبر 1965 کے بارے میں تھی۔ ریڈیو پاکستان لاہور میں بچوں کا ایک مشاعرہ ہوا تھا جس کی صدارت صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے کی تھی اور پروگرام کے پروڈیوسر بشیر زیدی اسیر تھے۔ اس کا مطلع تھا:
> آدھی رات کے سائے تھے دھرتی سے جب آگ اٹھی
> سوئی ہوئی تھی شیر کی نیند قوم ہماری جاگ اٹھی
>
کالم نگاری لاہور کالج سے شروع کی تھی، ہفت روزہ "قندیل” سے آغاز ہوا تھا جو نوائے وقت گروپ کا ایک رسالہ تھا۔ پہلا سفرنامہ انڈیا کا لکھا، "چاند چاندنی چنڈی گڑھ” 2004 میں۔ مجھے تو اپنی تمام تحریریں اچھی لگتی ہیں۔ کبھی پروگرام بنا کر نہیں لکھا؛ جب کہانی اترتی ہے تو کہانی لکھ لیتی ہوں، جب غزل یا نظم کی آمد ہوتی ہے تو وہ کہہ لیتی ہوں۔ کوئی کام پہلے سے پروگرام بنا کر نہیں کرتی، الفاظ خود ہی اپنا راستہ چن لیتے ہیں کہ خیالات کو کس روپ میں ڈھالنا ہے۔
سوال 2: آپ کی شاعری کی کتابیں جیسے ’جب تک آنکھیں زندہ ہیں‘ اور ’اداس لوگوں سے پیار کرنا‘ گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔ آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے—احساس کی ترجمانی یا معاشرے کی عکاسی؟
جواب: شاعری شاعر پر وارد ہوتی ہے۔ شاعری الہامی کیفیت ہے، اس کے علاوہ ارد گرد کے حالات، انسان کی ذہنی، جذباتی، داخلی اور خارجی کیفیات بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ شاعر معاشرے کا حصہ ہے اور عام لوگوں سے زیادہ حساس ہوتا ہے، اس لیے معاشرے اور عالمی سطح پر ہونے والے واقعات ان پر اثر انداز ہوتے ہیں جن کا اظہار شاعری میں بھی ہوتا ہے۔
سوال 3: آپ نے فارسی اور پنجابی میں ایم اے کیا۔ کیا ان زبانوں کے مطالعے نے آپ کی تخلیقی صلاحیتوں پر کوئی خاص اثر ڈالا؟
جواب: فارسی اور پنجابی دونوں زبانوں نے مجھے ثروت مند کیا ہے۔ میں نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے اور فارسی شعرا کے کلام کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ پنجابی ادب اور شاعری صوفیا کے کلام سے بھرپور ہے۔ بچپن سے ہی بلھے شاہ، شاہ حسین، بابا فرید، خواجہ فرید، میاں محمد بخش اور سلطان باہو کا کلام سنا اور پڑھا تھا، اس لیے پنجابی میں لکھنا بھی شروع کیا۔ شاعری، کہانیاں اور سفرنامے پنجابی میں بھی لکھے ہیں۔ پنجابی میں کالم نگاری بھی کی جو روزنامہ "خبراں” میں چھپتے تھے۔
* پنجابی شاعری کی کتابیں: "دکھ سبھا ایہ جگ”، "چانن کتھے ہویا”۔
* سفرنامے: "چڑھدے سورج دی دھرتی”، "چاند چاندنی چنڈی گڑھ”۔
سوال 4: محکمۂ پولیس میں بطور انسپکٹر فرائض انجام دینا اور ساتھ ہی ادب سے وابستہ رہنا—یہ توازن آپ نے کیسے قائم رکھا؟
جواب: پنجاب پولیس میں بطور انسپکٹر جوائن کر کے پاکستان پولیس (PSP) سے بطور ایس ایس پی ریٹائر ہوئی ہوں۔ مجھے محکمے کی طرف سے لکھنے کی خصوصی اجازت ملی ہوئی تھی، اس لیے میں شاعری بھی کرتی رہی، کالم بھی لکھتی رہی اور کتابیں بھی چھپتی رہیں۔ انسان اپنی مصروفیات جیسے چاہے ڈھال سکتا ہے۔ میں نے کام، گھر، بچے، والدین اور تخلیق سب کو وقت دیا اور اسی میں مگن رہی۔
سوال 5: پی ٹی وی پر اناؤنسر کے طور پر کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟ کیا اس تجربے نے آپ کی شخصیت اور اظہار کو مزید نکھارا؟
جواب: میں نے پی ٹی وی پر اناؤنسمنٹ کی اور خبریں بھی پڑھیں۔ ریڈیو پاکستان میں "اردو بنگلہ بول چال” پروگرام سے آغاز کیا۔ ایف ایم 101 میں "غزل ٹائم” کی کمپیئرنگ کی اور ادبی پروگرام "تخلیق” کی میزبانی کی۔ رائل ٹی وی سے "ستاروں کے ساتھ” پروگرام کی میزبانی بھی کی۔ انسان ساری زندگی سیکھتا ہے؛ میرا سیکھنے کا عمل جاری ہے اور میں ہر ہر پل سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔
سوال 6: آپ کے سفرنامے، خصوصاً ’بلجیم میں بیس دن‘ اور ’چاند چاندنی، تیز ہواؤں کا شہر‘، قارئین میں مقبول ہیں۔ سفر آپ کے لیے محض مشاہدہ ہے یا خود شناسی کا ذریعہ؟
جواب: مجھے سفر کرنا اچھا لگتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات کو دیکھوں اور اللہ کا مجھ پر کرم ہے کہ اس نے مجھے سفر کے بہت مواقع دیے۔ میں نے افریقہ، ایشیا اور یورپ کے سفر کیے، کئی ملکوں میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ اب بھی برطانیہ میں رہائش پذیر ہوں۔ اللہ کی بنائی مخلوق کو دیکھنا اور اس کے ذرے ذرے کا مشاہدہ کرنا انسان کو دنیا کی قدامت اور اس کی دلفریبی کے ساتھ ساتھ بے ثباتی کو بھی یاد دلاتا ہے۔ انسان دنیا میں گم نہیں ہوتا بلکہ اپنے خالق سے نزدیک تر ہو جاتا ہے۔ "زیستم” ان مضامین کا مجموعہ ہے جو میں گاہے بگاہے لکھتی رہتی تھی، انہیں اکٹھا کر کے چھاپنے کا سہرا پروفیسر ظفر اقبال کے سر ہے جو "پیش فار پریس” کے روح رواں ہیں۔
سوال 7: ایک خاتون ادیبہ اور پولیس افسر ہونے کے ناطے آپ کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: پاکستانی معاشرے میں عورت کا پیدا ہونا ہی ایک چیلنج ہے۔ مجھے تو زندگی کے ہر موڑ پر تنقید کا سامنا رہا، مگر عرفی کا ایک شعر ہمیشہ یاد رہا:
> عرفی تو میاندیش زغوغائے رقیباں
> آواز سگاں کم نکند رزق گدا را
>
سوال 8: آپ کو ملنے والے اعزازات میں کون سا اعزاز آپ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور کیوں؟
جواب: وزیر اعظم پاکستان سے بھی گولڈ میڈل ملا، گورنر پنجاب سے بھی گولڈ میڈل ملا۔۔۔ لیکن میرا سب سے بڑا اعزاز میرے قاری، میرا خاندان اور لاہور کی ادبی فضائیں ہیں جن سے میں محبت کرتی ہوں۔
سوال 9: موجودہ دور کے نوجوان لکھنے والوں کو آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گی؟
جواب: حضرت علی علیہ السلام کا قول مبارک ہے کہ: "اپنے بچوں کو اپنے جیسی تعلیم مت دو کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے”۔ نئے لکھاری ماشاء اللہ بہت پڑھے لکھے اور ذہین ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
سوال 10: آپ کے نزدیک ادب کا معاشرے کی اصلاح میں کیا کردار ہوسکتا ہے؟
جواب: منیر نیازی صاحب نے کہا تھا: "جس معاشرے میں تخلیق نہیں ہوتی وہاں تخریب ہوتی ہے”۔ معاشرے کی آبیاری کے لیے تخلیق کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
سوال 11: وطن سے دور جس معاشرے میں رہ رہی ہیں وہاں کے ماحول کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: منافقتوں سے پاک، چغلیوں بخیلیوں سے مبرا، اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ، پرسکون اور صاف ستھرے ماحول میں رہتے ہیں۔ اگر صفائی نصف ایمان ہے تو وہ یہاں ہے۔ کسی کو کوئی جلدی نہیں، اپنی باری کا صبر و تحمل سے انتظار کرتے ہیں۔ "شکریہ” اور "معذرت” گویا سب کا تکیہ کلام ہے۔
سوال 12: وہاں ادبی سرگرمیوں کے متعلق بتائیے؟
جواب: یہاں بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے اپنے اپنے شہروں میں ادبی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں، جس کے تحت وہ مشاعرے کرواتے رہتے ہیں۔ لندن، مانچسٹر، برمنگھم، نوٹنگھم اور بریڈ فورڈ میں کئی ادبی تنظیمیں موجود ہیں۔




